
تصویر: Dosseman · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2009
نواعیر حماہ
مقامی نام: نواعير حماة
حماہ کے ناعورے دریائے عاصی پر لکڑی کے پانی اٹھانے والے پہیے ہیں جو اپنے کناروں میں لگے خانوں میں دریا کا پانی اٹھاتے ہیں اور اسے پتھر کی محرابوں پر قائم آبی نالیوں میں انڈیلتے ہیں۔ دو سب سے بڑے، المحمدیہ (1361) اور المأموریہ (1453)، کی تاریخ کتبات سے معلوم ہے۔ شام نے 1999 میں ناعوروں کو یونیسکو کی اپنی عارضی فہرست میں شامل کیا؛ وہ عالمی ورثے کی فہرست میں درج نہیں ہیں۔
تاریخ
ان کا آغاز قدیم ہے لیکن اس کی تاریخ متعین کرنا مشکل ہے۔ 55 کلومیٹر نیچے کی طرف واقع افامیا کے ایک موزیک میں ایک ایسا پہیہ دکھایا گیا ہے جو حماہ کے پہیوں سے حیرت انگیز حد تک مشابہ ہے؛ یونیسکو اور عربی ویکیپیڈیا اسے 469 عیسوی کا بتاتے ہیں، جبکہ انگریزی ویکیپیڈیا موزیک اور ٹائلوں کی بنیاد پر افامیا کے قریب ناعوروں کو تقریباً 350 عیسوی تک کا قرار دیتا ہے۔ جرمن ویکیپیڈیا موزیک کو 469 قبل مسیح کا بتاتا ہے اور شہنشاہ ایلاگابالوس کے تیسری صدی کے اوائل کے ایک بیان کا حوالہ دیتا ہے جس میں افامیا میں ایک ناعورے کا ذکر ہے۔
تیرہویں صدی کے ایک علاقائی مؤرخ نے نویں صدی کے اواخر میں حماہ میں ناعوروں کی موجودگی کی اطلاع دی، اور بارہویں صدی کے اواخر تک غالباً بہت سے وہاں کام کر رہے تھے۔ 1157 کے زلزلے کے بعد نور الدین نے پانی کے نظام اور ناعوروں کی مرمت کروائی۔ یہ سوال کھلا ہے کہ پہلے پہیے رومی-بازنطینی دور کے ہیں یا اسلامی دور کے۔ تمام تاریخیں مقامات سے متعلق ہیں: چونکہ لکڑی کو مسلسل بدلنا پڑتا ہے، اس لیے اندازہ ہے کہ ایک اچھی طرح دیکھ بھال کیا گیا ناعورہ تقریباً ہر 15 سال میں مکمل طور پر نیا ہو جاتا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں حماہ اور اس کے گرد و نواح میں 105 ناعورے تھے۔ 1930 کی دہائی سے موٹر پمپوں نے ان کی جگہ لینا شروع کی، اور 1960 سے الرستن ڈیم نے دریا کی سطح کم کر دی جس سے وہ مہینوں بیکار کھڑے رہتے۔ 1970 تک آٹھ اب بھی کام کر رہے تھے۔ 1977 اور 1981 کے درمیان چھ اور 1988 میں مزید سات بحال کیے گئے۔[1][2][3][4]
ساخت اور تکنیک
یہ پہیے زیریں دھار سے چلتے ہیں، یعنی کنارے پر لگے پروں سے ٹکرانے والا بہاؤ انہیں گھماتا ہے۔ پروں کے درمیان لکڑی کے خانے ہیں جو ایک طرف سے آدھے کھلے ہیں، نیچے بھرتے ہیں اور اوپر پہنچ کر ایک نالی کے ذریعے آبی نالی میں خالی ہوتے ہیں۔ پہیے کے لحاظ سے خانوں میں 4 سے 12 لیٹر پانی آتا ہے، اور پیداوار فی گھنٹہ 50,000 سے 200,000 لیٹر تک ہوتی ہے۔ بھاری دھرا اخروٹ کی لکڑی کا ہے؛ دیگر حصوں کے لیے سفیدہ (پاپلر)، صنوبر، بلوط، خوبانی اور شہتوت کا ذکر ہے۔ عربی ویکیپیڈیا تقریباً بیس نامزد اجزا کی فہرست دیتا ہے۔
ہر ناعورہ ایک بند کے بالکل نیچے واقع ہے جو بہاؤ کو پہیے کی طرف موڑتا ہے؛ دروازے اس کی رفتار کو منظم کرتے ہیں، اور ایک بند پر چار تک پہیے ہو سکتے ہیں۔ پانی اونچی پتھر کی محرابوں پر قائم آبی نالیوں میں بہتا ہے جو دریا سے قائمہ زاویے پر مڑ جاتی تھیں اور بعض اوقات کئی سو میٹر لمبی ہوتی تھیں۔ اس نظام کی ضرورت اس لیے تھی کہ دریائے عاصی کی ڈھلان کم ہے اور یہ اونچے کناروں کے درمیان گہرائی میں بہتا ہے؛ جرمن اور عربی ویکیپیڈیا 70 میٹر تک کے فرق کی بات کرتے ہیں۔[1][2][3][4]
استعمال اور اہمیت
ناعورے پھلوں اور سبزیوں کے باغات کو سیراب کرتے اور قصبے کو پانی فراہم کرتے تھے۔ یونیسکو کے مطابق شہزادوں اور والیوں نے انہیں اپنی جاگیروں، محلات، مساجد، حماموں اور کاروان سراؤں کے لیے بنوایا۔ المحمدیہ تقریباً ایک کلومیٹر دور جامع مسجد، ایک حمام، فواروں، مکانات اور باغات کو پانی دیتا تھا؛ المأموریہ باغات، نو مساجد، چار حماموں اور ایک سو کنووں کی خدمت کرتا تھا۔ زیادہ تر پہیے امیر زمینداروں کی ملکیت تھے، لیکن استعمال کنندگان طے شدہ قواعد کے تحت اخراجات، دیکھ بھال اور پانی اجتماعی طور پر بانٹتے تھے۔
شہر میں سترہ ناعورے باقی ہیں (عربی ویکیپیڈیا 19 گنتا ہے)۔ وہ اب پانی فراہم نہیں کرتے کیونکہ ان کی آبی نالیاں چھوٹی کر دی گئی ہیں، لیکن وہ شہر کی علامت کے طور پر گھومتے ہیں، بہار کے میلے جیسی تقریبات میں انہیں روشنیوں سے منور کیا جاتا ہے، اور مقامی نوجوان روایتی طور پر ان پر سواری کرتے ہیں۔ دیکھ بھال اب بھی ناعورہ سازی کے ماہر بڑھئیوں کے خاندانوں کے ذمے ہے۔[1][2][3][4]
