
دمشق کے قصر العظم میں مختلف اقسام کے پھل دار درختوں اور پودوں والا ایک باغ · تصویر: Abdullah Fetnah · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2022
عظم محل
مقامی نام: قصر العظم
العظم محل (عربی: قصر العظم) قدیم شہر دمشق میں عثمانی دور کا ایک محل ہے، جو سوق البزوریہ کے شمال میں اور جامع اموی کے قریب واقع ہے۔ والی اسعد پاشا العظم نے اسے تقریباً 1749 میں اپنی نجی رہائش گاہ کے طور پر تعمیر کروایا۔ 1950 کی دہائی سے اس میں فنون اور عوامی روایات کا عجائب گھر قائم ہے۔
تاریخ
انگریزی اور عربی ویکیپیڈیا تعمیر کو 1749 کا، جرمن 1750 کا بتاتا ہے؛ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق کئی ہالوں میں لکڑی کے کتبات پر ہجری سال 1163 درج ہے۔ بانی اسعد پاشا العظم تھے، جو دمشق کے عثمانی والی تھے اور جنہوں نے قریبی خان اسعد پاشا بھی بنوایا۔ محل ایک مملوک محل کی جگہ پر ہے؛ جرمن ویکیپیڈیا امیر تنکز (دورِ حکومت 1312–1330) کے محل کا نام لیتا ہے، اور عربی خیال ظاہر کرتا ہے کہ یہ پہلے کی عمارت 1401 میں تیمور کے حملے کے دوران تباہ ہوئی۔ مآخذ کے مطابق تقریباً 800 کارکنوں نے دو سے تین سال میں اسے تعمیر کیا۔
بانی کی وفات کے بعد ان کی اولاد محل میں رہی؛ جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم نے 1898 میں اس کا دورہ کیا۔ خاندان نے مرکزی خاندانی حصہ فرانسیسی انتدابی حکام کو 4,000 سونے کے پاؤنڈ میں فروخت کیا – انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 1920 میں، عربی کے مطابق 1922 میں۔ 1925 کی عظیم شامی بغاوت میں پرانے شہر پر فرانسیسی گولہ باری کے دوران مرکزی استقبالیہ ہال، حمام اور چھتیں جل گئیں اور دیواریں تباہ ہو گئیں۔ معمار لوسیاں کاوارو اور میشل ایکوشار نے ڈھانچوں کو ایک سادہ، کم آراستہ صورت میں دوبارہ تعمیر کیا؛ پھر فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ نے محل کو استعمال کیا۔
انسٹی ٹیوٹ 1946 میں چلا گیا۔ 1951 میں شامی حکومت نے یہ مجموعہ خریدا (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 100,000 شامی پاؤنڈ میں، عربی کے مطابق 100,010 میں) اور عجائب گھر قائم کیا، جو عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 13 ستمبر 1954 کو کھلا۔ 1960 کی دہائی کے اوائل سے 1925 میں تباہ ہونے والے خاندانی حصے کو بحال کیا گیا، جزوی طور پر اسی دور کی منہدم عمارتوں کے پتھروں سے۔ اس بحالی کو آغا خان ایوارڈ برائے فنِ تعمیر (1981–1983 کا دور) ملا۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
یہ مجموعہ تقریباً 6,400 مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے روایتی دمشقی گھر کی ایک مثال قرار دیا جاتا ہے۔ یہ حرملک (خاندانی حصہ)، جس میں نجی رہائش اور ایک چھوٹا حمام ہے، سلاملک (مہمان خانہ)، جس میں استقبالیہ ہال اور ایک صحن ہے، اور شمال میں ملازمین، باورچی خانے اور گوداموں کے حصے میں تقسیم ہے۔ جرمن ویکیپیڈیا دونوں حصوں میں 16 استقبالیہ ہال اور ایوان شمار کرتا ہے۔
چونے کا پتھر، ریتلا پتھر، بیسالٹ اور سنگِ مرمر استعمال کیے گئے۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ اینڈریو پیٹرسن سفید چونے کے پتھر اور سیاہ بیسالٹ کی باری باری آنے والی تہوں (ابلق) کو دمشق کی یادگاری سنگ کاری کی خصوصیت قرار دیتے ہیں۔ لکڑی کی چھتیں رنگین ہیں اور بہت سے کمروں میں سنگِ مرمر کے حوض ہیں۔ صرف داخلی دروازہ بھرپور طور پر آراستہ ہے، اگلے حصے نہیں۔[1][2][3]
استعمال اور اہمیت
فنون اور عوامی روایات کا عجائب گھر روزمرہ زندگی کے دوبارہ بنائے گئے مناظر، ملبوسات، موسیقی کے آلات، ہتھیار اور شیشے، تانبے اور کپڑے جیسی دستکاریاں دکھاتا ہے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 2011 میں نئے نمائشی ہال کھلے، جن میں سے ایک عجائب گھر کے پہلے ڈائریکٹر شفیق امام کے نام سے موسوم ہے۔ یونیسکو اس محل کو ان یادگاروں میں شمار کرتا ہے جن پر قدیم شہر دمشق کی عالمی ورثے کی حیثیت قائم ہے۔[1][2][3][4]
زمانی خاکہ
- 1749/1750
والی اسعد پاشا العظم کی رہائش گاہ کے طور پر تعمیر (تاریخ ماخذ کے لحاظ سے مختلف)۔[1][2][3]
- 1898
شہنشاہ ولہلم دوم کا دورہ۔[1]
- 1920/1922
- 1925
پرانے شہر پر فرانسیسی گولہ باری کے دوران آگ سے شدید نقصان۔[1][3]
- 1951
- 13 ستمبر 1954
فنون اور عوامی روایات کے عجائب گھر کا افتتاح۔[3]
- 1983
- 2011
نئے نمائشی ہالوں کا افتتاح۔[3]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2011 تک
مآخذ میں عمارت کی حالت کے بارے میں کوئی تازہ تاریخ وار بیان نہیں؛ آخری دستاویزی واقعہ 2011 میں نئے ہالوں کا افتتاح ہے۔ 2013 میں یونیسکو نے شام کے عالمی ورثے کے مقامات کو، جن میں قدیم شہر دمشق بھی شامل ہے، خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ڈال دیا۔[3][4]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (16)
- Wikipedia (en): Al-Azm Palace rev. 1344022449 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Azim-Palast rev. 188957180 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): قصر العظم rev. 76522045 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Damascus · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Baujahr 1749 (en/ar, Wikidata P571) vs. 1750 (de); Inschriften 1163 AH. Verkauf an Frankreich 1920 (en) vs. 1922 (ar). Kaufpreis 1951: 100.000 (en) vs. 100.010 (ar) syr. Pfund. Aga-Khan-Preis 1983 (en) bzw. Zyklus 1981–1983 (ar). 1946: en sagt Rückgabe an die Familie Azm, ar Übergabe an die syrische Regierung bei Weiterbewohnung des Gästetrakts durch die Familie – offen. Die ar-Angabe, der Palast liege auf einem Teil des Jupitertempels, wurde nicht übernommen (nur eine Quelle). Der Museumsabschnitt der ar-Wikipedia beschreibt ein Dokumentenzentrum mit fünf Millionen Dokumenten, das vermutlich eine andere Einrichtung betrifft; nicht übernommen. Kein datierter aktueller Zustand für das Gebäude.