شامثقافت · ایمان · تاریخ
قلعہ صلاح الدین – ایم دیسدیرو، 23/02/2005

قلعہ صلاح الدین – ایم دیسدیرو، 23/02/2005 · تصویر: No machine-readable author provided. Disdero assumed (based on copyright claims). · CC BY 2.5 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2005

نقشے پر واپس جائیں
قلعے اور حصارعالمی ورثہ مقام کا حصہ: Crac des Chevaliers and Qal’at Salah El-Din2013 سے خطرے سے دوچار عالمی ورثہجائزہ شدہ

قلعہ صلاح الدین ایوبی (سوریہ)

مقامی نام: قلعة صلاح الدين الأيوبي

اسم المكان

قلعة صلاح الدين الأيوبي

محافظة اللاذقية – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى قلعة صلاح الدين الأيوبي في محافظة اللاذقية. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

35.59583, 36.05722

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

قلعہ صلاح الدین، جسے صلاح الدین کا قلعہ، صہیون یا ساؤن بھی کہا جاتا ہے، لاذقیہ سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں الحفہ کے قریب ساحلی پہاڑوں کی مغربی ڈھلوانوں پر واقع ہے۔ دو گہری گھاٹیوں کے درمیان ایک پہاڑی دھار پر تعمیر شدہ یہ قلعہ بازنطینی، فرینکی اور ایوبی–مملوک تعمیری مراحل کو یکجا کرتا ہے۔ 2006 سے یہ کراک دے شوالیے کے ساتھ عالمی ثقافتی ورثہ ہے، اور 2013 سے یہ ورثہ خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ہے۔

تاریخ

یہ مقام کم از کم دسویں صدی کے وسط سے قلعہ بند ہے؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اس کا پہلا معلوم مالک حمدانی امیر سیف الدولہ کا ایک تابع تھا۔ 975 میں بازنطینی شہنشاہ جان اول زمیسکیس نے اسے فتح کیا، اور بازنطینیوں نے قلعہ بندیوں کو وسعت دی۔ تقریباً 1108 میں یہ صلیبی امارتِ انطاکیہ کے پاس چلا گیا؛ جرمن ویکیپیڈیا تانکرید کا نام لیتا ہے۔ رابرٹ (انگریزی ویکیپیڈیا میں “کوڑھی” کہلانے والے) کم از کم 1119 سے اس پر قابض رہے؛ جرمن ویکیپیڈیا کہتا ہے کہ وہ اسی سال گرفتار ہوئے اور انہیں سزائے موت دی گئی، اور ان کے بیٹے ولیم نے قلعے کو بڑے پیمانے پر تعمیر کیا۔ غیر معمولی طور پر یہ کبھی کسی فوجی سلسلے کے سپرد نہیں کیا گیا۔

جولائی 1188 میں صلاح الدین اور ان کے بیٹے الظاہر غازی نے قلعے کا محاصرہ کیا؛ دن بہ دن کی تاریخیں مختلف ہیں (انگریزی ویکیپیڈیا: آمد 27 جولائی، حملہ 29 جولائی؛ جرمن ویکیپیڈیا: آمد 24 جولائی، شگاف 26 جولائی)۔ دو سے تین دن کی بمباری کے بعد حملہ آور اندر گھس گئے اور محافظ دستے نے فدیہ ادا کرنے پر ہتھیار ڈال دیے۔ صلاح الدین نے قلعہ امیر ناصر الدین منکوار کو عطا کیا، جن کے وارث 1272 تک اس پر قابض رہے، جب یہ سلطان بیبرس کے پاس چلا گیا۔ منحرف امیر سنقر الاشقر نے 1280 کی دہائی میں (جرمن ویکیپیڈیا: 1280) اسے ایک نیم خود مختار امارت کا مرکز بنایا، یہاں تک کہ 1287 میں انہوں نے اسے سلطان قلاوون کے حوالے کر دیا۔ مملوکوں کے دور میں یہ کم از کم چودہویں صدی کے اواخر تک اہم رہا لیکن بعد میں ترک کر دیا گیا۔[1][2][3]

فنِ تعمیر

قلعہ تقریباً 700 میٹر لمبی ایک پہاڑی دھار پر واقع ہے (عربی ویکیپیڈیا: 740 میٹر)، جو اصل میں مشرق کی طرف ایک سطح مرتفع سے ملی ہوئی تھی۔ وہاں چٹان میں 28 میٹر گہری ایک خندق کاٹی گئی، جس میں پل کو سہارا دینے کے لیے چٹان کا ایک سوئی نما ستون چھوڑ دیا گیا؛ انگریزی ویکیپیڈیا اس کی لمبائی اور چوڑائی 156 میٹر اور 14–20 میٹر، اور جرمن ویکیپیڈیا 130 میٹر اور 20 میٹر بتاتا ہے۔ تقریباً 5 میٹر موٹی دیواروں والا ایک مرکزی برج، جو جزوی طور پر چار میٹر تک لمبے کھردرے تراشے بلاکوں سے بنا ہے، خندق پر نگاہ رکھتا ہے۔

