
قلعۂ مرقب۔ شمالی شام میں ایک صلیبی قلعہ۔ · تصویر: Shayno · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons
قلعہ مرقب
مقامی نام: قلعة المرقب
مرقب، جسے قلعۂ مرقب (عربی: قلعۃ المرقب، “دیدبانی کے مینار کا قلعہ”) بھی کہا جاتا ہے، ایک خاموش آتش فشاں سے بنی پہاڑی پر بانیاس سے تقریباً چھ کلومیٹر جنوب میں اور بحیرۂ روم کے ساحل سے تقریباً دو کلومیٹر دور واقع ہے۔ 1186 سے یہ شام میں نائٹس ہاسپٹلر کا ایک صدر مقام تھا، اور 1285 میں یہ مملوک سلطان قلاوون کے ہاتھ آیا۔
تاریخ
انگریزی ویکیپیڈیا میں نقل کردہ عرب مآخذ کے مطابق اس مقام کو پہلی بار 1062 میں قلعہ بند کیا گیا؛ جرمن ویکیپیڈیا ایک مقامی زمیندار کو بانی بتاتا ہے، جبکہ عربی ویکیپیڈیا رشید الدین الاسماعیلی کا نام لیتا ہے اور ایک پہلے کی عمارت کو خلیفہ ہارون الرشید (789–809) کے دور تک لے جاتا ہے۔ بازنطینی افواج نے 1104 میں قلعہ فتح کیا۔ اس کے بعد امارتِ انطاکیہ کو منتقلی کے بیانات مختلف ہیں: انگریزی ویکیپیڈیا تانکرید کو، جرمن ویکیپیڈیا 1116 میں شہزادہ راجر کے ساتھ ایک تبادلے کو اس کا سبب بتاتا ہے، اور عربی ویکیپیڈیا 1117 بتاتا ہے۔ مازوار خاندان اسے جاگیر کے طور پر رکھتا تھا؛ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق 1133 اور 1140 کے درمیان یہ مختصر عرصے کے لیے دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا۔
جرمن ویکیپیڈیا 1157، 1170 اور 1186 میں زلزلوں سے نقصان درج کرتا ہے۔ چونکہ دیکھ بھال مازوار خاندان کے وسائل سے بڑھ گئی تھی، اس لیے برٹرانڈ مازوار نے 1186 میں قلعہ ہاسپٹلرز کو فروخت کر دیا (جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق 1 فروری کو، 2,000 سونے کے بیزنٹ سالانہ کرائے پر)۔ اس سلسلے نے اسے دوبارہ تعمیر کیا اور وسعت دی، جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق تقریباً 1205 تک۔ صلاح الدین 1188 میں حملہ کیے بغیر یہاں سے گزر گئے؛ 1206 میں ایک ایوبی محاصرہ اور 1269، 1270 اور 1281 کے حملے پسپا کر دیے گئے۔
قلاوون نے 17 اپریل 1285 کو محاصرہ کیا۔ سرنگ کھودنے والوں کے جنوبی دیوار کا ایک ابھرا ہوا حصہ گرا دینے کے بعد محافظوں نے 23 مئی 1285 کو ہتھیار ڈال دیے اور انہیں جو کچھ وہ اٹھا سکتے تھے لے کر جانے کی اجازت دی گئی۔ قلعہ تباہ کرنے کے بجائے قلاوون نے اس کے دفاعی ڈھانچوں کی مرمت کی اور ایک مضبوط محافظ دستہ تعینات کیا۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
انگریزی ویکیپیڈیا مرقب کو ایک بڑا پہاڑی ابھار والا قلعہ قرار دیتا ہے جس میں ہم مرکز قلعے کے بہت سے مخصوص عناصر ہیں۔ ایک خمدار داخلی راستہ ایک دروازے والے برج کی بنیاد سے گزرتا ہے، اور اندرونی دفاع میں ایک بڑا گول برج شامل ہے جسے کبھی کبھی ڈونژون (مرکزی برج) کہا جاتا ہے۔ کراک دے شوالیے کے برعکس مرقب میں ایک بڑا بیرونی احاطہ ہے، جس سے اس کا کل رقبہ زیادہ ہے۔ عربی ویکیپیڈیا فصیلوں کے دو حلقوں کا ذکر کرتا ہے جن میں سے بیرونی میں 14 برج ہیں، نیز نائٹس کا ایک ہال، بارہویں صدی کے دیواری نقوش والا ایک چیپل، حوض اور مرکزی داخلی راستے کے سامنے ایک خندق۔[1][3]
تاریخی استعمال اور اہمیت
قلعہ طرابلس اور لاذقیہ کے درمیان ساحلی سڑک پر قابض تھا۔ مملوکوں کے دور میں یہ صوبۂ طرابلس کے ایک ضلع کا صدر مقام اور برجی دور میں اہم قیدیوں کے لیے ایک شاہی قید خانہ تھا؛ ابن بطوطہ نے 1325 میں اس کے مضافات کا دورہ کیا۔ عثمانی دور میں مرقب اسی نام کی ایک قضا کا مرکز اور اس کے قائم مقام کی رہائش گاہ تھا، یہاں تک کہ 1884 میں صدر مقام بانیاس منتقل ہو گیا۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق ایک چھوٹا ترک فوجی دستہ بیسویں صدی تک موجود رہا۔[1][2]
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
جزوی طور پر متاثر · 2023 تک
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق قلعہ 2007 تک خراب حالتِ تحفظ میں رہا، جب کچھ ازسرِنو تعمیر اور تزئینِ نو شروع ہوئی۔ فروری 2023 کے زلزلے میں اسے نقصان پہنچا؛ ماخذ نقصان کی حد بیان نہیں کرتا۔[1]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ طرطوس میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (19)
- Wikipedia (en): Margat rev. 1376411121 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Margat rev. 261420165 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): قلعة المرقب (سوريا) rev. 70739440 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Quellenkonflikte: Höhe des Hügels ca. 360 m (en), 280 m (de), 370 m (ar) – nicht im Text verwendet; Lage 6 km südlich von Baniyas (en, de) vs. 5 km östlich (ar); Bauherr 1062: Muslime (en), ansässiger Grundherr (de), Rashid ad-Din al-Ismaili (ar); Übergang an Antiochia: Tankred (en) vs. Tausch mit Roger 1116 (de) vs. 1117 (ar). Die ar-Angabe einer Kirche „aus dem 2. Jahrhundert“ und eines nahen Tempels wurde nicht übernommen. Kein UNESCO-Eintrag im Paket. Zustand: nur en-Wikipedia (Renovierung ab 2007, Erdbeben 2023), keine institutionelle Schadensbewertung im Paket.