
ماری، شام: زمری لیم کے محل کی باقیات · تصویر: Heretiq · CC BY-SA 2.5 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2005
ماری
مقامی نام: مملكة ماري
ماری، موجودہ تل حریری، دریائے فرات کے مغربی کنارے پر، ابو کمال سے تقریباً 11 کلومیٹر شمال مغرب میں، کانسی کے دور کی ایک شہری ریاست تھی۔ تقریباً 2900 قبل مسیح میں ایک منصوبہ بند گول شہر کے طور پر قائم ہونے والا یہ شہر سومر اور لیونت کے درمیان تجارتی راستوں پر قابض رہا، یہاں تک کہ اٹھارہویں صدی قبل مسیح میں بابل کے حمورابی نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے محلات اور 20,000 سے زیادہ میخی تختیاں، جن کی کھدائی 1933 سے ہو رہی ہے، اسے شام اور میسوپوٹیمیا کی تاریخ کے لیے ایک کلیدی مقام بناتی ہیں۔
تاریخ
انگریزی ویکیپیڈیا اور یونیسکو کے مطابق ماری تقریباً 2900 قبل مسیح میں فرات کے آبی راستوں پر قابو پانے کے لیے ایک نئے شہر کے طور پر قائم ہوا؛ جرمن ویکیپیڈیا اس کی بنیاد کو غیر دستاویزی سمجھتا ہے۔ پہلا شہر (“Ville I”) تقریباً 2550 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات سے ترک کر دیا گیا، 2500 قبل مسیح سے پہلے دوبارہ تعمیر ہوا اور “دوسری سلطنت” کے طور پر مضبوط سومری ثقافتی قربت رکھنے والی ایک طاقتور ریاست بن گیا جس نے ایبلا کے ساتھ ایک طویل جنگ لڑی۔ تقریباً 2300 قبل مسیح میں (وسطی تاریخ وار ترتیب) اکاد کے سارگون نے شہر کو تباہ کیا۔
اکادی حکومت کے تحت بحالی کے بعد فوجی گورنروں (شکّنکّو) نے ماری پر حکومت کی اور اکادی سلطنت کے بکھرنے پر خود مختار ہو گئے۔ تقریباً 1830 قبل مسیح میں اموری لیم خاندان نے اقتدار سنبھالا؛ زمری لیم کے دور میں (تقریباً 1776 قبل مسیح سے) سلطنت خوب پھلی پھولی۔ بابل کے حمورابی نے تقریباً 1761 قبل مسیح میں انہیں شکست دی اور ایک بغاوت کے بعد شہر کو مسمار کر دیا؛ جرمن ویکیپیڈیا 1759 قبل مسیح (وسطی تاریخ وار ترتیب) بتاتا ہے۔ ماری بابلی اور آشوری حکومت کے تحت ایک چھوٹی بستی کے طور پر باقی رہا، یہاں تک کہ ہیلینی دور میں یہ دستاویزات سے غائب ہو گیا۔
یہ مقام 1933 میں اس وقت دریافت ہوا جب قبر کا پتھر تلاش کرنے کے لیے کھدائی کرتے بدوؤں کو ایک بے سر مجسمہ ملا؛ لوور کی ایک ٹیم نے 14 دسمبر 1933 کو کھدائی شروع کی۔ کھدائیوں کی قیادت آندرے پارو (1974 تک)، ژاں کلود مارگیرون (1979–2004) اور 2005 سے پاسکال بٹرلن نے کی؛ یونیسکو 42 مہمات شمار کرتا ہے۔[1][2][4][5]
مقام
پہلے شہر کا نقشہ بالکل گول تھا جس کا قطر تقریباً 1.9 کلومیٹر تھا (جرمن ویکیپیڈیا اور سلسلہ وار عارضی اندراج: تقریباً 2 کلومیٹر)، اسے ایک بیرونی سیلابی پشتے اور برجوں والی ایک اندرونی فصیل سے محفوظ کیا گیا تھا، اور یہ ایک نہر کے ذریعے فرات سے ملا ہوا تھا۔ مرکز میں محل اور مندر تھے، جن میں “Enceinte Sacrée” (مقدس احاطہ) اور ننہورساگ، عشتار اور شمش کے مندر شامل تھے؛ شکّنکّو کے دور میں داگان کے لیے ایک “شیروں کا مندر” شامل کیا گیا۔
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق زمری لیم کے محل میں 275 کمرے تھے؛ یونیسکو کی تفصیل 2.5 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ بتاتی ہے جس میں تقریباً 300 کمرے اور صحن ہیں اور کچی اینٹوں کی دیواریں چار سے پانچ میٹر تک بلند دیواری نقوش کے ساتھ محفوظ ہیں۔ یونیسکو کے مطابق تل، جو ایک دوسرے کے اوپر بنے تین شہروں سے بنا ہے، 14 ہیکٹر سے زیادہ پر پھیلا ہوا ہے اور 14.5 میٹر تک بلند ہے۔[1][2][4][5]
