شامثقافت · ایمان · تاریخ
شمال سے قلعہ جعبر (شام) کا منظر، بحیرۂ اسد کے پانی سے گھرا ہوا

شمال سے قلعہ جعبر (شام) کا منظر، بحیرۂ اسد کے پانی سے گھرا ہوا · تصویر: The original uploader was Eleman at English Wikipedia . · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2008

نقشے پر واپس جائیں
قلعے اور حصارجائزہ شدہ

قلعہ جعبر

مقامی نام: قلعة جعبر

اسم المكان

قلعة جعبر

محافظة الرقة – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى قلعة جعبر في محافظة الرقة. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

35.89750, 38.48083

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

قلعہ جعبر صوبہ رقہ میں بحیرۂ اسد (جھیل فرات) کے بائیں کنارے پر ایک قلعہ ہے۔ اس کا مقام، جو کبھی وادیٔ فرات کے اوپر ایک نمایاں پہاڑی کی چوٹی تھا، طبقہ ڈیم کی تعمیر سے جزیرہ بن گیا اور اب صرف ایک مصنوعی پشتہ نما راستے سے وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ موجودہ ڈھانچے زیادہ تر زنگی حکمران نور الدین کا کام ہیں، جنہوں نے 1168 سے قلعے کو دوبارہ تعمیر کیا۔

تاریخ

یہ معلوم نہیں کہ پہاڑی کو پہلی بار کب قلعہ بند کیا گیا؛ ممکنہ طور پر ساتویں صدی میں ہی۔ اسلام سے پہلے یہ مقام دوسر کے نام سے جانا جاتا تھا اور رقہ سے مغرب کی طرف جانے والے ایک راستے پر واقع تھا؛ جرمن اور عربی ویکیپیڈیا اس نام کو نعمان بن المنذر کے، جو عربی ویکیپیڈیا کے مطابق حیرہ کے بادشاہ تھے، دوسر نامی ایک خادم (غلام) سے ماخوذ بتاتے ہیں۔ قلعہ دوسر کا ذکر 1040/41 میں ملتا ہے۔ اس کا بعد کا نام بنو نمیر یا بنو قشیر کے جعبر نامی ایک شخص سے آیا؛ یہ غیر یقینی ہے کہ وہ جعبر بن سابق تھے یا جعبر بن مالک۔

1086 میں سلجوق ملک شاہ اول نے قلعہ فتح کیا اور حلب کی سپردگی کے بدلے اسے عقیلی سالم بن مالک کو عطا کر دیا۔ ان کی اولاد بارہویں صدی کے اواخر تک تقریباً مسلسل اس پر قابض رہی، جس میں 1102 میں صلیبیوں کے ہاتھوں خلل پڑا (ماخذ کے لحاظ سے قبضہ یا محاصرہ)۔ 1146 میں قلعے کا محاصرہ کرتے ہوئے عماد الدین زنگی کو ان کے اپنے ایک غلام نے قتل کر دیا۔ 1168 میں ان کے بیٹے نور الدین نے اسے سنبھالا اور بڑے تعمیری کام کروائے۔ بعد میں یہ ایوبیوں اور مملوکوں کے پاس گیا، منگول حملوں کے دوران اسے شدید نقصان پہنچا اور چودہویں صدی میں اسے بحال کیا گیا۔

قلعے کے قریب عثمان اول کے دادا سلیمان شاہ کا مبینہ مقبرہ تھا؛ غالباً انہیں سلیمان بن قتلمش کے ساتھ خلط ملط کیا گیا۔ 1921 کے معاہدۂ انقرہ کی دفعہ 9 کے تحت یہ علاقہ ایک ترک بیرونی علاقہ (ایکسکلیو) بن گیا۔ 1973 میں جھیل کی بلند ہوتی سطح کی وجہ سے مقبرہ شمال کی طرف منتقل کر دیا گیا، اور قلعہ شامی علاقہ بن گیا۔[1][2][3]

فنِ تعمیر

انگریزی اور جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق قلعہ 370 × 170 میٹر اور عربی کے مطابق 320 × 170 میٹر کا ہے۔ 35 برجوں والی ایک پتھر کی فصیل ایک چٹانی مرکز کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے کچھ حصوں کے سامنے ایک خشک خندق ہے؛ اس کی ترتیب قلعۂ حلب کی یاد دلاتی ہے۔ بالائی حصے پکی اینٹوں کے ہیں۔ داخلہ ایک دروازے کی عمارت اور چٹان میں کاٹی گئی ایک بل کھاتی ڈھلوان کے ذریعے ہے۔ اندر ایک محرابی ہال کی باقیات اور اینٹوں کا ایک بیلنی مینار ہے، جو جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق نور الدین کے دور میں 1173 میں بنا، اور قلعے کا بلند ترین مقام ہے۔ آج نظر آنے والی اینٹوں کی چنائی بڑی حد تک شامی محکمۂ عمومی برائے آثارِ قدیمہ و عجائب گھر (DGAM) کی بحالی کا نتیجہ ہے۔[1][2][3]

