
تصویر: Mr85HelaL · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2020
حجاز ریلوے اسٹیشن، دمشق
مقامی نام: محطة الحجاز
حجاز ریلوے اسٹیشن (محطۃ الحجاز) وسطی دمشق میں ساحۃ المرجہ کے قریب ایک سابقہ مرکزی ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہ مدینہ جانے والی حجاز ریلوے کا نقطۂ آغاز تھا؛ اس کی مسافر عمارت، جو 1913 میں ہسپانوی معمار فرنانڈو دے ارندا کے ڈیزائن پر تعمیر کے لیے دی گئی، بعد میں ایک تاریخی یادگار بن گئی۔
تاریخ
عربی ویکیپیڈیا کے مطابق دمشق سے حجاز تک ریلوے کا خیال پہلی بار 1864 میں پیدا ہوا: دمشق حاجیوں کے قافلے کا اجتماعی مقام تھا، جسے پرانے قافلوں کے راستے پر مقاماتِ مقدسہ تک پہنچنے میں تقریباً 40 دن لگتے تھے۔ وہی ماخذ اس منصوبے کی تکمیل کا سہرا والی حسین ناظم پاشا اور دمشقی سیاست دان احمد عزت پاشا العابد کے سر باندھتا ہے۔
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ اسٹیشن عثمانی سلطنت کے دور میں 1907 میں فعال ہوا اور 1909 سے دمشق اور مدینہ کے درمیان ٹرینیں کثرت سے چلنے لگیں۔ فرنانڈو دے ارندا کی ڈیزائن کردہ مسافر عمارت 1913 میں تعمیر کے لیے دی گئی۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق حجاز کی لائن پر سروس 1917 سے معطل ہے۔[1][2]
فنِ تعمیر
مسافر عمارت کی اندرونی چھت آراستہ ہے۔ اس کے سامنے سوئٹزرلینڈ کا بنا ہوا ایک انجن نمائش کے لیے رکھا ہے۔[1]
استعمال اور اہمیت
یہ ریلوے حاجیوں، تاجروں، مسافروں اور سامان کو دمشق سے جزیرہ نمائے عرب تک لے جاتی تھی۔ بیسویں صدی میں اسٹیشن سے کئی سمتوں میں ٹرینیں روانہ ہوتی تھیں، جن میں عربی ویکیپیڈیا کے مطابق خوب یاد کی جانے والی “گرمائی تفریح گاہوں کی ٹرین” بھی شامل ہے جو وادی بردیٰ سے ربوہ، دمر، عین الفیجہ اور مضایا ہوتی ہوئی زبدانی اور سرغایا تک جاتی تھی۔[2]
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2026 تک
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اسٹیشن کے اصل پلیٹ فارم بند ہیں، اور عمارت ایک تاریخی یادگار بن چکی ہے۔ ماخذ ان بیانات کی کوئی تاریخ نہیں دیتا۔[1]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (7)
- Wikipedia (en): Hejaz railway station, Damascus rev. 1375196455 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): محطة الحجاز rev. 72929732 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
Lücken: keine deutschsprachige Wikipedia im Paket; deutscher Name nach Wikidata-Label. Nur zwei Quellen, daher kurzer Text. Widersprüche/Unklarheiten: (1) en: Inbetriebnahme 1907 'als der erste Abschnitt der Strecke südlich von Tabuk eröffnet wurde' – geographisch unklar, nur das Jahr übernommen. (2) ar: Verwirklichung 'bis Ende des 18. Jahrhunderts verzögert' – offensichtlich fehlerhaft, nicht übernommen. (3) ar: Kosten 5000 osmanische Goldlira für das Gesamtprojekt – unplausibel und unbelegt, nicht übernommen. (4) Verhältnis Inbetriebnahme 1907 zu Auftrag des Empfangsgebäudes 1913 (Wikidata-Inception 1913) wird in den Quellen nicht erläutert. Kein UNESCO-Bezug. Wikidata P84 (Architekt) = Q5860430, Name nach en-Wikipedia. Aktuelle Nutzung des Gebäudes nicht dokumentiert.