شامثقافت · ایمان · تاریخ
دمشق میں مزارِ صلاح الدین۔

دمشق میں مزارِ صلاح الدین۔ · تصویر: Jan Smith · CC BY 2.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2010

نقشے پر واپس جائیں
تاریخی فنِ تعمیرعالمی ورثہ مقام کا حصہ: قدیم شہر دمشق2013 سے خطرے سے دوچار عالمی ورثہجائزہ شدہ

مقبرہ صلاح الدین ایوبی

مقامی نام: ضريح صلاح الدين الأيوبي

اسم المكان

ضريح صلاح الدين الأيوبي

محافظة دمشق – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى ضريح صلاح الدين الأيوبي في محافظة دمشق. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

33.51211, 36.30593

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

مزارِ صلاح الدین ایوبی سلطان صلاح الدین کی آخری آرام گاہ ہے، جو قدیم شہر دمشق میں جامع اموی کے شمالی جانب واقع ہے۔ یہ گنبد دار مقبرہ 1193 میں صلاح الدین کی وفات کے کچھ ہی عرصے بعد تعمیر ہوا؛ ملحقہ مدرسہ عزیزیہ کی صرف باقیات بچی ہیں۔

تاریخ

صلاح الدین نے 4 مارچ 1193 کو دمشق میں وفات پائی اور پہلے قلعے میں دفن کیے گئے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق ان کے بیٹے الافضل نے جامع اموی کے قریب محلہ الکلاسہ میں ایک مکان خریدا اور وہاں ایک گنبد دار مقبرہ بنوایا؛ باقیات 592 ہجری (1195) میں منتقل کی گئیں۔ انگریزی ویکیپیڈیا تعمیر کا سال 1196 بتاتا ہے۔ ایک اور بیٹے العزیز عثمان نے عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 593 ہجری میں گنبد کے مشرق میں مدرسہ عزیزیہ کا اضافہ کیا، اور عمارت اس نام سے بھی جانی جاتی ہے۔

عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 1137 ہجری میں دیواروں پر نیلی ٹائلیں لگائی گئیں، اور بیسویں صدی کے اوائل میں عثمانی والی ضیا پاشا نے تباہ حال مدرسے کو باغ میں تبدیل کر دیا۔ شہنشاہ ولہلم دوم نے 1898 میں مشرق کے اپنے سفر کے دوران مقبرے کی زیارت کی اور وہاں ایک پھولوں کی چادر رکھوائی، جو پہلی عالمی جنگ کے بعد امپیریل وار میوزیم چلی گئی؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اسے فیصل اول یا ٹی ای لارنس میں سے کسی نے ہٹایا۔[1][2][3]

فنِ تعمیر

یہ مزار ایوبی دمشق کی مخصوص قسم کی ایک گنبد دار عمارت ہے۔ مربع مقبرہ خانے کی دیواریں ابلق (دو رنگی) ہیں اور اس پر چار محرابیں اور ایک دھاری دار گنبد ہے، جبکہ آٹھ اور سولہ اضلاع والا ایک دو مرحلہ ڈھول منتقلی کا کام دیتا ہے۔ قرآن خوانی کا ایک کمرہ مشرق میں اور چھوٹے کمرے شمال میں ہیں۔ مدرسے کے بارے میں عربی ویکیپیڈیا کہتا ہے کہ محراب اور مشرقی داخلی راستے کی محراب باقی ہے، انگریزی ویکیپیڈیا چند ستونوں اور ایک اندرونی محراب کا ذکر کرتا ہے۔

اندر دو تابوت رکھے ہیں۔ پرانا لکڑی کا تعویذ (عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اخروٹ کا)، جس پر ہندسی اور پھول دار نقوش اور ایوبی کتبات کندہ ہیں، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں صلاح الدین کی باقیات ہیں۔ اس کے ساتھ تقریباً 1900 کا ایک خالی سفید سنگِ مرمر کا تابوت ہے؛ جرمن اور عربی ویکیپیڈیا اسے 1898 میں ولہلم دوم کا تحفہ بتاتے ہیں، جبکہ انگریزی ویکیپیڈیا اسے سلطان عبد الحمید ثانی سے منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ولہلم دوم نے بعد میں اسے بحال کروایا۔ دیواروں پر نیلی سبز عثمانی ٹائلیں ہیں؛ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 475 × 238 سینٹی میٹر کی ٹائلوں کی تختی دمشق میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مکمل محرابی تختی ہے۔[1][2][3]

