شامثقافت · ایمان · تاریخ
سرجیلا

سرجیلا · تصویر: Haubi|Gerhard Haubold · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 1994

نقشے پر واپس جائیں
آثارِ قدیمہ کے مقاماتعالمی ورثہ مقام کا حصہ: Ancient Villages of Northern Syria2013 سے خطرے سے دوچار عالمی ورثہجائزہ شدہ

سرجیلا

مقامی نام: سرجيلا

اسم المكان

سرجيلا

محافظة إدلب – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى سرجيلا في محافظة إدلب. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

35.69250, 36.48528

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

سرجیلا شمال مغربی شام کے چونے کے پتھر کے پہاڑی سلسلے میں ابتدائی بازنطینی دور کی ایک بستی ہے، جو صوبہ ادلب میں جبل الزاویہ (جبل ریحا) میں تقریباً 700 میٹر کی بلندی پر البارہ کے قریب واقع ہے۔ پانچویں اور چھٹی صدی کے اس کے اچھی طرح محفوظ مکانات اور اجتماعی عمارتیں اسے مردہ شہروں میں سے سب سے مشہور شہروں میں شامل کرتی ہیں۔ ویکی ڈیٹا (جزو 1348-004) کے مطابق یہ عالمی ورثہ “شمالی شام کے قدیم دیہات” کا حصہ ہے۔

تاریخ

جرمن ویکیپیڈیا بستی کے آغاز کو چوتھی صدی کے وسط اور اس کے خاتمے کو ساتویں صدی کے بعد بتاتا ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا سرجیلا کی تعمیر کا سال 473 بتاتا ہے؛ جرمن ویکیپیڈیا اسے حمام میں موجود ایک موزیک کی تاریخ (سلوقی تقویم کا سال 784) قرار دیتا ہے۔ بستی ایک قدرتی نشیب میں پروان چڑھی اور انگور اور زیتون سے خوشحال ہوئی؛ چونے کے پتھر کی کان کنی بھی عام تھی، بعض اوقات براہِ راست عمارتوں کے نیچے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اکثر مردہ شہروں کی طرح سرجیلا بھی ساتویں صدی میں اس وقت ترک کر دیا گیا جب عرب فتح نے انطاکیہ اور افامیا کے درمیان تجارتی راستے منقطع کر دیے۔ یونیسکو مجموعی طور پر قدیم دیہات کے ترک کیے جانے کا زمانہ آٹھویں سے دسویں صدی بتاتا ہے۔

میلشیور دے ووگوئے نے 1860 کی دہائی میں اس مقام کا مطالعہ کیا۔ ہاورڈ کراسبی بٹلر 1899/1900 میں پرنسٹن مہم کے ساتھ اور پھر 1904/05 میں یہاں آئے؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق ٹیم کو ملنے والا فرشی موزیک اس کی واپسی تک غائب ہو چکا تھا۔[1][2][4]

فنِ تعمیر

مرکز میں پانچویں صدی کی دو عمارتیں پہلو بہ پہلو کھڑی ہیں: ایک اندرون، یعنی مردوں کے لیے ملاقات اور مہمان خانہ، جس میں دو منزلہ ستون دار برآمدہ ہے اور ایسے تاج ہیں جنہیں بٹلر نے “شامی” قسم کا کہا، اور ایک حمام۔ حمام کے موزیک میں انار کا درخت دکھایا گیا ہے؛ ایک کتبے میں جولیانوس اور ان کی اہلیہ دونا کو عطیہ دہندگان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ شمالی حصے میں آرام اور لباس تبدیل کرنے کے کمرے تھے، جنوبی حصے میں گرم اور ٹھنڈے غسل۔

چونے کے پتھر کے بلاکوں سے بنے متعدد دو منزلہ مکانات، جن میں سے کچھ برآمدوں اور کارنسوں والے ہیں (جیسے مکان نمبر 18، غالباً پانچویں صدی کے اواخر کا)، برادری کی خوشحالی کی عکاسی کرتے ہیں؛ ایک ولا کے پیچھے زیتون کے کولہو والی ایک زیرِ زمین عمارت ہے۔ تین راہداریوں والی باسیلیکا میں سے، جسے بٹلر نے پانچویں صدی کے وسط کا قرار دیا، صرف محراب خانے، شہیدگاہ اور جنوبی اگلے حصے کے کچھ حصے باقی ہیں۔[1][2]

