
دریائے بردیٰ پر پرانا پل · تصویر: Unknown author Unknown author · Public domain · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 1914
وادی بردیٰ
مقامی نام: وادي بردى
وادی بردیٰ دمشق کے شمال مغرب میں دریائے بردیٰ کی وادی ہے، جو براہِ راست جبالِ لبنانِ شرقی سے متصل ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اس میں 17 دیہات اور قصبے ہیں، اور وادی میں واقع عین الفیجہ چشمہ دارالحکومت کے لیے پانی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
منظرنامہ
عربی میں وادی کا مطلب “گھاٹی” ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بردیٰ کا نام “بارد” (“ٹھنڈا”) سے ماخوذ ہے؛ قدیم یونانی نام کریسورواس کا مطلب “سونا بہانے والا” ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا وادی کو پہاڑی بتاتا ہے اور اسے قلمون ضلع میں رکھتا ہے۔ اس ماخذ کے مطابق بردیٰ 84 کلومیٹر لمبا ہے، زبدانی سے نکلتا ہے اور عتیبہ جھیل میں جا گرتا ہے۔
عربی ویکیپیڈیا وادی کو دمشق کے شمال مغرب میں پہاڑوں میں واقع جھیل پر اپنے منبع سے، پہاڑوں کے درمیان بل کھاتے ہوئے، شہر کے کنارے الربوہ تک دریا کی گزرگاہ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ وادی التکیہ سے الہامہ تک دیہات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے؛ سوق وادی بردیٰ کو اس سلسلے کا پہلا اور سب سے زیادہ آبادی والے دیہات میں سے ایک بتایا گیا ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا ذکر کرتا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں دریا شدید خشک سالی کا شکار رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات کم بارش اور آبادی میں بڑا اضافہ ہیں۔[1][2]
تاریخ
“قطار المصایف” (“گرمائی تفریح گاہوں کی ٹرین”) کے نام سے معروف تاریخی ریلوے لائن وادی سے گزرتی ہے۔ شامی خانہ جنگی کے دوران باغیوں نے فروری 2012 میں عین الفیجہ پر قبضہ کر لیا؛ چشمے پر موجود انجینئر اور تکنیکی عملہ اپنی جگہ موجود رہا۔ پھر سرکاری افواج نے دیہات کی ناکہ بندی کر دی۔ 28 جنوری 2017 کو فوج نے قصبے پر دوبارہ قبضہ کیا، اور اگلے دن وادی بردیٰ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔[1][2]
اہمیت
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق عین الفیجہ کا پانی دمشق اور اس کے دیہی علاقوں میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فراہم ہوتا ہے۔ عربی ویکیپیڈیا اس وادی کو دیہی دمشق کا سب سے اہم گرمائی تفریحی اور سیر و تفریح کا علاقہ قرار دیتا ہے، جہاں دمر، الہامہ، عین الخضرا اور عین الفیجہ جیسی قدیم تفریح گاہیں ہیں۔
جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق ہابیل کا مزار (قبۃ النبی ہابیل)، جس کی مسلمان زائرین تعظیم کرتے ہیں، جبل قاسیون سے تقریباً 25 کلومیٹر شمال مغرب میں وادی بردیٰ کے ایک پہاڑ پر واقع ہے۔[1][2][3]
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ ریف دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (5)
- Wikipedia (en): Wadi Barada rev. 1333926003 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): وادي بردى rev. 72339827 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Dschabal Qāsiyūn rev. 240648603 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
Quellenlage dünn (en/ar knapp, kein de-Artikel zum Tal; Abel-Mausoleum aus de-Artikel Dschabal Qāsiyūn). Die Dörferliste mit CBS-Zahlen 2004 fehlt im Pack (nur Überschrift) – Einwohnerzahlen nicht übernommen. Lageangaben uneinheitlich: en „im nordwestlichen Teil von Damaskus, im Distrikt Qalamun“, ar Dörferkette von at-Takiyya bis al-Hama; die Etymologie Chrysorrhoas bezieht sich in en auf den Fluss. Ereignisse 2012–2017 nur nach en-Wikipedia; der ar-Verweis auf den „Angriff auf Wadi Barada 2016–17“ ist nur ein Siehe-auch-Link. Kein Zustandsabschnitt.