
تصویر: نامعلوم مصنف · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons
کیتھیڈرل طرطوس
مقامی نام: كاتدرائية طرطوس
طرطوسہ کی کلیسائے مریم (کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف طرطوسہ) طرطوس کا سابقہ صلیبی کیتھیڈرل ہے، جو بارہویں اور تیرہویں صدی میں حضرت مریم کے ایک بازنطینی مزار کی جگہ پر تعمیر ہوا۔ مؤرخین نے اسے صلیبی جنگوں کا سب سے بہتر محفوظ مذہبی ڈھانچہ قرار دیا ہے۔ 1291 کے بعد یہ مسجد بن گیا؛ 1956 سے اس میں طرطوس کا قومی عجائب گھر قائم ہے۔
تاریخ
بازنطینی دور سے یہ عقیدہ تھا کہ یہ مقام حضرت مریم کے نام سے منسوب اس گرجا کا ہے جس کی بنیاد مقدس پطرس نے رکھی تھی، اور یہ مسیحی زائرین کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ یونیسکو کی تفصیل کے مطابق روایت تھی کہ یہاں ایک شبیہ (آئیکن) رکھی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے مقدس لوقا نے بنایا تھا، وہی جس کے بارے میں صیدنایا کی خانقاہ اب دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اس کے پاس ہے۔
فرینکی افواج نے پہلی صلیبی جنگ کے دوران 1099 میں طرطوسہ پر قبضہ کیا، اور کیتھیڈرل بازنطینی گرجا کے اوپر تعمیر کیا گیا۔ جرمن ویکیپیڈیا تعمیر کا آغاز بارہویں صدی کی دوسری چوتھائی میں بتاتا ہے، یونیسکو کی تفصیل 1123 بتاتی ہے۔ فرسانِ ہیکل (ٹیمپلرز) نے 1152 سے 1291 تک قصبے پر حکومت کی اور جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق تیرہویں صدی کے وسط کے آس پاس عمارت مکمل کی۔ 1202 میں ایک زلزلے نے اسے نقصان پہنچایا، اور جلد ہی اس کی مرمت کر دی گئی۔ 1213 میں انطاکیہ کے بوہیمنڈ چہارم کے بیٹے ریمنڈ کو حشیشین (اساسنز) نے کیتھیڈرل میں قتل کر دیا۔ 1260 کی دہائی سے مملوک خطرے کے پیشِ نظر گرجا کو قلعہ بند کیا گیا۔
ٹیمپلرز نے 1291 میں طرطوسہ چھوڑ دیا، جو خطے کے آخری فرینکی شہروں میں سے ایک تھا۔ مملوکوں کے دور میں کیتھیڈرل کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا، جیسا کہ مغربی رخ پر موجود مینار آج بھی ظاہر کرتا ہے۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق عثمانی دور میں یہ اصطبل کے طور پر استعمال ہوا۔[1][2][3][4]
فنِ تعمیر
گرجا تین راہداریوں اور تین محراب خانوں والے باسیلیکا نقشے پر ہے۔ مشرقی حصہ، جو پہلے تعمیر ہوا، رومانسک طرز کا ہے؛ تیرہویں صدی کا مغربی حصہ ابتدائی گوتھک طرز کا ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا لمبائی 45 میٹر سے زیادہ اور چوڑائی 30 میٹر بتاتا ہے، یونیسکو کی تفصیل 41 × 34.5 میٹر۔ مرکزی راہداری پر نوکدار نیم بیلنی چھت ہے؛ حضرت مریم کا مزار مرکزی راہداری کی شمالی جانب ہے۔ شمالی اور جنوبی دیواروں سے پشتے باہر نکلے ہوئے ہیں، جبکہ گوتھک اثر والے مغربی رخ پر کوئی پشتہ نہیں، لیکن اس پر ایک کثیر الاضلاع گھنٹہ گھر اور اکہری کھڑکیاں ہیں۔
