
تصویر: Lazhar Neftien from Toulouse, France · CC BY 2.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2009
مسجد امیہ
مقامی نام: جامع بني أمية الكبير
قدیم شہر دمشق کی جامع اموی دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے اور اسے اپنی اصل شکل میں اب بھی زیرِ استعمال قدیم ترین مسجد سمجھا جاتا ہے۔ خلیفہ ولید اول نے 706 سے ایک بازنطینی کیتھیڈرل کی جگہ پر اسے تعمیر کروایا، جو خود ایک رومی مشتری (جوپیٹر) مندر کے احاطے میں واقع تھا۔ قدیم شہر دمشق کے حصے کے طور پر یہ 1979 سے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔
تاریخ
یہ مقام آہنی دور سے عبادت گاہ رہا ہے۔ آرامیوں نے یہاں طوفان کے دیوتا حدد-رمان کا مندر بنایا؛ بادشاہ حزائیل کے دور کا ایک پتھر دمشق کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ سلوقیوں کے دور میں یہ معبد غالباً زیوس سے منسوب تھا، اور 64 قبل مسیح میں رومی فتح کے بعد جوپیٹر سے، اور یہ رومی شام کا سب سے بڑا مندر بن گیا۔ 391 میں شہنشاہ تھیوڈوسیس اول نے اسے کیتھیڈرل میں تبدیل کر دیا، جو دمشق کے اسقف کا مرکز تھا۔
مسلم فتح کے بعد (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 634، جرمن کے مطابق 636) عمارت کے جنوب مشرقی حصے میں مسلمانوں کے لیے نماز کی جگہ بنائی گئی۔ 706 میں ولید اول نے ایک جامع مسجد بنانے کا فیصلہ کیا، گرجا کا زیادہ تر حصہ منہدم کیا اور معاوضے کے طور پر ضبط شدہ دیگر گرجا گھر مسیحیوں کو واپس کر دیے۔ تکمیل کو 711 یا 715 کا بتایا جاتا ہے، مؤخر الذکر ان کے جانشین سلیمان کے دور میں۔ ابن الفقیہ کے مطابق اس پر 600,000 سے 1,000,000 سونے کے دینار خرچ ہوئے اور تقریباً 12,000 افراد نے اس پر کام کیا۔
1069، 1401 (تیمور کے دور میں، جب مرکزی گنبد گر گیا) اور 1893 کی آتش زدگیوں نے، 1759 کے زلزلوں کے ساتھ، بار بار ازسرِنو تعمیر پر مجبور کیا؛ مملوک، خاص طور پر 1270 سے بیبرس، بحالی میں خاص طور پر سرگرم رہے۔ 1893 کے بعد عثمانیوں نے نو سال تک نماز کے ہال کی ازسرِنو تعمیر کی، جس میں نقشہ بڑی حد تک برقرار رکھا گیا لیکن اصل آرائش دوبارہ نہیں بنائی گئی۔[1][2]
فنِ تعمیر
مستطیل احاطہ تقریباً 97 × 156 میٹر ہے (جرمن ویکیپیڈیا میں 157 × 97)؛ اس کی بیرونی دیواریں رومی مندر کے احاطے کی دیواریں ہیں۔ صحن شمال میں ہے، اور 136 × 37 میٹر کا نماز کا ہال جنوب میں، جس میں کورنتھی ستونوں پر قبلہ کی دیوار کے متوازی تین راہداریاں ہیں، جنہیں ایک بلند تر مرکزی عرضی راہداری کاٹتی ہے۔ اس کے اوپر قبۃ النسر (عقاب کا گنبد) بلند ہے، جو 1893 کے بعد پتھر سے دوبارہ بنایا گیا؛ اس کی بلندی 36 میٹر (انگریزی مضمون) یا 45 میٹر سے زیادہ (جرمن اور عربی) بتائی گئی ہے۔
سنہری موزیک کبھی تقریباً 4,000 مربع میٹر پر محیط تھے، جن میں مناظرِ فطرت اور عمارتیں دکھائی گئی تھیں لیکن کوئی انسانی یا حیوانی شکل نہیں تھی؛ سب سے بہتر محفوظ باقیات صحن میں ہیں۔ تین مینار ہیں: شمالی دیوار پر مئذنۃ العروس (دلہن کا مینار) (نچلا حصہ غالباً نویں صدی کا، بالائی حصہ 1174 کا)، جنوب مشرق میں تقریباً 77 میٹر بلند مئذنۃ عیسیٰ (مرکزی حصہ 1247 کا، بالائی حصہ عثمانی) اور جنوب مغرب میں 1488 کا ہشت پہلو مئذنۃ قایتبائی۔[1][2][3]
استعمال اور اہمیت
