
سیدہ رقیہ مسجد کا مینار، دمشق، شام · تصویر: Bernard Gagnon · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2010
سیدہ رقیہ مسجد
مقامی نام: مقام رقية بنت الحسين
سیدہ رقیہ مسجد وسطی دمشق کے محلہ العمارہ میں ایک شیعہ مسجد اور مزار کا مجموعہ ہے۔ اس میں امام حسین کی کم سن بیٹی رقیہ بنت حسین کی قبر ہے، اور یہ شیعہ اسلام میں ایک مقدس مقام ہے۔ موجودہ عمارت، جدید ایرانی طرز میں، تقریباً 1980–1985 میں ایک پرانے مقبرے کے گرد تعمیر کی گئی۔
تاریخ
شیعہ روایت کے مطابق رقیہ حسین کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں، عربی ویکیپیڈیا کے مطابق ان کی اہلیہ ام اسحاق سے۔ انہوں نے 680 میں کربلا کی جنگ دیکھی اور پھر انہیں قیدی خواتین اور بچوں کے ساتھ دمشق میں یزید کے پاس لے جایا گیا، جہاں انہیں اس کے محل کے قریب ایک کھنڈر میں ٹھہرایا گیا۔ جب بچی رات کو جاگ کر اپنے والد کے لیے روئی تو یزید نے ان کا سر اس کے پاس بھجوایا؛ وہ جلد ہی، عربی مضمون کے مطابق 7 صفر 61 ہجری کو، تین یا چار سال کی عمر میں وفات پا گئیں اور اسی جگہ دفن کی گئیں۔ انگریزی ویکیپیڈیا ایک روایت بیان کرتا ہے کہ ان کی قبر میں پانی بھر جانے کے بعد ان کا جسد بعد میں موجودہ مقام پر منتقل کیا گیا۔
عربی ویکیپیڈیا قبر پر پہلی عمارت کو 526 ہجری میں ایک ایوبی سلطان سے منسوب کرتا ہے، جس کے بعد 768 ہجری میں ایک چھوٹا گنبد بنا۔ تزئینِ نو 1280 ہجری (اسی مضمون میں ایک اور جگہ 1125 ہجری) اور 1323 ہجری میں درج ہے، مؤخر الذکر ایران کے صدرِ اعظم علی اصغر خان کے ہاتھوں۔ 1399 ہجری (1980) سے یہ مزار، جو اس وقت تک 60 مربع میٹر سے بڑا نہیں تھا، کئی سالوں میں تقریباً 4,000 مربع میٹر کے ایک مجموعے میں وسیع کیا گیا؛ انگریزی ویکیپیڈیا مزار کے گرد مسجد کی تعمیر کو 1985 کا بتاتا ہے۔[1][2]
فنِ تعمیر
نئی عمارت فارسی اثر والے طرز کی پیروی کرتی ہے جس میں نمایاں تناسب، آئینہ کاری اور طلائی کام کی کثرت اور کاشی کاری ہے، جبکہ صحن، محرابی برآمدوں اور آرائش جیسے اسلامی فنِ تعمیر کے عناصر برقرار رکھے گئے ہیں۔ یہ قبر اور پرانے گنبد کو گھیرے ہوئے ہے، اور اس کے ساتھ نماز کی جگہ، ایک طواف کی راہداری اور تقریباً 600 مربع میٹر کا ایک صحن ہے۔ مقبرے پر ایک دھاری دار گنبد بلند ہے۔ تعویذ کے گرد ایک نئی ضریح ہے، جو عربی مضمون کے مطابق چالیس کاریگروں نے بنائی اور جس پر احادیث اور اشعار کندہ ہیں۔ قبر کے گرد سنہری اشعار درج ہیں، جن میں مصطفیٰ جمال الدین کی ایک نظم شامل ہے۔[1][2]
استعمال اور اہمیت
یہ مجموعہ عبادت کی جگہ اور سب سے بڑھ کر ایک شیعہ زیارت گاہ کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق دسیوں ہزار زائرین آتے ہیں۔ یادگاری مجالس خاص طور پر محرم اور صفر میں منعقد ہوتی ہیں، اور ہر سال عاشورہ پر رقیہ کی داستان یاد کی جاتی ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے لیے وہ کربلا کے بعد اہلِ بیتِ رسول کے مصائب کی علامت ہیں۔ عربی ویکیپیڈیا ایران، عراق، خلیجی ریاستوں، لبنان اور پاکستان کے زائرین کے ساتھ ساتھ ان غیر ملکی وفود کا بھی ذکر کرتا ہے جو اس کے اسلامی فنِ تعمیر اور ورثے کو دیکھنے آتے ہیں۔[1][2]
نمایاں خصوصیات
زمانی خاکہ
- 680 (61 ہجری)
کربلا کی جنگ؛ شیعہ روایت کے مطابق اس کے بعد رقیہ دمشق میں قید کے دوران وفات پاتی ہیں۔[1][2]
- 526 ہجری
قبر پر پہلی عمارت، جو ایک ایوبی سلطان سے منسوب ہے۔[2]
- 768 ہجری
مقبرے پر ایک چھوٹا گنبد بنایا جاتا ہے۔[2]
- 1323 ہجری
ایران کے صدرِ اعظم علی اصغر خان کے ہاتھوں تزئینِ نو۔[2]
- 1980 (1399 ہجری)
تقریباً 4,000 مربع میٹر کے مجموعے کی صورت میں توسیع کا آغاز۔[2]
- 1985
مزار کے گرد مسجد کی تعمیر (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
محفوظ · 2026-10-30 تک روایت کے مطابق منسوب
حالت کا ماخذ: Wikipedia (active pilgrimage site)
استعمال کیے گئے مآخذ میں 1980 کی دہائی کی توسیع کے بعد نقصان یا بحالی کے بارے میں کوئی تاریخ وار معلومات نہیں۔ انگریزی ویکیپیڈیا بغیر کسی تاریخ کے جنگ سے متعلق تعمیری کام کا ذکر کرتا ہے۔[1][2]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (8)
- Wikipedia (en): Sayyida Ruqayya Mosque rev. 1380194322 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): مقام رقية بنت الحسين rev. 72661124 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Die arabische Wikipedia nennt als erste Erneuerung einmal 1125 H., einmal 1280 H.; die Zuschreibung des Erstbaus an einen Ayyubiden im Jahr 526 H. und die gregorianischen Näherungsjahre der Zeitleiste (redaktionell umgerechnet) bedürfen fachlicher Prüfung. Die englische Wikipedia nennt in der Sterbeerzählung den Namen Sukaynah statt Ruqayya und datiert den Bau auf 1985, die arabische die Erweiterung auf 1980; eine deutsche Wikipedia-Fassung lag nicht vor.