تاریخی استعمال اور اہمیت
تختیوں کے ذخائر – انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق کل 25,000 سے زیادہ تختیاں، جن میں سے 20,000 سے زیادہ تقریباً 1800–1750 قبل مسیح کے زمری لیم کے ذخیرے سے ہیں – انتظامیہ، سفارت کاری اور افغانستان اور کریٹ تک پہنچنے والے تجارتی جال کو دستاویزی شکل دیتے ہیں۔ سامی اور سومری دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی، جن کے مجمع الآلہہ کے سربراہ داگان تھے۔ دریافت شدہ اشیا لوور، حلب اور دمشق کے قومی عجائب گھروں اور دیر الزور کے عجائب گھر میں ہیں۔ ماری 1999 سے شام کی عارضی فہرست میں ہے اور دورا یوروپوس کے ساتھ ایک اور عارضی اندراج میں بھی شامل ہے۔[1][2][4][5]
زمانی خاکہ
دستاویزی حالت
شدید متاثر · 2022 تک
کھدائیاں 2011 سے معطل ہیں۔ یہ مقام مسلح گروہوں کے کنٹرول میں آ گیا؛ 2014 کی ایک سرکاری رپورٹ نے محل، حماموں اور عشتار اور داگان کے مندروں کو لٹیروں کے اہداف بتایا۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے محل میں سرنگیں کھودیں اور 2010 میں نصب کی گئی حفاظتی چھت کو دھماکے سے اڑا دیا؛ موسمِ بہار 2018 میں ماری کو ملک کا سب سے زیادہ لوٹا گیا مقام سمجھا جاتا تھا۔ انگریزی ویکیپیڈیا ریموٹ سینسنگ کے ایسے شواہد کی اطلاع دیتا ہے جو 2011 اور 2022 کے درمیان وسیع لوٹ مار کو ظاہر کرتے ہیں۔[1][2]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دیر الزور میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (24)
- Wikipedia (en): Mari, Syria rev. 1382056034 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Mari (Stadt) rev. 268997674 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): مملكة ماري rev. 75446194 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre, Tentative List: Mari (Tell Hariri) · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre, Tentative List: Mari and Europos-Dura · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre · © UNESCO (link only) · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Tentativliste 1999 nach en- und de-Wikipedia (Weblinks „Suggestion … in 1999“); Jahr des gemeinsamen Eintrags 5702 (Mari und Europos-Dura) im Paket nicht genannt; Titel des Eintrags 5702 aus dem Seiteninhalt erschlossen. Konflikte: Gründung um 2900 v. Chr. (en, UNESCO) vs. „Angaben nicht bekannt“ (de); UNESCO 1294 nennt widersprüchlich eine Gründung „au XVIIIe siècle“ (offensichtlicher Fehler, nicht übernommen); Zerstörung durch Hammurapi um 1761 (en) vs. 1759 v. Chr. (de; en: Aufstand 1759, danach Schleifung); Stadtdurchmesser 1,9 km (en, UNESCO 1294) vs. ca. 2 km (de, UNESCO 5702); Wall 6,7 m dick, 8–10 m hoch (en) vs. ca. 6 m / 8 m (UNESCO 5702); Palast 275 Räume (en) vs. ca. 300 Räume und Höfe (UNESCO 1294); Tafelzahl über 25.000 (en) vs. über 20.000 (de) vs. ca. 15.000 im Palast (UNESCO 1294). ar-Label lautet „مملكة ماري“ (Königreich Mari). Zustand: keine UNESCO-Zustandsbewertung im Paket; Status „heavily-damaged“ auf Basis von „am stärksten geplünderte Stätte“ (de) und flächigen Raubgrabungslöchern (en).