
تصویر: Dosseman · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2010
قلعہ ارواد
مقامی نام: قلعة أرواد
قلعۂ ارواد طرطوس کے سامنے واقع جزیرہ ارواد کے وسط میں بڑا قلعہ ہے؛ یہ جزیرہ شام کا واحد آباد جزیرہ ہے۔ یونیسکو کی تفصیل کے مطابق صحن اور فصیل پر چلنے کے راستے والی یہ مستطیل عمارت ایوبی طرز کی ہے، جس میں صلیبی اور عثمانی تبدیلیاں ہوئیں۔ فرانسیسی انتداب کے دوران یہ قید خانے کے طور پر استعمال ہوا، اور 1946 کے بعد ایک مقامی عجائب گھر کے طور پر۔
تاریخ
جزیرہ خود دوسرے ہزارۂ قبل مسیح یا اس سے بھی پہلے سے آباد ہے؛ قلعہ اس سے بہت بعد کا ہے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ کنعانی ڈھانچوں کی باقیات پر تعمیر ہوا، 640 میں عربوں نے اسے فتح کیا، اور صلیبی جنگوں کے دوران ٹیمپلرز (فرسانِ ہیکل) نے اسے دیواروں اور دفاعی تنصیبات سے مضبوط کیا۔ یونیسکو کی عارضی فہرست کی تفصیل کا خیال ہے کہ مرکزی قلعے نے ایک پرانی عمارت کی جگہ لی، اور طرزِ تعمیر کی بنیاد پر اسے ایوبی دور (بارہویں صدی) سے منسوب کرتی ہے، جس میں تیرہویں صدی میں صلیبی اور پندرہویں صدی میں عثمانی تبدیلیاں ہوئیں۔
1291 میں ساحلی علاقہ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد یہ جزیرہ صلیبیوں کا آخری ٹھکانہ تھا؛ 1302 میں ٹیمپلرز کی ایک فوجی چھاؤنی وہاں موجود تھی۔ ستمبر 1302 میں (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 26 ستمبر کو) انہوں نے محاصرے کے بعد مملوکوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ قلعے کے بارے میں عربی ویکیپیڈیا کا مضمون اس فتح کو سلطان قلاوون سے منسوب کرتا ہے، جبکہ یونیسکو قلاوون کو 1291 میں طرطوس کی شکست سے جوڑتا ہے۔
فرانسیسی بحریہ نے 1915 میں جزیرے پر قبضہ کیا۔ انتداب کے دوران فرانسیسیوں نے قلعے کو اپنی حکمرانی کے مخالفین کے لیے قید خانے کے طور پر استعمال کیا؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق قیدیوں کی دیواروں پر لکھی تحریریں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق سیاست دان فارس الخوری کو 1925 کی بغاوت شروع ہونے کے بعد یہاں 76 دن قید رکھا گیا۔ 1946 میں آزادی کے بعد یہ قلعہ ایک مقامی عجائب گھر بن گیا۔[1][2][3][5]
فنِ تعمیر
مرکزی قلعہ بندرگاہ کے پاس واقع چھوٹے قلعے سے بڑا ہے اور براہِ راست بنیادی چٹان پر قائم ہے۔ یہ مستطیل ہے؛ اس کی دیواروں کے کچھ حصوں میں بڑے بلاک ہیں جو جزیرے کی نام نہاد فینیقی فصیلوں سے مشابہ ہیں یا ممکنہ طور پر کسی پرانی عمارت سے لیے گئے ہیں۔ مرکزی صحن کے گرد ایسے ہال ہیں جنہیں عثمانی خیال کیا جاتا ہے، جن کے اوپر کنگورے دار دیواروں کے ساتھ فصیل پر چلنے کا راستہ ہے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اس کے دروازے پر لوزینیاں خاندان کا نشان کندہ ہے؛ جزیرے کے بارے میں عربی مضمون اس کے برعکس یہ نشان ساحلی قلعے (“البرج” یا “ایوبی برج”) پر بتاتا ہے۔[1][4][5]
استعمال اور اہمیت
یہ قلعہ ایک دفاعی عمارت کے طور پر، بیسویں صدی میں قید خانے کے طور پر اور اس کے بعد عجائب گھر کے طور پر استعمال ہوا۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق قلعے کی عمارت آج جزیرے کے گاؤں کا مرکز ہے۔ ارواد کے لیے یونیسکو کی عارضی فہرست کا اندراج قرونِ وسطیٰ کے دونوں قلعوں کو، دیوار کی باقیات، بندرگاہ اور گنجان شہری ساخت کے ساتھ، جزیرے کی تاریخ کے باقی ماندہ شواہد کے طور پر نامزد کرتا ہے۔[1][3][5]
زمانی خاکہ
- 640
عربوں کے ہاتھوں فتح (عربی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[1]
- بارہویں صدی
طرزِ تعمیر کی بنیاد پر مرکزی قلعہ ایوبی دور کا قرار دیا جاتا ہے (یونیسکو)۔[5]
- ستمبر 1302
جزیرے پر موجود ٹیمپلرز مملوکوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔[1][2][3][5]
- 1915
- 1925
فارس الخوری قلعے میں قید کیے جاتے ہیں۔[3]
- 1946 کے بعد
ایک مقامی عجائب گھر میں تبدیل۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
محفوظ · 2026 تک
جرمن ویکیپیڈیا (اکتوبر 2026) قلعے کی پرانی عمارت کو اچھی طرح محفوظ قرار دیتا ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کی اطلاع ہے کہ خانہ جنگی کے دوران جزیرے پر کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔[2][3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ طرطوس میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (7)
- Wikipedia (ar): قلعة أرواد rev. 75996907 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (en): Arwad rev. 1374752573 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Aruad rev. 271740420 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): أرواد rev. 76009570 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre, Tentative List: Arwad (ref. 1303) · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Insel (Q377802) und Festung bewusst getrennt; Inselgeschichte nur als Kontext. Kein deutsches Label und keine deutsche Einzelseite: deutscher Name nach der Formulierung der de-Wikipedia zur Insel („Festung im Zentrum der Insel“) gebildet – redaktionell prüfen. Datierung: kanaanäische Grundlage (ar) vs. stilistisch ayyubidisch, 12. Jh. (UNESCO). Einnahme 1302: ar-Festungsartikel nennt Qalawun, UNESCO verbindet Qalawun mit Tartus 1291, en/de nennen nur „die Mamluken“. Lusignan-Wappen: am Festungstor (ar Festung) vs. am Küstenfort (ar Insel). Ayyubidischer Turm: laut de (nach Satık) in der zentralen Festung, laut ar-Inselartikel identisch mit dem Küstenfort – offen. Ob die Templer-Ereignisse 1300–1302 die Festung selbst betrafen, sagen en/de nicht ausdrücklich. Zustand nur aus der de-Wikipedia; Museumsbetrieb heute nicht belegt. Datum der Aufnahme in die UNESCO-Vorschlagsliste nicht im Paket.