
دمشق کے قومی عجائب گھر کا اگلا حصہ، جو قصر الحیر الغربی کا اگلا حصہ ہے۔ · تصویر: User:Aziz1005 · Public domain · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2007
دمشق قومی عجائب گھر
مقامی نام: المتحف الوطني بدمشق
دمشق کا قومی عجائب گھر 1919 میں قائم ہوا اور یہ شام کا قومی اور سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔ اس میں قبل از تاریخ سے اسلامی دور تک کی دریافتیں ہیں، جن میں اوگاریت، ماری اور ایبلا کا مواد شامل ہے، نیز معاصر فن بھی۔ اس کی مشہور ترین نمائشی اشیا میں دورا یوروپوس کے معبد (سیناگاگ) کے دیواری نقوش شامل ہیں۔
تاریخ
یہ عجائب گھر 1919 میں شاہ فیصل کی مختصر مدتی عرب سلطنتِ شام کے دور میں قائم ہوا اور پہلے مدرسہ عادلیہ میں رکھا گیا۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 1920 میں دمشقی خاندانوں کے عطیات نے مجموعے کا مرکزی حصہ تشکیل دیا۔ تکیۂ سلیمانیہ کے ساتھ واقع موجودہ عمارت 1936 کی ہے؛ عربی ویکیپیڈیا کہتا ہے کہ اسی سال فرانسیسی معمار ایکوشار کے ڈیزائن پر اس کا پہلا حصہ کھولا گیا۔ جرمن ویکیپیڈیا مجموعوں کی منتقلی کا سال 1939، اور انگریزی ویکیپیڈیا باضابطہ افتتاح کا سال 1950 بتاتا ہے۔
انگریزی اور عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اس کے بعد توسیعات ہوئیں: 1953 میں (اسلامی دور کی نمائشی اشیا اور معاصر فن کے لیے تین منزلہ حصہ)، 1963 میں (عثمانی دور کے دمشقی استقبالیہ ہال کی طرز پر آراستہ ایک لیکچر ہال، اور ایک کتب خانہ)، 1974 میں (قدیم حجری دور کی دریافتیں) اور 2004 میں (نئے حجری دور کے نوادرات)؛ جرمن ویکیپیڈیا 1956 اور 1975 کی توسیعات کا ذکر کرتا ہے۔
شامی خانہ جنگی کی وجہ سے عجائب گھر 2012 میں بند ہو گیا؛ 300,000 سے زیادہ نوادرات خفیہ مقامات پر چھپا دیے گئے۔ اس کے پانچ میں سے چار حصے 29 اکتوبر 2018 کو دوبارہ کھلے۔ دمشق کے سقوط کے بعد یہ 7 دسمبر 2024 کو پھر بند ہوا اور محکمۂ آثارِ قدیمہ کی درخواست پر ہیئۃ تحریر الشام کے جنگجوؤں نے اس کی حفاظت کی؛ یہ 8 جنوری 2025 کو دوبارہ کھلا۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
لمبی، L شکل کی یہ عمارت پرانے شہر کے مغرب میں ایک باغ میں، دمشق یونیورسٹی اور تکیہ کے درمیان شکری القوتلی اسٹریٹ پر واقع ہے۔ اس کا مرکزی داخلی راستہ اموی صحرائی محل قصر الحیر الغربی کے اگلے حصے سے بنا ہے، جسے بادیۃ الشام سے ہٹا کر یہاں دوبارہ تعمیر کیا گیا؛ انگریزی اور عربی ویکیپیڈیا محل کو 727 کا بتاتے ہیں۔ اندر اٹھارہویں صدی کا ایک دمشقی استقبالیہ کمرہ اور پالمیرا سے یرحائی کا زیرِ زمین مقبرہ (ہائپوجیئم) دوبارہ تعمیر کیے گئے ہیں؛ عجائب گھر کا باغ کھلی فضا کی نمائش گاہ کا کام دیتا ہے۔[1][2][3]
مجموعہ اور اہمیت
ذخائر پانچ حصوں میں منظم ہیں: قبل از تاریخ، قدیم شام، کلاسیکی دور (سلوقی، رومی، بازنطینی)، اسلامی دور اور معاصر فن۔ عجائب گھر میں 5,000 سے زیادہ میخی تختیاں ہیں، جن میں اوگاریتی حروفِ تہجی والی ایک تختی شامل ہے جسے قدیم ترین معلوم حروفِ تہجی سمجھا جاتا ہے، نیز تل حلف کے مجسمے بھی۔
