
تصویر: Taref maghames · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2016
قلعہ حلب
مقامی نام: قلعة حلب
قلعۂ حلب پرانے شہر کے مرکز میں ایک آبادی کے ٹیلے پر واقع قرونِ وسطیٰ کا ایک قلعہ بند محلاتی احاطہ ہے، اور اسے دنیا کے قدیم ترین اور سب سے بڑے قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پہاڑی کم از کم تیسرے ہزارۂ قبل مسیح کے وسط سے استعمال میں ہے، جبکہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر موجودہ ڈھانچے ایوبی دور کے ہیں۔ قدیم شہر حلب کے حصے کے طور پر یہ 1986 سے یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے۔
تاریخ
طوفان کے دیوتا حدد کا ایک مندر، جس کی حال ہی میں کھدائی ہوئی اور جس کا ذکر ایبلا اور ماری کے میخی متون میں ہے، پہاڑی کے استعمال کو تیسرے ہزارۂ قبل مسیح کے وسط تک لے جاتا ہے؛ یہ کم از کم نویں صدی قبل مسیح تک استعمال میں رہا۔ قرونِ وسطیٰ کے عرب مؤرخین قلعہ بند ایکروپولس کو سلوقی حکمران سلوقس اول سے منسوب کرتے ہیں، جنہوں نے شہر کا نام بدل کر بیرویا رکھا۔ شہنشاہ جولیان نے 363 میں ایکروپولس پر زیوس کے لیے ایک سفید بیل کی قربانی دی، اور ساتویں صدی میں ساسانیوں کے ساتھ لڑائی کے دوران شہر کے لوگوں نے قلعے میں پناہ لی۔
مسلم افواج نے 636 میں حلب فتح کیا۔ حمدانی سیف الدولہ نے 944 سے اس شہر سے حکومت کی اور 962 میں بازنطینی لوٹ مار کے بعد حمدانیوں نے اپنا محل قلعے میں منتقل کر دیا۔ نور الدین (دورِ حکومت 1147–1174) نے اسے قلعہ بند کیا۔ اس کی موجودہ شکل بنیادی طور پر صلاح الدین کے بیٹے الظاہر غازی (دورِ حکومت 1193–1215) کی مرہونِ منت ہے، جنہوں نے دیواروں کو مضبوط کیا، ڈھلوان پر پتھر چڑھایا، خندق کو گہرا کیا، اس پر ایک پل بنایا اور 1213 میں داخلی عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا۔
منگولوں نے 1260 میں قلعے کو نقصان پہنچایا اور تیمور نے 1400–1401 میں اسے تباہ کیا۔ 1415 سے مملوک والی سیف الدین جکم نے دو پیش برجوں اور دروازے کے اوپر ایک محل کے ساتھ اسے دوبارہ تعمیر کیا۔ سلیمان اول کے دور میں ایک بحالی (1521) اور 1822 کے زلزلے میں شدید نقصان کے بعد، 1930 کی دہائی سے فرانسیسی انتداب کے دوران کھدائی اور بحالی ہوئی، اور 2000 کی دہائی میں آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے ذریعے تحفظ کا کام ہوا۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
ٹیلے کی بیضوی بنیاد 450 × 325 میٹر ہے اور یہ تقریباً 50 میٹر بلند ہے؛ چوٹی 285 × 160 میٹر ہے۔ اس کی ڈھلوان کبھی پوری کی پوری چونے کے پتھر سے ڈھکی تھی، جس کے کچھ حصے باقی ہیں، اور بارہویں صدی کی ایک خندق، جو 22 میٹر گہری اور 30 میٹر چوڑی ہے، اسے گھیرے ہوئے ہے۔ پل داخلی عمارت میں لے جاتا ہے، جس کا قائمہ زاویوں پر مڑتا راستہ (پانچ موڑ، یا ایک اور عبارت کے مطابق چھ سے زیادہ) اور تراشیدہ اشکال والے تین دروازے حملہ آوروں کو سست کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، جس میں چھجّے دار سوراخ مدد دیتے تھے۔
داخلی عمارت کے اوپر مملوک تخت ہال ہے، جو عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 26.5 × 23.5 میٹر ہے؛ آخری مملوک سلطان الغوری نے اس کی ہموار چھت کی جگہ نو گنبد بنوائے۔ اندر مقرنس دروازے اور چار ایوانوں والے صحن کے ساتھ ایوبی “قصر المجد”، تین حصوں والا ایک حمام، بازنطینی گرجوں سے تبدیل شدہ دو مساجد – مسجد ابراہیم اور 21 میٹر بلند مینار والی جامع مسجد – اور 125 میٹر تک گہرے کنویں ہیں۔[1][2][3]
استعمال اور اہمیت
