
تل حلف، شام، شمال مشرقی محل · تصویر: Bertramz · CC BY 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2009
تل حلف
تل حلف شمال مشرقی شام میں دریائے خابور پر ایک آبادی کا ٹیلہ ہے، جو ترک سرحد کے قریب راس العین سے تقریباً تین کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ یہ نئے حجری دور کی حلف ثقافت کا نمونہ جاتی مقام (ٹائپ سائٹ) ہے، اور پہلے ہزارۂ قبل مسیح میں یہ آرامی اور بعد میں آشوری شہر گوزانا (جوزان) کا صدر مقام تھا۔
تاریخ
یہ مقام نئے حجری دور کے اواخر میں آباد ہوا اور اس نے حلف ثقافت کو اپنا نام دیا، جس کے برتنوں پر کثیر رنگی ہندسی اور حیوانی نقوش بنے ہیں۔ انگریزی ویکیپیڈیا اس کے عروج کو تقریباً 6100–5400 قبل مسیح، اور جرمن ویکیپیڈیا حلف دور کو تقریباً 6000–5300 قبل مسیح بتاتا ہے۔ اس کے بعد عبید ثقافت آئی، اور پھر یہ مقام طویل عرصے تک ویران رہا۔
دسویں صدی قبل مسیح میں (جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق دسویں یا نویں صدی میں) آرامی سلطنت بیت بحیانی کے حکمرانوں نے اس مقام کو گوزانا کے نام سے اپنا صدر مقام بنایا؛ بادشاہ کاپارا نے قلعے پر بھرپور مجسمہ سازی سے آراستہ ایک محل (مغربی محل، ایک ہیلانی) تعمیر کیا۔ آشوری بادشاہ اداد نیراری دوم نے جوزان سے خراج وصول کیا؛ انگریزی ویکیپیڈیا 894 قبل مسیح بتاتا ہے۔ 808 قبل مسیح میں یہ شہر آشوری سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا، اور گورنر شمال مشرقی محل میں رہتے تھے۔ آشور کے زوال کے بعد یہ 612 قبل مسیح میں ایک بابلی نوآبادی بن گیا اور جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق اسلامی دور تک، انگریزی کے مطابق رومی-پارتھی دور تک آباد رہا۔ بائبل جوزان کو جلاوطن کیے گئے بنی اسرائیل کی منزلوں میں سے ایک بتاتی ہے۔[1][2][3]
مقام
برجوں والی ایک قلعہ فصیل 5.1 ہیکٹر کے بالائی شہر کو، اور ایک بیرونی فصیل تقریباً 50 ہیکٹر کے زیریں شہر کو گھیرے ہوئے تھی۔ مغربی محل ایک بلند چبوترے پر تھا؛ اس کے داخلی راستے پر موسم کے دیوتا اور ان کے خاندان کے مجسمہ نما ستون، جو ایک بیل اور شیروں پر کھڑے تھے، شہتیر کو سہارا دیتے تھے، اور دیواروں کے نچلے حصے پر بیسالٹ کی کھڑی سلیں لگی تھیں۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق ان کی اچھی حالتِ تحفظ کا تعلق 759 قبل مسیح کی بغاوت کے دوران لگنے والی آگ سے ہو سکتا ہے۔ ایک عبادت کا کمرہ، قبریں اور زیریں شہر میں آشوری طرز کا ایک مندر بھی دریافت ہوئے۔[1][2][3]
تحقیق اور مجموعے کی تاریخ
ماکس فون اوپن ہائم نے نومبر 1899 میں یہ مقام دریافت کیا اور 1911 سے 1913 اور 1927 سے 1929 تک کھدائی کی۔ دریافت شدہ اشیا کی تقسیم میں مجسموں کا ایک حصہ حلب گیا، جو آج کے قومی عجائب گھر کا مرکزی حصہ بنا، اور ایک حصہ برلن گیا۔ وہاں اوپن ہائم نے 1930 میں اپنا تل حلف عجائب گھر کھولا؛ نومبر 1943 میں ایک فضائی حملے میں یہ جل گیا، اور بیسالٹ کے مجسمے تقریباً 27,000 ٹکڑوں میں بکھر گئے۔ 2001 اور 2010 کے درمیان (جرمن ویکیپیڈیا: 2002–2009) 30 سے زیادہ مجسمے دوبارہ جوڑے گئے اور 2011 میں پرگامون عجائب گھر اور 2014 میں بون کے بنڈس کنسٹ ہالے میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔ 2006 سے ایک شامی-جرمن ٹیم نے ٹیلے پر کھدائیاں دوبارہ شروع کی ہیں۔[1][2][3]