مرکز میں بازنطینی قلعہ ہے؛ اس کے علاوہ حوض، دو بازنطینی چیپلوں میں سے ایک کے ساتھ ایک صلیبی گرجا، قلاوون کے دور کی ایک مسجد اور حمام، صحنوں اور ایوانوں والا ایک ایوبی محل ہے۔ یونیسکو کے مطابق محل کا مرکزی دروازہ 1936 میں دوبارہ تعمیر کیا گیا؛ آج زور استحکام اور تحفظ پر ہے۔[1][2][3][4]

تاریخی استعمال اور اہمیت

قلعہ لاذقیہ سے وادیٔ عاصی اور وہاں سے آگے حلب اور انطاکیہ جانے والے راستے کی حفاظت کرتا تھا۔ یونیسکو ذکر کرتا ہے کہ جزوی طور پر کھنڈر ہونے کے باوجود یہ دسویں صدی میں اپنے بازنطینی آغاز، فرینکی تبدیلیوں اور ایوبی قلعہ بندیوں کی خصوصیات کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو مشرقِ قریب میں دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے کو دستاویزی شکل دیتی ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ٹی ای لارنس نے اسے “قلعہ سازی میں سب سے سنسنی خیز چیز جو میں نے کبھی دیکھی” کہا۔[1][2][4]

زمانی خاکہ

  1. 975

    شہنشاہ جان اول زمیسکیس کے ہاتھوں فتح۔[1][2][3]

  2. تقریباً 1108

    صلیبی امارتِ انطاکیہ کو منتقلی۔[1][2][3]

  3. جولائی 1188

    مختصر محاصرے کے بعد صلاح الدین کے ہاتھوں فتح۔[1][2][3]

  4. 1272

    مملوک سلطان بیبرس کے حوالے۔[1][2][3]

  5. 1287

    سنقر الاشقر قلعہ سلطان قلاوون کے حوالے کرتے ہیں۔[1][2]

  6. 2006

    کراک دے شوالیے کے ساتھ عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت۔[1][4]

  7. 2013

    خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت۔[4]

  8. فروری 2023

    زلزلے میں ایک قلعہ بند برج تباہ۔[1]

3D دستاویز

گھمانے کے لیے کھینچیں، زوم کے لیے وہیل یا دو انگلیاں، پلیئر میں فل اسکرین۔

دستاویزی حالت

جزوی طور پر متاثر · 2023 تک

انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 2016 تک یہ قلعہ خانہ جنگی سے کسی نمایاں نقصان کے بغیر بچا رہا۔ فروری 2023 کے زلزلے میں اس کا ایک قلعہ بند برج تباہ ہو گیا۔ یہ عالمی ورثہ 2013 سے خطرے کی فہرست میں ہے۔[1][4]

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

محافظہ اللاذقیہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:

محافظہ اللاذقیہ کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • ہسپتالہسپتال · 1.3 kmراستہ
  • قرداحہ میں قومی ہسپتالہسپتال · 14 kmراستہ
  • مستوصف عين اللبنہسپتال · 15 kmراستہ
  • ہسپتالہسپتال · 19 kmراستہ
  • مستوصف الشهيد نوار غسان يوسفہسپتال · 24 kmراستہ
  • مشفى العثمان الجراحيہسپتال · 24 kmراستہ
ماخذ (23)
  1. Wikipedia (en): Sahyun Castle rev. 1365036534 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Qalʿat Salah ed-Din rev. 259652904 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): قلعة صلاح الدين الأيوبي (سوريا) rev. 69858899 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. UNESCO World Heritage Centre: Crac des Chevaliers and Qal'at Salah El-Din · 2026-10-30
  5. Wikidata · CC0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  8. Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  12. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  13. Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  14. Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  15. Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  16. Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  17. Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  18. Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  19. Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  20. Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  21. Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  22. Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  23. OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Relation über Wikidata P361 Q15604681 und P757 1229-002; Label nach UNESCO-Eintrag 1229. Konflikte: Belagerungsdaten 1188 (en: 27./29. Juli; de: 24.–26. Juli; ar: 26.–29. Juli); Graben 156 m × 14–20 m (en) vs. 130 m × 20 m (de), Tiefe übereinstimmend 28 m; Gratlänge 700 m (en) vs. 740 m (ar); Entfernung zu Latakia 30 km östlich (en-Einleitung, de) vs. ca. 25 km nordöstlich (en-Text); Sunqur al-Aschqar ab 1280 (de) vs. „in den 1280ern“ (en); Restaurierung des Palasttors 1936 (UNESCO) vs. 1937 (ar). en-Angabe „Donjon ca. 24 m²“ offensichtlich fehlerhaft, nicht übernommen. ar-Herleitung des Namens von Arwad/„Sifon“ nicht übernommen. UNESCO-Zustandsberichte (SOC) nicht im Paket.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