
پالمیرا کی فتح کی محراب · تصویر: PhipipY · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 1996
تدمر
پالمیرا، جو مقامی اور عربی استعمال میں تدمر کہلاتا ہے، وسطی شام میں دمشق سے تقریباً 215 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک قدیم نخلستانی شہر ہے۔ پہلی سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان قافلوں کی تجارت نے ایک عظیم الشان شہری منظر کے اخراجات پورے کیے، جس میں یونانی-رومی تعمیری اشکال مقامی سامی روایات کے ساتھ گھل مل گئیں۔ یونیسکو نے 1980 میں اس مقام کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا اور 2013 سے اسے خطرے سے دوچار عالمی ورثے میں درج کیا ہوا ہے۔
تاریخ
یہ جگہ تقریباً 2000 قبل مسیح میں تحریری ریکارڈ میں آتی ہے، جب کولتپہ کی آشوری تجارتی نوآبادی میں ایک معاہدے میں ایک شخص کو تدمری کہا گیا؛ اٹھارہویں صدی قبل مسیح کی ماری کی تختیاں اس نام کو تا-اد-می-ئر لکھتی ہیں۔ انگریزی ویکیپیڈیا رومی سلطنت میں اس کی شمولیت کو تقریباً 14 عیسوی، تیبیریوس کے دور، کا بتاتا ہے، جبکہ یونیسکو رومی کنٹرول کو پہلی صدی عیسوی کے وسط میں رکھتا ہے۔
ہیڈرین نے 129 میں یہاں کا دورہ کیا اور اسے آزاد شہر بنا دیا؛ 213 اور 216 کے درمیان کاراکالا نے اسے کولونیا کا درجہ دیا۔ 260 میں تدمری حکمران اذینہ (اوڈیناتھس) نے فارسی بادشاہ شاپور اول کو شکست دی، اور 270 سے ان کی بیوہ زنوبیا نے تدمری حکومت کو مصر تک وسعت دی۔ 273 میں ایک نئی بغاوت کے بعد شہنشاہ اوریلین نے شہر کو مسمار کروا دیا؛ یہ ایک چھوٹے فوجی شہر کے طور پر باقی رہا۔
خالد بن ولید نے 634 میں شہر فتح کیا۔ امویوں کے دور میں یہ پھر پھلا پھولا اور 1400 میں تیمور نے اسے تباہ کر دیا، جس کے بعد یہ ایک گاؤں رہ گیا۔ ہنری سیریگ نے 1929 میں بڑے پیمانے پر کھدائیاں شروع کیں، اور 1932 تک باشندوں کو کھنڈرات کے ساتھ نئے گاؤں تدمر میں منتقل کر دیا گیا۔[1][2][5]
فنِ تعمیر
تقریباً 1.1 کلومیٹر لمبا عظیم ستون دار راستہ مشرق میں بعل (بیل) کے مندر سے مغرب میں جنازہ مندر نمبر 86 تک مرکزی محور تھا؛ اس کے زیادہ تر ستون، جن میں سے ہر ایک تقریباً 9.5 میٹر بلند ہے، دوسری صدی عیسوی کے ہیں۔ اس کے ساتھ یادگاری محراب، چار ستونی عمارت (ٹیٹراپائیلون) اور تھیٹر تھے۔ 71 × 84 میٹر کا بازار (اگورا) محصول کے صحن (ٹیرف کورٹ) سے متصل تھا۔
بعل کے مندر میں ایک رومی ستون دار صحن کو بنیادی طور پر سامی نقشے کے ساتھ یکجا کیا گیا تھا جس میں مرکزی معبد مرکزی محور سے ہٹ کر تھا۔ بعل شمین کا مندر دوسری صدی قبل مسیح کے اواخر کا تھا اور 131 عیسوی میں بڑی حد تک دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ فصیلوں کے مغرب میں وادیٔ مقابر میں چار منزلوں تک کے 50 سے زیادہ مقبرہ برج ہیں؛ تازہ ترین 128 عیسوی کا ہے، جس کے بعد جنازہ مندروں اور زیرِ زمین مقبروں (ہائپوجیا) نے ان کی جگہ لے لی۔[1][2][5]
استعمال اور اہمیت
مذہبی زندگی بعل پر مرکوز تھی، جس کی پرستش چاند کے دیوتا عجلی بول اور سورج کے دیوتا یرحی بول کے ساتھ ہوتی تھی۔ 325 تک ایک اسقف کی موجودگی ثابت ہے اور زیادہ تر مندر گرجا بن گئے، اگرچہ اللات کا مندر 385 میں تباہ کر دیا گیا۔ امویوں نے بعل کے مندر کے ایک حصے کو جامع مسجد میں تبدیل کیا؛ 1132 میں بوریوں نے اس کے احاطے کو قلعہ بنا دیا، جو بیسویں صدی تک آباد رہا۔
معیشت کا انحصار کھیتی باڑی، گلہ بانی، محصولات اور سب سے بڑھ کر قافلوں کی اس تجارت پر تھا جو فرات اور خلیجِ فارس کو بحیرۂ روم سے ملاتی تھی۔ تاجر محصول کے صحن میں محصول ادا کرتے تھے، جہاں یونانی اور تدمری زبانوں میں 137 عیسوی کا ایک دو لسانی محصول کا قانون آویزاں تھا۔ 2015 میں داعش کے پہلے قبضے کے دوران تھیٹر کو سرِ عام سزائے موت کے لیے استعمال کیا گیا۔[1][2]
نمایاں خصوصیات
محصول کا کتبہ، جو 1882 میں ملا، 1901 میں روسی زار کو پیش کیا گیا اور اب سینٹ پیٹرزبرگ کے ہرمیتاژ میں ہے۔ یونیسکو زور دیتا ہے کہ ان کھنڈرات نے، جنہیں سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے سیاحوں نے بیان کیا، مغرب میں کلاسیکی فنِ تعمیر کے احیا کو متاثر کیا۔ اگست 2015 میں داعش نے پالمیرا کے آثارِ قدیمہ کے ریٹائرڈ سربراہ خالد الاسعد کو قتل کر دیا۔[1][5]
