
تصویر: Bassel Khabbaz · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2016
کاروان سرائے اسعد پاشا
مقامی نام: خان أسعد باشا
خان اسعد پاشا، جو تقریباً 2,500 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے، قدیم شہر دمشق کی سب سے بڑی کاروان سرائے (خان) ہے۔ یہ جامع اموی کے قریب سوق البزوریہ پر واقع ہے اور اسے اٹھارہویں صدی کے وسط میں والی اسعد پاشا العظم نے تعمیر کرایا، جنہوں نے قریبی قصر العظم بھی بنوایا تھا۔ اسے دمشق کے بہترین خانوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
تاریخ
انگریزی ویکیپیڈیا اس کی تعمیر کو 1751–52، ویکی ڈیٹا 1752، اور عربی ویکیپیڈیا 1167 ہجری/1753 بتاتا ہے، یعنی قصر العظم کے چار سال بعد؛ جرمن ویکیپیڈیا صرف اٹھارہویں صدی کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے بانی اسعد پاشا العظم تھے، جو دمشق کے عثمانی والی تھے۔ عثمانی دور میں اس خان میں بغداد، موصل، حلب، بیروت اور دیگر مقامات سے آنے والے قافلے ٹھہرتے تھے، اور اس کے کمرے ممتاز تاجروں کو کرائے پر دیے جاتے تھے۔
عربی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ خان پہلے والی کی ذاتی ملکیت تھا، بعد میں کئی تاجروں کے پاس منتقل ہوا اور آخرکار شام کے محکمۂ آثارِ قدیمہ نے اسے حاصل کر کے بحال کیا۔ اس بحالی کو آغا خان ایوارڈ برائے فنِ تعمیر ملا؛ مآخذ میں اس کا سال درج نہیں۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
اس عمارت میں دمشقی سیاہ و سفید سنگ کاری استعمال ہوئی ہے، جس میں ہلکے اور گہرے رنگ کی تہیں باری باری آتی ہیں۔ چوڑے اگلے حصے کے وسط میں ایک بڑا آراستہ دروازہ ہے جس میں مقرنس طاق بنا ہوا ہے۔ صحن نو برابر مربعوں میں تقسیم ہے؛ ان میں سے آٹھ پر گنبد ہیں، ہر ایک چار بھاری ستونوں پر قائم ہے، جبکہ درمیانی مربع آسمان کی طرف کھلا ایک گول روزن ہے جس کے نیچے فوارے والا ایک ہشت پہلو حوض ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا درمیانی روزن میں ایرانی اثرات دیکھتا ہے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق بعد میں اس روزن پر معمار عبیر عرقاوی کا ڈیزائن کردہ ایک شیشے کا گنبد بنایا گیا، اور گنبدوں کی بلندی 20 میٹر تک ہے۔
زمینی منزل ذخیرہ اور اصطبل کے لیے استعمال ہوتی تھی؛ عربی ویکیپیڈیا 21 گوداموں اور شمال مغربی کونے میں ایک چھوٹی مسجد کا ذکر کرتا ہے۔ بالائی منزل پر غلام گردشوں کے پیچھے 45 مہمان کمرے ہیں جن پر چھوٹے گنبد ہیں اور جن کے دروازے اور کھڑکیاں اصلی ہیں۔ گنبد دار چھت سامان کو روشنی، گرمی اور سردی سے محفوظ رکھتی تھی۔[1][2][3]
استعمال اور اہمیت
جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق یہ خان نمائشوں اور موسیقی کے پروگراموں کے لیے عجائب گھر اور ثقافتی مرکز کے طور پر کام آتا ہے؛ عربی ویکیپیڈیا اسے نمائشوں کی جگہ اور دستکاری بازار کے طور پر بیان کرتا ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا اسے شہر کا سب سے “بلند حوصلہ” تعمیری کام قرار دیتا ہے۔ قدیم شہر دمشق یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے، اور یونیسکو واضح طور پر خانوں کو ان عمارتوں میں شمار کرتا ہے جن پر اس کی قدر قائم ہے۔[1][2][3][4]
زمانی خاکہ
گیلری
3D دستاویز

کلک کرنے کے بعد ہی Sketchfab سے لوڈ ہوتا ہے، اس وقت Sketchfab کو ڈیٹا بھیجا جاتا ہے۔
3D پلیئر یہاں لوڈ نہیں ہو سکا۔
Sketchfab پر 3D ماڈل دیکھیںلوڈ ہو رہا ہے …
کاروان سرائے اسعد پاشا
3D: Fovea (3dfovea) · ریکارڈ 2019 · لائسنس: CC BY-NC-SA 4.0 · DOI · Sketchfab پر کھولیں
گھمانے کے لیے کھینچیں، زوم کے لیے وہیل یا دو انگلیاں، پلیئر میں فل اسکرین۔
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں
مآخذ میں حالت کے بارے میں کوئی تاریخ وار بیان موجود نہیں۔ وہ بحالی اور ثقافتی و نمائشی مقام کے طور پر استعمال کو دستاویزی شکل دیتے ہیں؛ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق کچھ گنبد “حال ہی میں” بحال کیے گئے۔ قدیم شہر دمشق 2013 سے خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔[2][3][4]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (12)
- Wikipedia (en): Khan As'ad Pasha rev. 1378013828 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Chan As'ad Pascha rev. 228964062 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): خان أسعد باشا rev. 76936020 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Damascus · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Baujahr 1751–52 (en) vs. 1752 (Wikidata P571) vs. 1167 H./1753 (ar) vs. „18. Jh.“ (de). Die de-Wikipedia nennt den Bauherrn „Azim Pascha“; gemeint ist As'ad Pascha al-Azm. Die en-Deutung der acht Kuppeln als Anspielung auf schiitische Tradition wurde als unbelegte Einzelwertung nicht übernommen. Jahr des Aga-Khan-Preises und Datum der Restaurierung fehlen. Die UNESCO-Seite nennt den Chan nicht namentlich, nur „khans“ allgemein; die Lage in der Altstadt ist durch en/de/ar belegt. Nutzungsangaben (Museum/Kulturzentrum/Handwerksmarkt) undatiert; kein aktueller Zustand. Zeitleiste nur mit zwei Einträgen, da die Quellen keine weiteren Daten nennen.