
دمشق میں جوپیٹر کا مندر · تصویر: Ai@ce · CC BY 2.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2008
جوپٹر کا مندر، دمشق
مقامی نام: معبد جوبيتر الدمشقي
دمشق کا مشتری (جوپیٹر) مندر آج کے قدیم شہر کے شمال میں جوپیٹر کا رومی معبد تھا، جو حدد اور زیوس کے پہلے کے معبدوں سے ارتقا پذیر ہوا۔ قدیم دور کے اواخر میں یہ حضرت یحییٰ (یوحنا بپتسمہ دینے والے) کا گرجا بنا، اور آٹھویں صدی میں اس کے اندرونی احاطے میں جامع اموی تعمیر کی گئی۔ پرانے شہر میں دروازوں، ستون دار راستوں اور دیواروں کی باقیات موجود ہیں۔
تاریخ
آہنی دور میں دمشق آرامی ریاست ارام دمشق کا دارالحکومت تھا، جس کے لوگ طوفان کے دیوتا حدد-رمان کی پرستش کرتے تھے۔ انگریزی اور عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اس کا مندر موجودہ جامع اموی کی جگہ پر تھا؛ جرمن ویکیپیڈیا اس کی شکل اور مقام دونوں کو نامعلوم سمجھتا ہے۔ ایک پتھر باقی ہے: مصری طرز کے ابوالہول والا ایک بلاک جو مسجد میں دوبارہ استعمال ہوا (جرمن ویکیپیڈیا)، یا بادشاہ حزائیل کے دور کا ایک پتھر جو اب دمشق کے قومی عجائب گھر میں ہے (انگریزی اور عربی ویکیپیڈیا)۔ سلوقی دور میں حدد کو زیوس کے ساتھ یکساں سمجھا گیا؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق انطیوخس چہارم کے دور میں معبد کو زیوس کے مندر کے طور پر ازسرِنو ترقی دی گئی۔
64 قبل مسیح میں رومی فتح کے بعد یہ پرستش جوپیٹر کو منتقل ہو گئی۔ آگسٹس کا ایک تعمیری کتبہ توسیع کے آغاز کی تاریخ بتاتا ہے؛ اندرونی صحن (تیمینوس) 14 عیسوی کے کچھ ہی بعد اور بیرونی صحن (پیریبولوس) پہلی صدی کے وسط تک مکمل ہوا۔ سپتیمیوس سیویروس (193–211) کے دور میں مندر کی تجدید ہوئی۔ عالم مامون عبد الکریم اس کے ڈیزائن کو دمشق میں پیدا ہونے والے معمار اپولودورس سے منسوب کرتے ہیں۔ ایک کتبہ شہنشاہ جولیان (361–363) کے دورے کی گواہی دیتا ہے۔
بت پرستوں پر سختیوں کے دوران تھیوڈوسیس اول نے مندر کو حضرت یحییٰ کے گرجا میں تبدیل کر دیا؛ جرمن ویکیپیڈیا انہدام اور کچھ حصوں کی تبدیلی کی بات کرتا ہے۔ مسلم فتح کے بعد (جرمن ویکیپیڈیا: 634؛ انگریزی اور عربی: 635) گرجا کچھ عرصے تک استعمال میں رہا؛ خلیفہ ولید اول نے 706 میں جامع اموی کا حکم دیا، جو پرانے تیمینوس کے جنوبی حصے میں تعمیر کی گئی۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
یہ مجموعہ دو فصیل بند احاطوں پر مشتمل تھا: ایک بیرونی پیریبولوس، جس میں ایک بازار بھی تھا، اور اندرونی تیمینوس جس کے مرکز میں معبد خانہ (سیلا) اور پرستش کا بت تھا۔ سامی روایت میں رسومات کے لیے تیمینوس کے چاروں کونوں پر برج تھے۔ مرکزی داخلہ مشرق میں تھا، جہاں بازار (اگورا) سے ایک ستون دار گلی آتی تھی۔ جرمن ویکیپیڈیا پیریبولوس کے لیے 380 × 310 میٹر اور اندرونی صحن کے لیے 56 × 97 میٹر بتاتا ہے؛ وولزنگر اور واٹزنگر نے 1921 میں پیریبولوس کی پیمائش تقریباً 350 × 450 میٹر کی۔ چوتھی صدی تک یہ رومی شام کا سب سے بڑا مندر تھا۔[1][2][3]
تحقیق
رچرڈ پوکوک نے 1745 میں احاطے کا ایک نقشہ شائع کیا، اور جوسیاس پورٹر نے 1855 میں ایک نقشہ شائع کیا جس میں مکانات کے درمیان باقی 40 ستون یا ستونوں کے ٹکڑے دکھائے گئے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 2006 سے مسجد کے جنوبی دروازے کے سامنے مندر کی باقیات دریافت ہو رہی ہیں۔ یونیسکو جوپیٹر مندر کی وسیع باقیات کو عالمی ورثے “قدیم شہر دمشق” میں نظر آنے والے قدیم ترین رومی شواہد میں شمار کرتا ہے۔[1][3][4]
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2026 تک
تیمینوس کی دیواروں کے کچھ حصے اب مسجد کی بیرونی دیواریں ہیں۔ بیرونی احاطے کے تین داخلی راستوں کی باقیات موجود ہیں، جن میں سوق الحمیدیہ اور مسجد کے درمیان مغربی دروازہ شامل ہے، جس کے ساتھ ایک ستون دار راستے کے اچھی طرح محفوظ حصے ہیں؛ مشرق کی طرف یہ محور محلہ القیمریہ میں جاری رہتا ہے۔ مزید ٹکڑے ارد گرد کے مکانات، دکانوں اور خانوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ حالت کی کوئی تاریخ وار رپورٹ موجود نہیں۔[1][2][3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (11)
- Wikipedia (en): Temple of Jupiter, Damascus rev. 1364720939 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Jupitertempel in Damaskus rev. 270496236 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): معبد جوبيتر الدمشقي rev. 71908625 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Damascus · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Widersprüche: (1) Aramäischer Tempel – en/ar am Ort der Moschee, de Lage unbekannt. (2) Erhaltener Stein – en/ar: Stein aus der Zeit Hasaels im Nationalmuseum Damaskus; de: Sphinx-Block in der Moschee wiederverwendet; ob identisch, unklar. (3) Maße – de Peribolos 380 × 310 m, Innenhof 56 × 97 m; en/ar nach Wulzinger/Watzinger 1921 ca. 350 × 450 m. (4) Eroberung – de 634, en/ar 635. (5) Theodosius I. – en Umwandlung, de Abriss und Umbau von Teilen. (6) Bauzeit – en/ar 'bis Constantius II.', ohne Belegdetail, nicht übernommen. (7) Apollodor – en als Zuschreibung durch Abdulkarim, ar als Tatsache; als Zuschreibung wiedergegeben. Angaben zu Kosten/Arbeitern des Moscheebaus (de, nach Ibn al-Faqih) betreffen die Moschee und wurden nicht übernommen. Umwandlung unter Theodosius I. ohne Jahresangabe im Paket, daher nicht in der Timeline. Q183562 aus bestehendem Redaktionsdatensatz; Q3678596 nach Wikidata P361.