تاریخی استعمال اور اہمیت

عربی ویکیپیڈیا باشندوں کو ایسے کسان بیان کرتا ہے جو زراعت، مویشی پالنے اور زیتون کے تیل کی پیداوار کو یکجا کرتے تھے، سریانی بولتے تھے، یونانی جانتے تھے اور بت پرستی سے مسیحیت کی طرف آئے۔ یونیسکو شمالی شام کے قدیم دیہات کو قدیم دور کے اواخر کی دیہی زندگی اور دیہی برادریوں میں مسیحیت کے پھیلاؤ کی گواہی کے طور پر قیمتی سمجھتا ہے۔ یہ ورثہ 2011 میں فہرست میں شامل ہوا اور 2013 سے خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ہے؛ انگریزی ویکیپیڈیا اس کے برعکس خطرے کی فہرست میں شمولیت کا سال 2011 بتاتا ہے۔[1][3][4]

زمانی خاکہ

  1. چوتھی صدی کا وسط

    جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق بستی کا آغاز۔[2]

  2. 473

    حمام میں تاریخ والا موزیک (سلوقی تقویم کا سال 784)۔[1][2]

  3. 1860 کی دہائی

    میلشیور دے ووگوئے کا پہلا سائنسی مطالعہ۔[1][2]

  4. 1899–1905

    ہاورڈ کراسبی بٹلر کی قیادت میں پرنسٹن مہم کے دورے۔[1][2]

  5. 2011

    عالمی ورثہ “شمالی شام کے قدیم دیہات” کی فہرست میں شمولیت۔[4]

  6. 2013

    خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت۔[4]

  7. مئی 2019

    میزائل حملے مغربی حصے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔[1]

دستاویزی حالت

جزوی طور پر متاثر · 2019 تک

انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 2012 سے 2015 تک پناہ گزین ان کھنڈرات میں رہے، انہوں نے تنور اور ایک بیت الخلا بنایا اور معمولی نقصان پہنچایا۔ مغربی حصے میں ایک فوجی پلاٹون نے کھنڈرات کو رہائش کے طور پر استعمال کیا اور ٹین کی چھتیں ڈالیں۔ مئی 2019 میں تین میزائل مغربی حصے پر گرے؛ 2011 میں مہمان خانے میں تبدیل کیے گئے ایک مکان کی چھت اڑ گئی۔[1]

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

محافظہ ادلب میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:

محافظہ ادلب کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • مشفى دار الحكمةہسپتال · 11 kmراستہ
  • ہسپتالہسپتال · 19 kmراستہ
  • الجسر ہسپتال (گردے)ہسپتال · 20 kmراستہ
  • جسر الشغور اسپیشلائزڈ ہسپتالہسپتال · 20 kmراستہ
  • ہسپتالہسپتال · 26 kmراستہ
  • الزراعہ ہسپتالہسپتال · 29 kmراستہ
ماخذ (11)
  1. Wikipedia (en): Serjilla rev. 1365340179 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Serjilla rev. 253770300 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): سرجيلا rev. 70704678 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. UNESCO World Heritage Centre: Ancient Villages of Northern Syria · 2026-10-30
  5. Wikidata · CC0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  8. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Welterbe-Zugehörigkeit nur über Wikidata belegt (P757 1348-004, P361 Q393841, P1435 Q43113623); die UNESCO-Seite im Paket nennt die einzelnen Bestandteile nicht. QID Q393841 als „Ancient Villages of Northern Syria“ zugeordnet nach dem Paket Q1112125 (basis: Wikidata P361 Q393841). Konflikte: Baujahr 473 (en) ist nach de das Mosaikdatum, Siedlungsbeginn Mitte 4. Jh. (de); Fund des Mosaiks 1899 (en) vs. 1900 (de); Aufgabe 7. Jh. (en) vs. 8.–10. Jh. für die Dörfer insgesamt (UNESCO); Gefährdungsliste 2011 (en) vs. 2013 (UNESCO); Entfernungen (65 km N von Hama / 80 km SW von Aleppo laut en, 35 km S von Idlib laut de; ar-Angabe unklar) nicht übernommen. „Pompeji des Ostens“ und die Bezeichnung der Raketen als „Vakuumraketen russischer Herkunft“ (en) nicht übernommen. Zustandsberichte (SOC) der UNESCO nicht im Paket.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