یہ مقام آرامی، یونانی اور رومی عبادات کے لیے، پھر ایک مسیحی کیتھیڈرل کے طور پر، اور آٹھویں صدی سے شہر کی سنی جامع مسجد کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ علم کا مرکز بھی تھا: ابن تیمیہ نے 1285 سے یہاں درس دیا، اور ماہرِ فلکیات ابن الشاطر 1332 سے 1376 تک یہاں وقت کے نگران (موقت) اور رئیس المؤذنین رہے۔ عثمانیوں کے دور میں اس کا وقف، 596 ملازمین کے ساتھ، شہر کا سب سے بڑا وقف تھا، اور اس کے خطیب دمشق کے بااثر ترین عہدیداروں میں سے تھے۔
مسیحی اور مسلم دونوں روایات، جو چھٹی صدی تک جاتی ہیں، یہاں حضرت یحییٰ (یوحنا بپتسمہ دینے والے) کا سر بتاتی ہیں؛ نماز کے ہال میں ایک مزار کی دونوں تعظیم کرتے ہیں۔ 6 مئی 2001 کو پوپ جان پال دوم نے وہاں دعا کی، جو کسی مسجد کا پہلا پاپائی دورہ تھا۔ دو مزارات نواسۂ رسول حسین بن علی کی یاد میں ہیں؛ جرمن مضمون کے مطابق وہ مزار جس میں ان کا سر ہونے کی روایت ہے، شیعہ زیارت کا ایک اہم مقام ہے۔ اسلامی روایت مئذنۃ عیسیٰ کو آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ کے نزول سے جوڑتی ہے۔
سیاسی طور پر یہ مسجد بار بار اجتماع کا مرکز بنی، 1148 میں صلیبیوں کے خلاف اور 15 مارچ 2011 کو شام میں عرب بہار کے پہلے نمایاں مظاہروں کے لیے۔[1][2]
نمایاں خصوصیات
تین راہداریوں اور ایک عرضی راہداری کے اس کے نقشے نے شام سے بہت دور تک مساجد کو متاثر کیا، جن میں قرطبہ اور قاہرہ کی جامعہ ازہر شامل ہیں۔ 2022 کے ایک مطالعے سے یہ نتیجہ نکلا کہ موزیک کے زیادہ تر ٹکڑے مصر میں بنائے گئے تھے؛ یہ بحث جاری ہے کہ تصاویر جنت، دمشق یا معلوم دنیا کو ظاہر کرتی ہیں۔[1]
زمانی خاکہ
- 391
تھیوڈوسیس اول جوپیٹر مندر کو کیتھیڈرل میں تبدیل کرتے ہیں۔[1][3]
- 634 (یا 636)
دمشق کی مسلم فتح؛ کیتھیڈرل کے جنوب مشرقی حصے میں مسلمانوں کے لیے نماز کی جگہ بنائی جاتی ہے۔[1][2][3]
- 706–711/715
ولید اول کے دور میں جامع مسجد کی تعمیر؛ 711 یا 715 میں تکمیل۔[1][3]
- 1069
فاطمی محافظ دستے کے خلاف ایک بغاوت کے دوران آگ بڑے حصوں کو، خاص طور پر شمالی دیوار کو، تباہ کر دیتی ہے۔[1][3]
- 1401
تیمور شہر کو جلوا دیتا ہے؛ مشرقی مینار اور مرکزی گنبد گر جاتے ہیں۔[1][3]
- 1488
- 1893
آگ نماز کے ہال کے اندرونی حصے کو تباہ کر دیتی ہے؛ اس کے بعد نو سالہ عثمانی ازسرِنو تعمیر۔[1][3]
- 2001
پوپ جان پال دوم حضرت یحییٰ کے مزار کا دورہ کرتے ہیں، جو کسی مسجد کا پہلا پاپائی دورہ ہے۔[1][2][3]
گیلری
دستاویزی حالت
محفوظ · 2026-10-30 تک
حالت کا ماخذ: Wikipedia infobox 'active' (retrieved 2026-10-30)
مآخذ 1994 کے بعد کسی نقصان کو درج نہیں کرتے، جب حافظ الاسد کے حکم پر کی گئی تزئینِ نو مکمل ہوئی، جس کے طریقوں پر یونیسکو نے تنقید کی تھی۔ قدیم شہر دمشق مجموعی طور پر 2013 سے خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ہے۔[1][3][4]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (23)
- Wikipedia (en): Umayyad Mosque rev. 1381848245 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Umayyaden-Moschee rev. 268196143 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): الجامع الأموي (دمشق) rev. 76953549 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Damascus · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Abweichende Angaben: Eroberung 634 (en/ar) vs. 636 (de); Fertigstellung 711 oder 715 (en), Bau 708–715 (de), Baubeginn 705 (ar); Maße 156 vs. 157 m; Kuppelhöhe 36 m (en) vs. über 45 m (de/ar); römische Eroberung 64 v. Chr. (en) vs. 64 n. Chr. (ar). Zum aktuellen baulichen Zustand nach 2011 liefern die Quellen keine Angaben.