نمایاں خصوصیات
تقریباً 500 سال تک المحمدیہ دنیا کا سب سے بلند پن چکّی پہیہ رہا، یہاں تک کہ 1854 میں آئل آف مین کے لیکسی وہیل نے معمولی فرق سے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔ 2006 میں امریکن سوسائٹی آف مکینیکل انجینئرز نے اسے تاریخی میکانکی انجینئرنگ کی یادگار (Historic Mechanical Engineering Landmark) قرار دیا۔ اس کا قطر مآخذ کے لحاظ سے مختلف ہے: 21 میٹر (انگریزی ویکیپیڈیا)، 22 میٹر (یونیسکو)، 27 میٹر (جرمن ویکیپیڈیا)۔
عربی نام “ناعورہ” ایک ایسے فعل سے ماخوذ ہے جس کا مطلب گونج دار آواز ہے، جو لکڑی کے موٹے دھروں کی کراہ کی وجہ سے ہے۔[1][2][3][4]
زمانی خاکہ
- 469
افامیا کا موزیک جس میں ایک ناعورہ دکھایا گیا ہے (جرمن ویکیپیڈیا 469 قبل مسیح بتاتا ہے)۔[2][3][4]
- 1157 کے بعد
ایک زلزلے کے بعد نور الدین پانی کے نظام اور ناعوروں کی مرمت کرواتے ہیں۔[3]
- 1361
- 1453
- 1960
الرستن ڈیم دریا کی سطح کم کر دیتا ہے؛ ناعورے مہینوں بیکار کھڑے رہتے ہیں۔[1]
- 1999
- 2006
المحمدیہ کو ASME کی تاریخی میکانکی انجینئرنگ کی یادگار قرار دیا جاتا ہے۔[1]
- 8 اگست 2014
گیلری
دستاویزی حالت
جزوی طور پر متاثر · 2020 تک
ایک غیر سرکاری ماخذ کے مطابق فروری 1982 میں حماہ پر شامی فوج کے حملے کے دوران لکڑی کے پہیے بڑے پیمانے پر نقصان سے بچ گئے؛ یہ طے نہیں ہو سکا کہ آیا آبی نالیاں اسی وقت منہدم کی گئیں۔ زیادہ تر ناعورے 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی سے بچ گئے: امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس کے دس مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر کے موازنے سے 2014 تک کوئی بڑا نقصان سامنے نہیں آیا۔ تاہم 8 اگست 2014 کو الجعبریہ ناعورے کے لکڑی کے پہیے کا بالائی حصہ جلا دیا گیا، جبکہ اس کی پتھر کی بنیاد بچ گئی؛ دیگر کی لکڑی اتار لی گئی یا وہ عدم توجہی کا شکار ہوئے۔ 2020 میں روایتی کاریگر المحمدیہ کی بحالی کر رہے تھے، جس میں فنڈز اور تربیت یافتہ کاریگروں کی کمی رکاوٹ تھی۔[1][2]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حماہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (12)
- Wikipedia (en): Norias of Hama rev. 1346724211 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Norias von Hama rev. 256074591 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): نواعير حماة rev. 76439895 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre, Tentative List: Les norias de Hama (1291) · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre · © UNESCO (link only) · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Das Quellenpaket enthält keinen Wikidata-Block; Identität, Lage und Klassifikation nur aus den Wikipedia-Artikeln und dem UNESCO-Tentativlisten-Eintrag (Nr. 1291, nicht eingeschrieben) abgeleitet. Quellenkonflikte: Durchmesser al-Muhammadiya 21 m (en) / 22 m (UNESCO) / 27 m (de); en schreibt al-Muhammadiya 120 Kästen zu, UNESCO der al-Maʾmuriya (21 m); Anzahl der erhaltenen Norias in der Stadt 17 (en, de, UNESCO) vs. 19 in fünf Gruppen (ar); Apameia-Mosaik 469 n. Chr. (ar, UNESCO) vs. 469 v. Chr. (de, vermutlich Fehler) vs. Norias „by 350 CE“ (en); de datiert die ältesten erhaltenen Norias ins 11.–12. Jh. und nennt dafür die Ayyubiden (zeitlich ungenau); Umdrehung al-Muhammadiya 1 Minute (en) vs. allgemein 20 Sekunden/2400 Liter (ar). Name der 2014 verbrannten Noria in de als „Gaabariyya“, hier als al-Jaʿbariya wiedergegeben (ar: الجعبرية) – Identität bitte prüfen. Die Angaben zu 1982 stammen laut en aus einer nicht näher genannten nichtstaatlichen Quelle; die politische Bewertung des en-Artikels wurde nicht übernommen. Restaurierungsstand nach 2020 unbekannt.