یہ پہاڑی پہلے طوفان کے دیوتا کی عبادت گاہ تھی، بعد میں ایک ایکروپولس، پناہ گاہ اور قلعہ۔ زنگیوں اور ایوبیوں کے دور میں قلعہ حکومت کا مرکز اور ممتاز صلیبیوں کا قید خانہ تھا: ایڈیسا کے جوسلین دوم یہاں فوت ہوئے، اور رینالڈ آف شاتیوں اور یروشلم کے بادشاہ بالڈون دوم یہاں قید رکھے گئے۔ تیرہویں صدی کے اوائل میں یہ رہائشی، مذہبی، فوجی اور رسد کی عمارتوں والا ایک محلاتی شہر بن گیا۔ عثمانیوں کے دور میں یہ چھاؤنی کے طور پر استعمال ہوا؛ 1679 میں فرانسیسی قونصل دارویو نے وہاں 1,400 افراد گنے، جن میں سے 350 ینی چری تھے۔
ایک عوامی روایت اس پہاڑی کو حضرت ابراہیم سے جوڑتی ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہاں اپنی بھیڑوں کا دودھ دوہا؛ نور الدین نے مسجد ابراہیم کو لکڑی کی ایک محراب دی جو انتداب کے دوران گم ہو گئی۔ بیسویں صدی میں قلعہ آثارِ قدیمہ کا مقام اور تقریبات کی جگہ بن گیا، جس میں 1980 میں ایک ایمفی تھیٹر کا اضافہ ہوا، اور یہ شہر کی علامت ہے۔ خانہ جنگی کے دوران شامی فوج نے اسے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا۔[1][2][3]
نمایاں خصوصیات
زمانی خاکہ
- تیسرے ہزارۂ قبل مسیح کا وسط
پہاڑی پر طوفان کے دیوتا حدد کا مندر چوبیسویں صدی قبل مسیح سے استعمال میں ہے۔[1][2][3]
- 962
بازنطینی لوٹ مار کے بعد حمدانی اپنا محل قلعے میں منتقل کرتے ہیں۔[1][2][3]
- 1193–1215
الظاہر غازی کے دور میں ازسرِنو تعمیر؛ داخلی عمارت 1213 میں دوبارہ بنائی جاتی ہے۔[1][2][3]
- 1400–1401
- 1415
- 1822
ایک شدید زلزلہ؛ اس کے بعد قلعے میں صرف فوجی رہتے ہیں۔[1][2][3]
- 2012–2015
جنگی نقصان: 2012 میں بیرونی دروازے پر گولہ باری، 2015 میں بیرونی دیوار کے نیچے سرنگ میں دھماکہ۔[1][2]
- 2023–2024
فروری 2023 میں زلزلے سے نقصان؛ جنوبی پیش برج کی بحالی کے بعد 17 فروری 2024 کو دوبارہ افتتاح۔[1]
گیلری
3D دستاویز

کلک کرنے کے بعد ہی Sketchfab سے لوڈ ہوتا ہے، اس وقت Sketchfab کو ڈیٹا بھیجا جاتا ہے۔
3D پلیئر یہاں لوڈ نہیں ہو سکا۔
Sketchfab پر 3D ماڈل دیکھیںلوڈ ہو رہا ہے …
قلعہ حلب
3D: shehabi77 · ریکارڈ 2026-05-20 · لائسنس: کوئی آزاد لائسنس درج نہیں (صرف ایمبیڈ) · Sketchfab پر کھولیں
گھمانے کے لیے کھینچیں، زوم کے لیے وہیل یا دو انگلیاں، پلیئر میں فل اسکرین۔
دستاویزی حالت
زیرِ مرمت · 2024 تک
جنگی نقصان اگست 2012 (بیرونی دروازہ) اور جولائی 2015 (بیرونی دیوار کے نیچے سرنگ میں دھماکہ، ذمہ داری متنازع) کے لیے درج ہے؛ قلعہ 2018 کے اوائل میں مرمت کے جاری کام کے ساتھ دوبارہ کھلا۔ 6 فروری 2023 کے زلزلے میں وسیع نقصان کے بعد، جنوبی پیش برج پر بحالی کے دو مراحل کے بعد یہ 17 فروری 2024 کو دوبارہ کھلا۔ 29 نومبر 2024 کو ہیئۃ تحریر الشام اور دیگر باغی افواج نے قلعے پر قبضہ کر لیا۔[1][2]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حلب میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (19)
- Wikipedia (en): Citadel of Aleppo rev. 1374258197 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Zitadelle von Aleppo rev. 266667236 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): قلعة حلب rev. 76938463 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Aleppo · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Abweichungen: römische Übernahme 64 v. Chr. (en/ar) vs. 63 v. Chr. (de); assyrische Herrschaft 8.–7. Jh. (en) vs. 8.–4. Jh. v. Chr. (de/ar); Zahl der Wendungen im Torweg (fünf vs. mehr als sechs); der befestigte Zugang wird einmal az-Zahir Ghazi, einmal den Mamluken im 16. Jh. zugeschrieben. Die Urheberschaft der Explosion vom Juli 2015 ist strittig (Rebellen laut en und SANA, Regierungstruppen laut SOHR); die Wiedereröffnung 2018 (en) und 2024 nach dem Erdbeben stehen nebeneinander.