
تصویر: Vyacheslav Argenberg · CC BY 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2008
قصر الحیر الشرقی
مقامی نام: قصر الحير الشرقي
قصر الحیر الشرقی بادیۃ الشام میں جبل بشری کے قریب ایک اموی محل اور آبادی کا مجموعہ ہے۔ اسے خلیفہ ہشام بن عبد الملک سے منسوب کیا جاتا ہے اور تقریباً 728–729 کا قرار دیا جاتا ہے، اور اس کا شمار نام نہاد صحرائی قلعوں میں ہوتا ہے۔ یہ مقام 1999 سے یونیسکو کے عالمی ورثے کی شام کی عارضی فہرست میں شامل ہے۔
تاریخ
تاریخ کے تعین میں معمولی فرق ہے: انگریزی ویکیپیڈیا 728–729، جرمن ویکیپیڈیا “729 سے پہلے” اور عربی ویکیپیڈیا 110 ہجری بتاتا ہے۔ یونیسکو کی تفصیل کے مطابق ایک کتبہ، جو اب گم ہو چکا ہے، اس مجموعے کو خلیفہ ہشام (دورِ حکومت 724–743) سے منسوب کرتا تھا۔ اسے قصر الحیر الغربی کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے، جو انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق ایک سال پہلے تعمیر ہوا۔ مآخذ اس کے مقاصد شکار اور دمشق سے دور خلوت، ایک فوجی چوکی اور، جرمن ویکیپیڈیا کے بیان میں، بدوی قبائل اور تجارتی راستوں پر نگرانی بتاتے ہیں۔
عباسیوں نے اس مقام کا استعمال جاری رکھا؛ یونیسکو کی تفصیل اس رائے کا ذکر کرتی ہے کہ دسویں صدی میں بڑا محل ایک قصبے کا مرکز بن گیا جس میں تیل کے کولہو، شیشے کے کارخانے اور رہائشی محلے تھے۔ 762 میں دارالحکومت بغداد منتقل ہونے کے بعد اس مقام کا زوال شروع ہوا؛ اس کے کچھ حصے چودہویں صدی تک استعمال ہوتے رہے، جس کے آغاز میں انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اسے ترک کر دیا گیا۔ اولیگ گرابر نے 1964 سے کھدائیوں کی قیادت کی – انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 1971 تک چھ سیزن، جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق 1972 تک سات مہمات۔[1][2][3][4]
فنِ تعمیر
یہ مجموعہ دو محلات پر مشتمل ہے: ایک بڑا، جس کا ہر ضلع تقریباً 160 میٹر ہے، اور ایک چھوٹا تقریباً 70 میٹر کا (یونیسکو: بے قاعدہ، تقریباً 60 میٹر)۔ دونوں کو نیم دائرہ نما برجوں اور کونوں کے برجوں سے مضبوط کیا گیا ہے۔ بڑے محل کے مرکزی دروازے کے دونوں طرف دو نیم برج ہیں، اور دو منزلہ رہائشی حصے ایک کشادہ صحن کو گھیرے ہوئے تھے۔ دیواریں سفید چونے کے پتھر کی ہیں جو وقت کے ساتھ گیروا رنگ اختیار کر چکا ہے، اور کچھ عمارتیں پکی اینٹوں کی ہیں؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق اینٹ اور گچ کاری کی آرائش میں بازنطینی اور ساسانی اثرات نظر آتے ہیں۔ جرمن ویکیپیڈیا کہتا ہے کہ ستون اور ان کے تاج ایک رومی عمارت سے لیے گئے پرانے اجزا ہیں۔
قصبے اور محل کی دیواروں کے درمیان ایک مسجد تھی؛ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق اس کا مینار اب بھی تقریباً 10 میٹر بلند کھڑا ہے۔ ایک بیرونی احاطے کی دیوار باغات اور جانوروں کی محفوظ گاہوں کو گھیرے ہوئے تھی؛ اس کی لمبائی 16 کلومیٹر (جرمن)، 6 کلومیٹر سے زیادہ (عربی) اور 7 کلومیٹر (یونیسکو) بتائی گئی ہے۔ تقریباً 5.7 کلومیٹر لمبی ایک نہر اس مقام تک پانی لاتی تھی۔[1][2][3][4]
اہمیت
یونیسکو کی تفصیل کے مطابق قصر الحیر الشرقی اپنی اصل اموی خصوصیت کو کسی بھی دوسرے صحرائی قلعے سے بہتر طور پر محفوظ رکھے ہوئے ہے اور شام میں اسلام سے قبل کی فنی روایات کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ آرائشی اجزا دمشق کے قومی عجائب گھر منتقل کیے گئے، اور دروازے کی دیر الزور کے عجائب گھر میں ازسرِنو تعمیر کی گئی۔[1][3][4]
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
جزوی طور پر متاثر · 2017 تک
شامی خانہ جنگی کے دوران 2013 میں مسلح گروہوں نے اس مقام پر قبضہ کر لیا اور لوٹ مار اور توڑ پھوڑ سے اسے نقصان پہنچا؛ زائرین کے مکان میں بھی چوری ہوئی۔ شامی فوج نے 22 اگست 2017 کو اس پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ مآخذ میں اس کے بعد کی حالت کی کوئی رپورٹ موجود نہیں۔[1]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حمص میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
- قومی ہسپتال سخنہہسپتال · 28 kmراستہ
ماخذ (14)
- Wikipedia (en): Qasr al-Hayr al-Sharqi rev. 1359759034 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Qasr al-Heir asch-Scharqi rev. 234875252 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): قصر الحير الشرقي rev. 74726710 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre, Tentative List: Qasr al-Hayr ach-Charqi · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre · © UNESCO (link only) · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Quellenkonflikte: Bauzeit 728–729 (en) / vor 729 (de) / 110 AH (ar) / Wikidata 729 bzw. 730; Grabungen 6 Kampagnen 1964–1971 (en) vs. 7 Kampagnen 1964–1972 (de); kleiner Palast 70 m (de, ar) vs. ca. 60 m (UNESCO); Außenmauer 16 km (de) / über 6 km (ar) / 7 km (UNESCO); Wasserzufuhr: Kanal 5,7 km von einer byzantinischen Kirche bzw. einem Kloster (en, ar, UNESCO) vs. Kanal von der 15 km entfernten Oase at-Taibe (de); Entfernungen: 28 km (en) vs. ca. 10 km (ar) von as-Suchna, 100 km (en, ar) vs. 120 km (de) von Resafa – nicht im Text verwendet. Die UNESCO-Seite enthält einen offensichtlichen Datumsfehler („660 av. J.C – 750“), nicht übernommen. Zustand nur bis 2017 belegt (en-Wikipedia).