زمانی خاکہ
- تقریباً 2000 قبل مسیح
کولتپہ کی تجارتی نوآبادی میں ایک معاہدے میں پہلی بار ایک “تدمری” کا ذکر۔[1]
- 32
بعل کے مندر کی تقدیس (انگریزی ویکیپیڈیا میں 32 عیسوی؛ جرمن ویکیپیڈیا 32 قبل مسیح بتاتا ہے)۔[1][2][3][4]
- 129
- 273
ایک نئی بغاوت کے بعد اوریلین شہر کو مسمار کروا دیتے ہیں۔[1]
- 1400
تیمور کے ہاتھوں تباہی؛ پالمیرا ایک گاؤں رہ جاتا ہے۔[1]
- 1932
باشندوں کی تدمر منتقلی مکمل، جس سے قدیم مقام کھدائی کے لیے خالی ہو جاتا ہے۔[1]
- 1980
یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت۔[5]
- 2015–2017
داعش کا قبضہ؛ دیگر کے علاوہ بعل اور بعل شمین کے مندروں، یادگاری محراب اور ٹیٹراپائیلون کی تباہی۔[1][2][5]
گیلری
دستاویزی حالت
شدید متاثر · 2026 تک
داعش نے مئی 2015 سے مارچ 2016 تک اور پھر دسمبر 2016 سے مارچ 2017 تک پالمیرا پر قبضہ رکھا۔ 2015 میں اس نے بعل شمین اور بعل کے مندروں اور یادگاری محراب کو تباہ کیا؛ جرمن ویکیپیڈیا ستمبر 2015 میں چھ مقبرہ برجوں کو دھماکے سے اڑانے کی بھی اطلاع دیتا ہے۔ جنوری 2017 میں ٹیٹراپائیلون بڑی حد تک تباہ ہو گیا اور تھیٹر کی اسٹیج عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
بحال شدہ اللات کا شیر 2017 میں منظرِ عام پر لایا گیا اور اسے دمشق کے قومی عجائب گھر میں ہی رہنا ہے۔ روسی-شامی ٹیموں نے 2022 میں افقا چشمے کے علاقے کی بحالی کی۔ دسمبر 2024 کے بعد یونیسکو نے شامی حکومت، ALIPH اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے ساتھ کام شروع کیا؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق جون 2026 تک یہ کام سروے اور نقصان کے جائزوں تک محدود تھا۔[1][2][5]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حمص میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
- مشفى تدمر الوطنيہسپتال · 1.9 kmراستہ
ماخذ (25)
- Wikipedia (en): Palmyra rev. 1382053636 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Palmyra rev. 271007994 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (en): Temple of Bel rev. 1380328200 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Baaltempel von Palmyra rev. 270791519 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Site of Palmyra · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Geprüft gegen die Quellenpakete (Wikidata, Wikipedia en/de, UNESCO 23). Widersprüche: (1) Weihe des Bel-Tempels – en-Wikipedia (Palmyra und Temple of Bel) 32 n. Chr., de-Wikipedia (Palmyra und Baaltempel) 32 v. Chr. (de-Artikel nennt den 6. April); im Text als n. Chr. geführt, Abweichung offen. (2) Beginn der römischen Herrschaft: en-Wikipedia um 14 n. Chr. unter Tiberius, de-Wikipedia spätes 1. Jh. v. Chr. erobert, UNESCO Mitte 1. Jh. n. Chr. (3) Datum der Zerstörung des Baalschamin-Tempels: de-Wikipedia nennt im selben Artikel 22. und 25. August 2015; Bel-Tempel 30. August (AP-Bericht, de-Baaltempel) bzw. 31. August 2015 (de-Palmyra; UN-Bestätigung per Satellitenbild am 31. August). (4) Monumentalbogen: en-Wikipedia datiert ihn ins 3. Jh., de-Wikipedia nennt ihn „Hadrianstor“. (5) de-Wikipedia meldet einen israelischen Luftangriff auf Palmyra im November 2024 mit schweren Gebäudeschäden; ob die antike Stätte betroffen war, ist aus den Quellen nicht erkennbar – nicht in den Zustandstext übernommen. Die UNESCO-Seite listet eine Aktivität „Emergency Safeguarding of the Portico of the Temple of Bel“ ohne Details. Der Bel-Tempel hat einen eigenen verknüpften Datensatz (Q797481).