زمانی خاکہ
- تقریباً 6100–5400 قبل مسیح
اس مقام پر حلف ثقافت کا عروج (جرمن ویکیپیڈیا: تقریباً 6000–5300 قبل مسیح)۔[1][2][3]
- دسویں/نویں صدی قبل مسیح
گوزانا بیت بحیانی کا صدر مقام بنتا ہے؛ بادشاہ کاپارا مغربی محل تعمیر کرتے ہیں۔[1][2][3]
- 808 قبل مسیح
- 1899
- 1911–1913، 1927–1929
اوپن ہائم کی کھدائیاں؛ دریافت شدہ اشیا حلب اور برلن میں تقسیم۔[1][2][3]
- نومبر 1943
- 2006
- 2011
بحال شدہ مجسمے برلن کے پرگامون عجائب گھر میں نمائش کے لیے پیش۔[1][2]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2026 تک
جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق 1980 کی دہائی سے گاؤں کی آبادی ٹیلے تک پھیل گئی ہے، اس لیے جنوبی زیریں شہر کے علاقے کی مزید تحقیق ممکن نہیں، اور اب بھی زیرِ استعمال ایک اسلامی قبرستان خود ٹیلے پر کھدائی کو محدود کرتا ہے۔ عربی ویکیپیڈیا ارد گرد کے گاؤں تل حلف کی آبادی تقریباً 10,000 بتاتا ہے۔ اس مقام کی حالت کی کوئی تازہ رپورٹ دستیاب نہیں۔[2][3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ الحسکہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (18)
- Wikipedia (en): Tell Halaf rev. 1364720392 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Tell Halaf rev. 270712745 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): تل حلف rev. 76479119 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (en): National Museum of Damascus rev. 1382051165 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Widersprüche: (1) Halaf-Zeit – en/ar 6100–5400, de 6000–5300 v. Chr. (Wikidata 6100/5400). (2) Kapara – en 10. Jh., de 10. oder 9. Jh. (Synchronismen fehlen). (3) Adad-Nirari II. – en 894 v. Chr., de nur Regierungszeit 911–891. (4) Besiedlungsende – en römisch-parthisch, de/ar bis islamische Zeit. (5) Grabungsteam 1911 – en fünf Archäologen und 500 Einheimische, de fünf Architekten und 200 Arbeiter; Zahlen nicht übernommen. (6) Rekonstruktion – en 2001–2010, de 2002–2009. (7) Fundteilung – en ca. 80 Stücke (zwei Drittel) nach Berlin, 35 nach Aleppo; nicht übernommen. Lage: en 'wenige Kilometer', de 3 km westlich von Raʾs al-ʿAin. Kein UNESCO-Bezug im Paket. Relation findsHeldBy Q617254 nach dem Quellenpaket des Nationalmuseums Damaskus (en-Wikipedia: Skulpturen vom Tell Halaf); Nationalmuseum Aleppo und Pergamonmuseum ohne Q-ID im Paket. Wikidata P131 = Q233914 ohne Label – keine Relation gesetzt. Kein Bericht über Kriegsfolgen am Fundort im Paket.