طرطوسہ غالباً واحد لاطینی گرجا ہے جو اب بھی کھڑا ہے اور جسے دفاع کے لیے قلعہ بند کیا گیا تھا۔ شمال مشرقی اور جنوب مشرقی کونوں میں ملبوسات خانے (سیکرسٹی) پناہ فراہم کرتے تھے، اور پشتوں پر چھجّے دار سوراخ (مشیکولیشن) بنائے گئے؛ کامیل آنلار کے مطابق مغربی راہداری کے حصوں پر دو برج بھی بنائے گئے۔ یونیسکو کی تفصیل کونوں کو برجوں سے مضبوط کرنے کو تیرہویں صدی کے آخر کا بتاتی ہے۔[1][4]
استعمال اور اہمیت
1956 سے اس عمارت میں طرطوس کا قومی عجائب گھر قائم ہے، جو علاقے کے آثارِ قدیمہ کی نمائش کرتا ہے۔ یونیسکو کی عارضی فہرست صلیبی طرطوس کو، اس کے کیتھیڈرل اور مرکزی برج کے ساتھ، صلیبیوں کے ہاتھوں نئی شکل پانے والے شہر کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہے، اور کیتھیڈرل کو یروشلم سے باہر سب سے قابلِ ذکر فرینکی مذہبی عمارت قرار دیتی ہے۔[1][2][4]
زمانی خاکہ
- 1099
پہلی صلیبی جنگ میں فرینکیوں کا طرطوسہ پر قبضہ۔[1]
- 1123 / بارہویں صدی کی دوسری چوتھائی
کیتھیڈرل کی تعمیر کا آغاز (یونیسکو: 1123؛ جرمن ویکیپیڈیا: بارہویں صدی کی دوسری چوتھائی)۔[2][4]
- 1152–1291
- 1202
زلزلے سے نقصان، جلد مرمت۔[1]
- 1213
بوہیمنڈ چہارم کے بیٹے ریمنڈ کیتھیڈرل میں قتل کیے جاتے ہیں۔[1]
- 1260 کی دہائی
مملوکوں کے خلاف قلعہ بندی۔[1]
- 1291
ٹیمپلرز چلے جاتے ہیں؛ مملوکوں کے دور میں مسجد میں تبدیلی۔[1][2]
- 1956
عمارت طرطوس کا قومی عجائب گھر بن جاتی ہے۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2026 تک
مآخذ میں حالت کی کوئی تاریخ وار رپورٹ موجود نہیں۔ انگریزی ویکیپیڈیا (2026 تک) کے مطابق یہ عمارت طرطوس کے قومی عجائب گھر کے طور پر کام کر رہی ہے۔[1]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ طرطوس میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (10)
- Wikipedia (en): Cathedral of Our Lady of Tortosa rev. 1367269120 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Unsere Liebe Frau von Tortosa rev. 252234257 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): كاتدرائية طرطوس rev. 74719881 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Tentative List entry 1301 (Tartus, Crusader city) · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Widersprüche: (1) Baubeginn – UNESCO 1123, de zweites Viertel 12. Jh., en 'Mitte 12. bis 13. Jh.' bzw. nach 1099. (2) Maße – en >45 × 30 m, UNESCO 41 × 34,5 m. (3) Befestigung – en 1260er; UNESCO Ecktürme Ende 13. Jh.; ar-Wikipedia schreibt fehlerhaft 'Sechzigerjahre des 19. Jh.' (Übersetzungsfehler, nicht übernommen). (4) UNESCO nennt gescheiterte mamlukische Angriffe '1276 et 1270' (Reihenfolge verdreht) – nicht übernommen. UNESCO: Tentativliste 1301 betrifft das kreuzfahrerzeitliche Tartus insgesamt (Titel des Eintrags nicht im Paket, Name der Quelle beschreibend); Jahr der Aufnahme nicht im Paket. Ar-Wikipedia ist weitgehend Übersetzung der en-Fassung und dient nur als Bestätigung (Geschichte) und für den arabischen Namen. Pferdestall in osmanischer Zeit nur de. Label der Relation Q174916 nach P131 und Artikeltext.