شامثقافت · ایمان · تاریخ
معلولا، شام میں مقدس تقلا (مار تقلا) کی خانقاہ کا منظر

معلولا، شام میں مقدس تقلا (مار تقلا) کی خانقاہ کا منظر · تصویر: Bernard Gagnon · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2010

نقشے پر واپس جائیں
گرجا گھر اور خانقاہیںجائزہ شدہ

خانقاہ مار تقلا

مقامی نام: دير مار تقلا

اسم المكان

دير مار تقلا

محافظة ريف دمشق – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى دير مار تقلا في محافظة ريف دمشق. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

33.84730, 36.54673

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

مقدس تقلا کی خانقاہ (مار تقلا) دمشق کے شمال مشرق میں قلمون کے پہاڑوں میں واقع گاؤں معلولا میں راہباؤں کی ایک یونانی آرتھوڈوکس خانقاہ ہے، جو براہِ راست انطاکیہ کے بطریرکیہ کے تحت ہے۔ یہ اس غار کے گرد تعمیر کی گئی ہے جہاں روایت کے مطابق مقدس تقلا رہیں اور دفن ہیں۔ خانقاہ کی موجودہ عمارت 1935 اور اس کے بعد کی ہے۔

تاریخ

قلمون کا علاقہ چوتھی صدی میں مسیحی ہوا، جب علاقے کی پہلی خانقاہیں قائم ہوئیں۔ میخائیل البریک کی تاریخ کے مطابق مقدس تقلا کی خانقاہ اور مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والے کا گرجا 1756 میں دوبارہ تعمیر کیے گئے؛ ویکی ڈیٹا اسی سال کو آغاز کی تاریخ بتاتا ہے۔ 1840 میں روسی قونصل اوسپینسکی نے وہاں چار راہب درج کیے۔ 1906 میں غار کے پاس ایک نامعلوم تاریخ کے قدیم گرجا کی باقیات پر ایک گرجا بنایا گیا۔ مہمان خانہ 1934 میں بنا؛ خانقاہ کی عمارت 1935 میں شروع ہوئی اور 1959 میں اس پر دوسری منزل بنائی گئی۔[1][2]

ترتیب

زمینی منزل پر ایک استقبالیہ کمرہ، ایک طعام خانہ اور مذہبی اشیا کی فروخت کے کمرے ہیں؛ بالائی منزل پر راہباؤں کے حجرے ہیں، جن کے نیچے ایک باورچی خانہ اور روٹی پکانے کا پتھر ہے۔ 1888 کی ایک عمارت کو بطریرکی رہائش گاہ کے طور پر بحال کیا گیا۔ مرکزی عمارت کے اوپر ایک سیڑھی براہِ راست مزار تک جاتی ہے، جو ابتدائی مسیحی صدیوں کا ایک چٹانی غار ہے اور ایک مقدس چشمے اور دو چھوٹے، حال ہی میں جدید بنائے گئے گرجوں میں منقسم ہے۔ یونیسکو کی عارضی فہرست کا اندراج چٹانی ڈھلوان پر بھاری طور پر بحال شدہ خانقاہ کو ایک چٹانی پناہ گاہ کے ساتھ بیان کرتا ہے جس کی چھت سے ایک چشمہ ٹپکتا ہے، اور جس میں ایک چیپل، ایک دالان دار صحن اور ملحقہ عمارتیں ہیں۔

مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والے کے گرجا، غار اور مادرِ اعلیٰ کے حصے میں موجود شبیہیں (آئیکن) زیادہ تر اٹھارہویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے اواخر تک کی ہیں، جن میں بطریرک سلویسترس کی تین اور یروشلم مکتب کے میخائیل مہنا القدسی کی چار تخلیقات شامل ہیں۔ جرمن ویکیپیڈیا ذکر کرتا ہے کہ یہ تفصیلات 2013 سے پہلے کی حالت کی عکاسی کرتی ہیں۔[1][2][7]

استعمال اور اہمیت

دوسری صدی کی تصنیف “اعمالِ پولس و تقلا” تقلا کو پولس رسول کی شاگرد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ بعد کی روایت کے مطابق جب وہ اپنے والد کے سپاہیوں سے بھاگ رہی تھیں تو چٹان پھٹ گئی اور وہ غار میں فرار ہو گئیں؛ کہا جاتا ہے کہ معلولا (“داخلہ”) کا نام اسی شگاف سے ماخوذ ہے۔ چشمے سے شفا کی صلاحیت منسوب کی جاتی ہے۔ یہ خانقاہ ایک اہم مسیحی زیارت گاہ ہے، اور مسلمان بھی اس ولیہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 24 ستمبر کو مقدس تقلا کا تہوار ہزاروں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

