
شام، عمریت · تصویر: Jerzy Strzelecki · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons
عمریت
مقامی نام: عمريت
عمریت، قدیم ماراتھوس (یونانی: Marathos)، بحیرۂ روم کے ساحل پر طرطوس سے تقریباً چھ کلومیٹر جنوب میں، نہر عمریت اور نہر القبلی کے دہانوں کے درمیان، ایک فینیقی شہر تھا۔ یہ زیادہ تر جزیرہ نما شہر ارواد کے خشکی والے علاقے کا حصہ تھا۔ تقریباً 7.5 مربع کلومیٹر پر پھیلی اس کی باقیات میں چٹان تراش کر بنایا گیا ایک مندر کا معبد، ایک اسٹیڈیم اور مقبرہ برجوں والا ایک قبرستان شامل ہیں؛ اسی نام کا ایک چھوٹا جدید گاؤں اس مقام پر واقع ہے۔
تاریخ
مٹی کے برتن تیسرے ہزارۂ قبل مسیح میں ہی آبادی کی نشاندہی کرتے ہیں؛ جرمن ویکیپیڈیا تل عمریت کے قدیم ترین آثار کو تقریباً 2100–1750 قبل مسیح کا بتاتا ہے اور تقریباً 1600 قبل مسیح میں ارواد کے اموریوں کے ہاتھوں قصبے کی بنیاد کا ذکر کرتا ہے۔ تحتمس سوم کی جنگوں کے ریکارڈ میں مذکور ایک مقام کو آج عام طور پر عمریت سے شناخت کیا جاتا ہے۔ 333 قبل مسیح کے آخر میں سکندرِ اعظم ماراتھوس میں ٹھہرے، جو اس وقت ارادوس (ارواد) کے بادشاہ جیروستراتوس کی خشکی والی ملکیت تھا۔
سلوقی دور میں ماراتھوس ارادوس سے الگ ہو گیا؛ اس نے تقریباً 230 قبل مسیح میں اپنے سکے ڈھالے، اور 219 قبل مسیح تک دونوں شہر الگ ہو چکے تھے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 148 قبل مسیح میں ارادوس کی افواج نے ماراتھوس کو لوٹ لیا؛ جرمن ویکیپیڈیا، دیودورس کی پیروی میں، 147 قبل مسیح سے پہلے ارادوس کی ایک ناکام کوشش کا ذکر کرتا ہے اور تباہی کی صحیح تاریخ کو نامعلوم سمجھتا ہے۔ سترابو نے اس جگہ کو ایک منہدم شہر کے طور پر بیان کیا۔ رومی مصنفین ہیڈرین کے زمانے تک ماراتھوس کا ذکر کرتے رہے، اور 2011 میں رومی دور کے تین مقبرہ خانے دریافت ہوئے۔
ہنری مانڈریل (1697) اور رچرڈ پوکوک (1743) نے کھنڈرات کا دورہ کیا؛ ارنسٹ رینان نے 1860 میں کھدائی کی، موریس دونان نے 1926 سے کئی مہمات میں، اور 1954 سے نسیب صلیبی کے ساتھ۔ دریافت شدہ اشیا دیگر مقامات کے علاوہ لوور، دمشق کے قومی عجائب گھر اور طرطوس کے عجائب گھر میں ہیں۔[1][2]
مقام
مرکزی معبد (المعبد)، جو جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق غالباً پانچویں صدی قبل مسیح کے دوسرے نصف کا ہے، چٹان تراش کر بنایا گیا ہے: ایک ستون دار برآمدہ تقریباً تین میٹر گہرے ایک حوض کو گھیرے ہوئے ہے جسے ایک چشمہ سیراب کرتا ہے، اور جس کے مرکز میں ایک اونچی بنیاد پر مکعب نما ناؤس (چھوٹا معبد) ہے۔ پیمائشیں مآخذ میں مختلف ہیں (انگریزی ویکیپیڈیا: صحن 47 × 49 میٹر؛ جرمن ویکیپیڈیا: مجموعہ 56.33 × 48.55 میٹر، حوض 46.70 × 38.50 میٹر)۔ کتبات ملقرت اور اشمون کی پرستش کی گواہی دیتے ہیں۔
تقریباً 200 میٹر شمال مشرق میں چٹان تراش کر بنایا گیا ایک اسٹیڈیم ہے جو تقریباً 225–230 میٹر لمبا اور 30–40 میٹر چوڑا ہے، جس میں نشستوں کی سات جزوی طور پر محفوظ قطاریں ہیں اور جسے چوتھی صدی قبل مسیح کے اواخر یا تیسری صدی قبل مسیح کے اوائل کا قرار دیا جاتا ہے۔ جنوب میں المغازل (“تکلے”) کہلانے والے مقبرہ برج ہیں، جو تقریباً 7.5 میٹر تک بلند ہیں، اور جن میں سے ایک چار شیروں کے نیم مجسموں سے آراستہ ہے، اور جو زیرِ زمین خانوں کے اوپر ہیں جن میں پانچویں سے پہلی صدی قبل مسیح تک کی اشیا ملیں؛ نہر القبلی کے جنوب میں برج البزاق ہے، جو اصل میں 19.5 میٹر بلند تھا، اور مزید زیرِ زمین مقبرے ہیں۔[1][2][3]