استعمال اور اہمیت

یہ مزار شام میں قرونِ وسطیٰ کے سب سے مشہور اسلامی مقبروں میں سے ہے اور انیسویں صدی کے اواخر میں یادگار کی علامتی سیاست کا مقام بن گیا۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اس کے باغ میں پانچ مزید قبریں ہیں: شامی سیاست دان عبد الرحمٰن شہبندر کی، جنہیں 1940 میں قتل کیا گیا؛ یاسین الہاشمی کی، جو دو بار عراق کے وزیرِ اعظم رہے اور 1937 میں دمشق میں فوت ہوئے؛ اور تین عثمانی ہوا بازوں کی، جو جنوری 1914 میں دمشق میں اترے تھے اور بعد میں حادثے کا شکار ہوئے۔[2][3]

زمانی خاکہ

  1. 1193

    صلاح الدین دمشق میں وفات پاتے ہیں اور پہلے قلعے میں دفن کیے جاتے ہیں۔[2][3]

  2. 1195/1196

    الافضل کے بنوائے ہوئے مزار میں منتقلی (جرمن/عربی مآخذ کے مطابق 592 ہجری = 1195؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق تعمیر 1196)۔[1][2][3]

  3. 593 ہجری

    العزیز عثمان مدرسہ عزیزیہ کا اضافہ کرتے ہیں (عربی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[3]

  4. 1898

    شہنشاہ ولہلم دوم کی زیارت؛ پھولوں کی چادر رکھی گئی، سنگِ مرمر کا تابوت عطیہ کیا گیا (جرمن/عربی مآخذ)۔[2][3]

  5. بیسویں صدی کا اوائل

    والی ضیا پاشا تباہ حال مدرسے کو باغ میں بدل دیتے ہیں۔[3]

  6. 2000 کی دہائی

    مقبرے کے گرد چوک کی بحالی (عربی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[3]

دستاویزی حالت

محفوظ · 2026-10-30 تک تاریخی طور پر دستاویزی

حالت کا ماخذ: Wikipedia (no damage reported)

عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 2000 کی دہائی میں مقبرے کے گرد چوک کو بحال کیا گیا۔ حالت کی کوئی تازہ رپورٹ دستیاب نہیں۔ مزار قدیم شہر دمشق کے اندر واقع ہے، جس کے لیے یونیسکو شہر کی فصیلوں، قلعے اور بعض مساجد اور مقبروں کو قرونِ وسطیٰ کی باقی ماندہ عمارتوں کے طور پر نامزد کرتا ہے۔[3][4]

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:

محافظہ دمشق کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • مشفى الغزاليہسپتال · 0.8 kmراستہ
  • ہسپتالہسپتال · 0.9 kmراستہ
  • المشفى السوري التخصصي لأمراض جهاز الهضمہسپتال · 1 kmراستہ
  • ہلالِ احمرہسپتال · 1 kmراستہ
  • مشفى الهلالہسپتال · 1 kmراستہ
  • مشفى العين والاذنہسپتال · 1 kmراستہ
ماخذ (12)
  1. Wikipedia (en): Mausoleum of Saladin rev. 1353602595 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Mausoleum Saladins rev. 268231625 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): ضريح صلاح الدين الأيوبي rev. 72564206 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Damascus · 2026-10-30
  5. Wikidata · CC0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  8. Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  12. OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Widersprüche: (1) Baujahr – en 1196 ('drei Jahre nach Saladins Tod'), Wikidata-Inception 1196; de/ar Überführung 592 H. = 1195. (2) Marmorsarkophag – en: von Abdülhamid II. errichtet, von Wilhelm II. restauriert; de/ar: Geschenk Wilhelms II. 1898. (3) Kranz – de: von Wilhelm II. niedergelegt, nach dem Ersten Weltkrieg ins Imperial War Museum; en: von Faisal I. oder Lawrence entfernt. (4) Fliesen – de: 17. Jh.; ar: Verkleidung 1137 H. – Datierungen nicht abgeglichen, im Text getrennt wiedergegeben. (5) Reste der Madrasa – en: Säulen und Innenbogen; ar: Mihrab und östlicher Eingangsbogen. (6) Holz-Kenotaph – en: 'soll' die Gebeine enthalten. Anekdote über General Gouraud (nur ar, ohne Beleg) nicht übernommen. Q-ID Q183562 (Umayyaden-Moschee) aus dem bestehenden Redaktionsdatensatz; Q3678596 aus Wikidata P361, Label nach UNESCO-Seite – bitte prüfen. Einschreibungsjahr der Welterbestätte nicht im Paket.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