انگریزی اور جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق جنگ سے پہلے یہاں سات راہبائیں اور مادرِ اعلیٰ پیلاجیا سیاف رہتی تھیں اور ایک چھوٹا یتیم خانہ چلاتی تھیں۔[1][2][3][4][6]

زمانی خاکہ

  1. 1756

    خانقاہ اور مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والے کے گرجا کی ازسرِنو تعمیر۔[1][2]

  2. 1906

    غار کے پاس ایک پرانے گرجا کے اوپر گرجا کی تعمیر۔[1][2]

  3. 1935

    خانقاہ کی موجودہ عمارت کا آغاز۔[1][2]

  4. 1959

    دوسری منزل کا اضافہ۔[1][2]

  5. 3 دسمبر 2013

    معلولا پر قبضہ، راہباؤں کا اغوا؛ خانقاہ لوٹی گئی۔[2][4][5]

  6. 9 مارچ 2014

    راہباؤں کی رہائی۔[2][4][5]

  7. اگست 2018

    مرمت کے بعد دوبارہ افتتاح۔[2]

دستاویزی حالت

محفوظ · 2018 تک

ستمبر 2013 سے معلولا پر لڑائی ہوئی۔ 3 دسمبر 2013 کو جبهة النصرہ نے گاؤں پر قبضہ کر لیا اور مادرِ اعلیٰ، بارہ راہباؤں اور – جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق – دو گھریلو ملازماؤں کو اغوا کر لیا؛ انہیں یبرود میں رکھا گیا اور 9 مارچ 2014 کو قیدیوں کے تبادلے میں رہا کیا گیا۔ خانقاہ کو لوٹا گیا اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ 14 اپریل 2014 کو گاؤں پر دوبارہ قبضے کے بعد اس کی تزئینِ نو کی گئی اور اگست 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا۔ تباہ شدہ شبیہوں کی جگہ روس سے لائی گئی شبیہیں رکھی گئی ہیں۔[2][4][5]

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

محافظہ ریف دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:

محافظہ ریف دمشق کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • مستشفى جبعدينہسپتال · 4.1 kmراستہ
  • مستوصف القطيفةہسپتال · 13 kmراستہ
  • مشفى القطيفة الوطني – القطیفہ قومی ہسپتالہسپتال · 14 kmراستہ
  • مشفى القطيفة الوطنيہسپتال · 14 kmراستہ
  • مشفى رنكوس – رنکوس ہسپتالہسپتال · 17 kmراستہ
  • ہسپتالہسپتال · 18 kmراستہ
ماخذ (12)
  1. Wikipedia (en): Convent of Saint Thecla (Maaloula) rev. 1255494558 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Kloster der Heiligen Thekla rev. 266255196 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): كنيسة مار تقلا rev. 73460487 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. Wikipedia (en): Maaloula rev. 1380845719 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  5. Wikipedia (de): Maalula rev. 269033337 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (ar): معلولا rev. 71994175 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. UNESCO World Heritage Centre, Tentative List: Maaloula (ref. 1299) · 2026-10-30
  8. Wikidata · CC0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  12. OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Ort Maalula (Q740804) und Kloster getrennt; Ortsangaben nur als Kontext. Gründungsdatum: Wikidata P571 1756 vs. Klostergebäude 1935 (en/de); 1756 laut en „wiederaufgebaut“, laut de „erbaut“. Arabischer Name: Wikidata-Label und ar-Wikipedia-Titel lauten „كنيسة مار تقلا“ (Kirche); verwendet wurde die in ar-Ortsartikel und en belegte Form „دير مار تقلا“ – redaktionell prüfen. Zahl der Nonnen: vor dem Krieg sieben plus Oberin (en/de), 2013 zwölf verschleppt (de, en Maaloula) – Widerspruch ungeklärt. Höhe 1600 m (en/de) vs. 165 m in der UNESCO-Vorschlagsliste (vermutlich Tippfehler; nicht verwendet). Entfernung 56 km nur in de. Herkunft Theklas: „Qalamun“ (en Legende) vs. Tochter eines seleukidischen Prinzen (ar). Quelle 3 (ar-Artikel) deckt sich inhaltlich weitgehend mit dem Abschnitt in Quelle 6. Zustand 2018 als „preserved“ eingestuft, gemeint ist instand gesetzt nach schweren Schäden; Originalikonen teilweise verloren.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