
سیدۂ صیدنایا کی خانقاہ، صیدنایا، شام · تصویر: Bernard Gagnon · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2010
خانقاہ سیدۃ صیدنایا
مقامی نام: دير سيدة صيدنايا
سیدۂ صیدنایا کی بطریرکی خانقاہ دمشق کے قریب صیدنایا میں انطاکیہ کے بطریرکیہ کی ایک یونانی آرتھوڈوکس خانقاہ ہے، جسے راہباؤں کا ایک سلسلہ چلاتا ہے۔ روایت ہے کہ شہنشاہ جسٹینین اول نے 547 میں اس کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک اہم زیارت گاہ ہے جہاں حضرت مریم کی ایک شبیہ ہے جو مقدس لوقا سے منسوب کی جاتی ہے۔
تاریخ
روایت کے مطابق جسٹینین اول صیدنایا کے قریب شکار کرتے ہوئے ایک غزال کا پیچھا کرتے ہوئے ایک پہاڑ پر چڑھے جہاں حضرت مریم ظاہر ہوئیں اور انہیں ایک گرجا بنانے کا حکم دیا؛ جرمن اور عربی ویکیپیڈیا دو رویاؤں کی بات کرتے ہیں جنہوں نے مقام اور نقشہ متعین کیا۔ جسٹینین نے میلادِ مریم کے تہوار پر خانقاہ کو وقف کیا۔ عربی ویکیپیڈیا مزید بتاتا ہے کہ وہاں خانقاہی زندگی پانچویں صدی سے ہے۔ مآخذ دمشق سے فاصلہ 40 کلومیٹر (انگریزی) یا 30 کلومیٹر (عربی) بتاتے ہیں۔
قرونِ وسطیٰ میں صیدنایا ایک مقبول منزل تھا، جس کا ذکر لاطینی زائرین کے سفرناموں میں ملتا ہے، جن میں تیتمار کی “Liber peregrinationis” اور بورکارڈ آف اسٹراسبرگ کی “Itinerarium” شامل ہیں۔ یہ شبیہ کو گردن سے نیچے “مجسم” اور مقدس تیل ٹپکاتی ہوئی بیان کرتے ہیں، یہ خصوصیت عربی زبان کے مآخذ میں نہیں ملتی۔ 1759 میں ایک زلزلے نے خانقاہ کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا، اور 1860 میں ممکنہ طور پر دروز باغیوں نے اسے نقصان پہنچایا۔ 1883 تک قرونِ وسطیٰ کے گرجا میں سے صرف محراب خانہ باقی تھا؛ اسے جدید گرجا میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ایک ضمنی کمرے کو، جس میں مصوری کا ایک ٹکڑا ہے، بارہویں یا تیرہویں صدی کا قرار دیا گیا ہے۔[1][2][3]
ترتیب
مرکزی چیپل میں متعدد شبیہیں اور قربان گاہ کے سامنے لکڑی کا ایک شبیہ دان (آئیکونوسٹاسس) ہے۔ زیارت کا مزار، جو چیپل سے الگ ہے، حضرت مریم کی وہ شبیہ رکھتا ہے جسے شاغورہ (“نامور”) کہا جاتا ہے، جو چاندی کے دروازوں والے ایک آراستہ طاق کے پیچھے پوشیدہ رکھی جاتی ہے اور جس کے دونوں طرف بعد کی شبیہیں ہیں۔ زائرین کی چھوڑی ہوئی چاندی کی صلیبیں اور دیگر نذرانے دیواروں پر لٹکے ہیں۔ عربی ویکیپیڈیا سیکڑوں کتابوں اور مخطوطات والے ایک کتب خانے کا ذکر کرتا ہے۔[1][2][3]
استعمال اور اہمیت
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں
تینوں مآخذ بتاتے ہیں کہ شامی خانہ جنگی کے دوران خانقاہ کو نقصان پہنچا؛ جرمن ویکیپیڈیا نقصان کو شدید قرار دیتا ہے۔ کوئی بھی ماخذ سال یا تفصیلات نہیں دیتا۔[1][2][3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ ریف دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (10)
- Wikipedia (en): Our Lady of Saidnaya Monastery rev. 1357255218 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Kloster Unserer Lieben Frau von Saidnaya rev. 243288617 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): دير سيدة صيدنايا rev. 75927154 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Gründung 547 nur als Überlieferung belegt; Wikidata P571 nennt das 6. Jh. (Jahrhundertgenauigkeit). Entfernung von Damaskus 40 km (en) vs. 30 km (ar). Pilger: Christen (en) vs. Christen und Muslime (de, ar). Ausmaß und Zeitpunkt der Kriegsschäden nicht angegeben (en/ar: beschädigt; de: schwer beschädigt). Die de-Angabe, das Kloster sei „dem Evangelisten Lukas gewidmet“, ist offenbar eine verkürzte Wiedergabe der Ikonen-Zuschreibung und wurde nicht übernommen. Die Ikone wird nur nach der Überlieferung Lukas zugeschrieben. Keine UNESCO-Quelle im Paket.