دورا یوروپوس کے معبد کے دیواری نقوش 1930 کی دہائی میں دمشق منتقل کیے گئے؛ اجتماع کا ہال عجائب گھر میں اپنی اصل ترتیب میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق تحفظ کی وجوہات سے دیکھنے کا وقت محدود ہے۔ 2025 میں شام سے باہر کے محققین کا ایک وفد کئی دہائیوں میں پہلی بار ان نقوش کو دیکھ سکا۔[1][2][4]
زمانی خاکہ
- 1919
- 1936
تکیہ کے ساتھ موجودہ عمارت کی تعمیر (عربی ویکیپیڈیا: پہلا حصہ کھولا گیا)۔[1][2][3]
- 1950
قصر الحیر الغربی کے اگلے حصے کی تنصیب کے بعد باضابطہ افتتاح (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[1]
- 2012
خانہ جنگی کی وجہ سے بندش؛ 300,000 سے زیادہ نوادرات چھپا دیے گئے۔[1]
- 29 اکتوبر 2018
پانچ میں سے چار حصے دوبارہ کھلتے ہیں۔[1]
- 2024–2025
7 دسمبر 2024 کو بند، 8 جنوری 2025 کو دوبارہ کھلا۔[1]
- نومبر 2025
کلاسیکی شعبے سے رومی دور کے سنگِ مرمر کے چھ مجسموں کی چوری۔[1][3]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2026 تک
9 نومبر 2025 کو (عربی ویکیپیڈیا: 10 نومبر کی درمیانی رات) کلاسیکی شعبے میں نقب زنی کے بعد رومی دور کے سنگِ مرمر کے چھ مجسمے چوری ہو گئے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق مجسمے بعد میں برآمد کر لیے گئے اور چور گرفتار ہو گئے۔ جولائی 2026 میں فرانس نے 23 شامی اشیا واپس کیں، جنہیں عجائب گھر نے موسمِ گرما 2026 میں نمائش کے لیے پیش کیا۔ عمارت کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔[1][3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (16)
- Wikipedia (en): National Museum of Damascus rev. 1382051165 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Nationalmuseum Damaskus rev. 252252659 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): المتحف الوطني بدمشق rev. 74072919 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (en): Dura-Europos synagogue rev. 1370881944 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Synagogen-Bezug: Verbleib der Malereien/des Versammlungsraums in diesem Museum belegt durch en-Museumsartikel, de-Museumsartikel und en-Synagogenartikel (Quelle 4); Relation holds → Q1577089. Widersprüche: (1) Gebäude – en: 1936 gebaut, offizielle Eröffnung 1950; ar: erster Abschnitt 1936 eröffnet (Architekt Écochard, nur ar); de: Umzug 1939; Erweiterungen en/ar 1953, 1963, 1974, 2004 vs. de 1956, 1975. (2) Gründung 1919 (en, de, Wikidata) vs. Sammlungsgrundstock 1920 (ar). (3) Datierung der Synagogenmalereien: en-Museumsartikel 245, ar um 246, Synagogenartikel Bauinschrift 244 – im Text nur 1930er-Überführung genannt. (4) Hypogäum des Yarhai: en datiert 108 n. Chr. und zugleich 3. Jh., de 2. Jh. – im Text nicht datiert. (5) Diebstahl: en 9.11.2025, ar Nacht zum Montag 10.11.2025; Rückgabe/Festnahme nur ar. (6) Lage Qasr al-Hair al-Gharbi: en 80 km südlich, ar 80 km südwestlich von Palmyra – nicht übernommen. Wikidata-Label en lautet 'National Museum in Damascus', Titel der en-Wikipedia 'National Museum of Damascus'. Label der Relation Q3766 nach P131 und Artikeltext.