تاریخی استعمال اور اہمیت
انگریزی ویکیپیڈیا ماراتھوس کو قدیم فینیقیا کا سب سے شمالی اہم شہر اور ارواد کا خشکی والا اڈہ قرار دیتا ہے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق چشمے والے معبد پر شفا کے لیے بھی لوگ آتے تھے؛ خیال ہے کہ اسٹیڈیم میں مقدس کھیل منعقد ہوتے تھے۔ شہر نے اٹیکی معیار پر دو لسانی چاندی کے سکے ڈھالے۔ چونکہ یہ مقام بڑی حد تک ترک کر دیا گیا اور بہت کم دوبارہ تعمیر ہوا، اس لیے اس کے کھنڈرات بعد کی وسیع تبدیلیوں کے بغیر باقی ہیں۔[1][2][3]
زمانی خاکہ
- تقریباً 1600 قبل مسیح
جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق ارواد کے اموریوں کے ہاتھوں قصبے کی بنیاد؛ آبادی کے آثار تیسرے ہزارۂ قبل مسیح تک جاتے ہیں۔[1][2]
- 333 قبل مسیح
- 219 قبل مسیح
- تقریباً 148 قبل مسیح
ارادوس کے ہاتھوں لوٹ مار (انگریزی ویکیپیڈیا)؛ جرمن ویکیپیڈیا تباہی کی تاریخ کو نامعلوم سمجھتا ہے۔[1][2]
- 1860
- 1954
موریس دونان اور نسیب صلیبی کی کھدائیاں؛ 1957 تک مندر کی صفائی مکمل۔[1][2]
- 2004/2006
ورلڈ مونومنٹس فنڈ کی نگرانی کی فہرستوں میں شمولیت۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2006 تک
ورلڈ مونومنٹس فنڈ نے توڑ پھوڑ اور بڑھتی ہوئی تعمیرات سے تیزی سے بگاڑ کا حوالہ دیتے ہوئے عمریت کو خطرے سے دوچار مقامات کی اپنی 2004 اور 2006 کی نگرانی کی فہرستوں میں شامل کیا۔ 2006 میں یونیسکو، شامی محکمۂ عمومی برائے آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور مقامی منتظمین کے ساتھ تین روزہ ورکشاپ منعقد ہوئی۔ مآخذ میں اس کے بعد کی حالت کی کوئی رپورٹ نہیں۔[1]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ طرطوس میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (13)
- Wikipedia (en): Amrit rev. 1374854282 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Amrit rev. 271740374 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): عمريت rev. 72686503 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Kein UNESCO-Eintrag im Paket. Konflikte: Gründung im 3. Jt. v. Chr. (en, ar) vs. erste Spuren 2100–1750 v. Chr. und Stadtgründung um 1600 v. Chr. (de); Ende der Stadt: Plünderung 148 v. Chr. (en, Wikidata P576) vs. gescheiterter Angriff vor 147 v. Chr., Zerstörungsdatum unbekannt (de); Tempelmaße 47 × 49 m (en) vs. 56,33 × 48,55 m bzw. Becken 46,70 × 38,50 m (de); Stadion spätes 4./frühes 3. Jh. v. Chr. (en) vs. frühhellenistisch/4. Jh. (de); Entfernung zu Tartus 6 km (en, de) vs. 7 km (ar). Nicht übernommen: ar-Behauptungen, das Stadion sei die älteste Sportstätte der Welt und Ursprung des Wortes „Marathon“, sowie die Zuschauerzahl 11.200 und ein „Museum Amrit“. Zustandsangaben nur bis 2006 (WMF über en-Wikipedia); Status daher „unknown“.