
برج اسلام، لاذقیہ کے بالکل شمال میں ایک مشہور ساحل، جس کا نام قریبی گاؤں پر رکھا گیا ہے۔ · تصویر: Ahmadac ( talk ) / Ahmadac at en.wikipedia · Public domain · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2008
شامی ساحل
مقامی نام: الساحل السوري
شامی ساحل شمال مغربی شام میں بحیرۂ روم کی وہ پٹی ہے جو شمال میں صوبہ لاذقیہ اور جنوب میں صوبہ طرطوس پر مشتمل ہے۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ صوبہ طرطوس سے راس البسیط تک پھیلا ہوا ہے اور ساحلوں، جنگلات سے ڈھکے پہاڑوں اور قدیم و قرونِ وسطیٰ کے بہت سے مقامات کو یکجا کرتا ہے۔
منظرنامہ
عربی ویکیپیڈیا ساحل کی لمبائی 180 کلومیٹر بتاتا ہے، لیکن اسی جملے میں “تقریباً 35 بحری میل (65 کلومیٹر)” کا بھی ذکر کرتا ہے۔ ساحل کے پیچھے جنگلات، سرسبز پہاڑ، چشمے، ندیاں اور دریا، اور قدرتی جھیلیں نیز ڈیموں کے پیچھے آبی ذخائر ہیں۔ ساحل سے پرے کئی چھوٹے غیر آباد جزیرے ہیں، جن میں جزیرۂ طیور، ام النمل اور جزیرۂ عباس شامل ہیں، نیز آباد جزیرہ ارواد، جو طرطوس سے تقریباً تین بحری میل دور ہے۔
پہاڑی قصبوں میں صلنفہ شامل ہے، جو لاذقیہ سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق میں تقریباً 1,200 میٹر کی بلندی پر ہے، اور کسب، جو لاذقیہ سے تقریباً 65 کلومیٹر شمال میں جبل الاقرع کے قریب تقریباً 800 میٹر کی بلندی پر ہے۔ راس البسیط، جو لاذقیہ سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں ہے، ایک وسیع خلیج ہے جو پہاڑوں اور جنگلات سے گھری ہوئی ہے۔[1][2]
تاریخ
عربی ویکیپیڈیا کے مطابق تاریخی طور پر یہ اصطلاح رفح سے مرسین تک ساحل کے کہیں زیادہ طویل حصے پر محیط تھی؛ ماخذ موجودہ وسعت، جو لاذقیہ اور طرطوس تک محدود ہے، کو پہلی عالمی جنگ کے بعد کھینچی گئی سرحدوں سے منسوب کرتا ہے۔
لاذقیہ کی بنیاد سلوقس اول نے رکھی اور اسے اپنی والدہ لاؤدیکے کے نام سے موسوم کیا؛ باقی ماندہ یادگاروں میں سپتیمیوس سیویروس کے زمانے کا ایک رومی دروازہ شامل ہے جس میں چار ستون اور ایک محراب ہیں، اور عثمانی خان الدخان، جو اب ایک عجائب گھر ہے۔ طرطوس کا نام انتارادوس سے ماخوذ ہے؛ اس کے ساحل سے پرے جزیرہ ارواد (ارادوس) ایک فینیقی بحری سلطنت تھا۔ جبلہ، جو لاذقیہ سے 29 کلومیٹر جنوب میں ہے، میں تقریباً 7,000 تماشائیوں کے لیے ایک رومی تھیٹر اور سلطان ابراہیم بن ادہم مسجد ہے۔ قلعہ صلاح الدین، جو لاذقیہ سے 35 کلومیٹر مشرق میں 410 میٹر کی بلندی پر ہے، صلیبی دور کے مضبوط ترین قلعوں میں شمار ہوتا تھا۔[1]
اہمیت
لاذقیہ بحیرۂ روم پر شام کی مرکزی بندرگاہ ہے اور طرطوس ایک اور بڑی بندرگاہ؛ بانیاس میں ایک تیل کا ٹرمینل اور ایک ریفائنری ہے۔ ماخذ میں مذکور دیگر آثارِ قدیمہ کے مقامات میں اوگاریت، عمریت (ماراتھوس)، قلعۂ مرقب اور تل کزل (سیمیرا) شامل ہیں۔ المحبہ میلہ ہر سال 2 سے 12 اگست تک لاذقیہ میں منعقد ہوتا ہے۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ اللاذقیہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (3)
- Wikipedia (ar): الساحل السوري rev. 76197995 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata: Q14206726 (Syrian Coast and Mountains) · CC0 1.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
Einzige Textquelle ist die arabischsprachige Wikipedia (Teile im Stil eines Reiseführers; touristische Angaben zu Hotels, Restaurants und Ausflugsorten nicht übernommen). Q12188221 hat in Wikidata weder en/de-Labels noch Aussagen; deutscher und englischer Name sind Übertragungen. Q14206726 („Syrian Coast and Mountains“, Region, P131 Syrien) ist ein weiter gefasster Begriff (Küste und Gebirge) und wird nur als relatedTo verknüpft, nicht als identisch. Widersprüche/Unklarheiten: Länge 180 km vs. „35 Seemeilen (65 km)“; die Jahrhundertangabe der Quelle zur Gründung Latakias durch Seleukos I. (2. Jh. v. Chr.) wurde nicht übernommen; die Angabe zu jährlichen UN-Zuweisungen an Dschabla ist unbelegt und wurde nicht übernommen. Die historische Ausdehnung (Rafah–Mersin) und die Ursachenzuschreibung sind als Quellendarstellung gekennzeichnet. Keine Zeitleiste, da die Quelle kaum Daten nennt.