بحالی اور کھدائی

1968 میں شروع ہونے والے طبقہ ڈیم سے وادیٔ فرات کے زیرِ آب آنے سے پہلے 1965 اور 1974 کے درمیان کھدائیاں اور بحالی ہوئی۔ قلعے کو ایک حفاظتی ڈھلوان پشتہ اور خشکی تک ایک پشتہ نما راستہ دیا گیا؛ DGAM، ڈیم کی انتظامیہ اور یونیسکو اس میں شریک تھے، اور لاگت 40 لاکھ شامی پاؤنڈ تھی۔ کام کا مرکز مشرقی دیواریں اور برج، مغربی فصیلوں کے کچھ حصے اور “ڈونژون عالیہ” تھے، جو دریافت شدہ اشیا رکھنے کے لیے تھا؛ یہ اشیا اب حلب کے قومی عجائب گھر اور رقہ کے عجائب گھر میں ہیں۔[1][2][3]

زمانی خاکہ

  1. 1086

    ملک شاہ اول کے ہاتھوں فتح اور عقیلیوں کو عطا۔[1][2][3]

  2. 1146

    محاصرے کے دوران زنگی کا قتل۔[1][2]

  3. 1168

    نور الدین کا قبضہ اور ازسرِنو تعمیر۔[1][2]

  4. 1921

    معاہدۂ انقرہ: سلیمان شاہ کے مقبرے کا علاقہ ترک بیرونی علاقہ بن جاتا ہے۔[1][2][3]

  5. 1965–1974

    کھدائی، بحالی، ڈھلوان پشتہ اور پشتہ نما راستہ۔[1][2]

  6. 1973

    مقبرہ منتقل؛ قلعہ شامی علاقہ بن جاتا ہے۔[1][2][3]

  7. 2014

    داعش کا قبضہ۔[1]

  8. 6 جنوری 2017

    ایس ڈی ایف کا قبضہ۔[1][2]

دستاویزی حالت

موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2017 تک

داعش نے 2014 میں قلعے پر قبضہ کیا اور انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق احاطے میں سرنگیں اور اسلحہ کے ذخائر بنائے۔ 6 جنوری 2017 کو سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے قلعہ حاصل کر لیا۔ مآخذ میں اس کے بعد حالت کا کوئی تاریخ وار بیان نہیں؛ عربی ویکیپیڈیا بغیر کسی تاریخ کے بہت سے برجوں کو تباہ یا ناپید بتاتا ہے۔[1][2][3]

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

محافظہ الرقہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:

محافظہ الرقہ کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • الطبقہ قومی ہسپتالہسپتال · 7.5 kmراستہ
  • ہسپتالہسپتال · 7.5 kmراستہ
  • البكورکلینک / صحت مرکز · 8.6 kmراستہ
  • الطب الحديثکلینک / صحت مرکز · 8.9 kmراستہ
  • مركز دبسي فرج الصحيہسپتال · 29 kmراستہ
ماخذ (15)
  1. Wikipedia (en): Qal'at Ja'bar rev. 1381456359 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Qalʿat Dschaʿbar rev. 254842124 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): قلعة جعبر rev. 76080330 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. Wikidata · CC0 · 2026-10-30
  5. Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  8. Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  12. Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  13. Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  14. Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  15. OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Maße 370 × 170 m (en, de) vs. 320 × 170 m (ar). Kreuzfahrer 1102: Besetzung (en) vs. Belagerung (de). Namengeber: Dschaʿbar ibn Sābiq (en, de) vs. Dschaʿbar ibn Mālik al-Qushairī (ar; de nennt beide). Herkunft des Namens Dausar: de sagt Ghassaniden-Kontrolle, nennt aber an-Nuʿmān ibn al-Mundhir; ar nennt ihn König von al-Hira – im Text nach ar wiedergegeben, die de-Zuordnung zu den Ghassaniden redaktionell prüfen. Minarett 1173 nur in de. Die ar-Angabe, die Burg sei für Besucher geöffnet und ein Turm sei Museum, wurde nicht übernommen (Besuchsangaben ausgeschlossen; de sagt, die Ausstellung im Donjon kam nicht zustande). Grabverlegung 1973 und spätere Exklavengeschichte (2015 Räumung) betreffen den neuen Standort, nicht die Burg. Kein UNESCO-Eintrag im Paket; UNESCO nur als Beteiligte der Arbeiten 1965–1974 genannt.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