شامثقافت · ایمان · تاریخ
لجاہ بایوسفیئر ریزرو کی آتش فشانی چٹانی سلیں، شام۔

لجاہ بایوسفیئر ریزرو کی آتش فشانی چٹانی سلیں، شام۔ · تصویر: Anas Qtiesh · CC BY 2.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2009

نقشے پر واپس جائیں
فطرتجائزہ شدہ

لجات

مقامی نام: اللجاة

اسم المكان

اللجاة

محافظة السويداء – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى اللجاة في محافظة السويداء. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

32.96950, 36.45538

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

لجاہ (عربی: اللجاة، “پناہ گاہ”)، جو قدیم دور میں تراخونیتس کہلاتا تھا، جنوبی شام میں لاوے کا سب سے بڑا میدان ہے، جو دمشق سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب تا جنوب مشرق میں سہل حوران اور جبل الدروز کے درمیان واقع ہے۔ اس کے ناہموار بیسالٹی منظرنامے میں متعدد قدیم بستیاں ہیں، اور 2009 میں یونیسکو نے اسے شام کا پہلا حیاتیاتی کرّہ کا محفوظ علاقہ (بایوسفیئر ریزرو) قرار دیا۔

علاقہ یا منظر۔ نشان ایک حوالہ جاتی نقطہ دکھاتا ہے، سرحد نہیں۔

منظرنامہ

انگریزی اور جرمن ویکیپیڈیا اس کا رقبہ تقریباً 900 مربع کلومیٹر بتاتے ہیں؛ یہ جنوب میں 45 کلومیٹر لمبی ازرع–شہبا لکیر اور شمال میں براق کے گرد و نواح کے درمیان ایک مثلث بناتا ہے۔ اوسط بلندی 600 سے 700 میٹر ہے، اور بلند ترین آتش فشانی مخروط، جو شہبا کے بالکل مغرب میں ہے، 1,159 میٹر تک پہنچتا ہے۔ نوکیلے بیسالٹی پتھروں والے سرمئی، شکستہ لاوے کے میدان غالب ہیں؛ ان کے درمیان باریک مٹی والے نشیب (قاع) ہیں، جہاں دیہات کے کھیت ہیں۔

چشمے کم ہیں؛ پانی زیادہ تر حوضوں میں جمع کیا جاتا ہے، اور گرمیوں میں قلت شدید ہوتی ہے۔ عربی ویکیپیڈیا بیسالٹ کی تہ کو جبل العرب، خاص طور پر تل شیحان، کے آتش فشانی پھٹاؤ سے منسوب کرتا ہے۔[1][2][3]

تاریخ

یہ علاقہ عبرانی بائبل میں ارگوب اور لوقا کی انجیل میں تراخونیتس (“ناہموار علاقہ”) کے نام سے آتا ہے۔ 27 قبل مسیح تک روم نے اسے ہیرودیس اعظم کو دے دیا تھا، جنہوں نے وہاں 3,000 ادومیوں کو آباد کیا؛ 4 قبل مسیح میں ان کی وفات کے بعد یہ فلپ ٹیٹرارک کے پاس، تقریباً 34 عیسوی میں صوبۂ شام کے پاس اور ٹراجن کے دور میں صوبۂ عرب کے پاس گیا۔ ایک رومی سڑک اس علاقے سے گزرتی تھی، اور پہلی سے چوتھی صدی کے درمیان تھیٹروں، ستون دار راستوں اور مندروں والے قصبے آباد ہوئے، جن میں فلپوپولس (شہبا) اور زوراوا (ازرع) شامل ہیں۔ بازنطینی دور میں تعمیری سرگرمی میں تیزی آئی؛ زوراوا میں 515 میں مقدس جارج کی شہیدگاہ نے مندر کی جگہ لی۔

اللجاة کا نام پہلی بار قرونِ وسطیٰ میں درج ہوا؛ تیرہویں صدی میں منگول حملوں سے فرار ہونے والے پناہ گزینوں نے علاقے کو دوبارہ آباد کیا۔ سترہویں صدی تک یہ بڑی حد تک ویران ہو چکا تھا اور سلوط بدو اسے چراگاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دروز آبادکار اٹھارہویں صدی کے اواخر سے اور خاص طور پر 1860 کے بعد آئے، جس کے نتیجے میں 1868 میں سلوط کے ساتھ لڑائی ہوئی۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 2011 کے آخر میں مسلح حزبِ اختلاف کے گروہ اللجاة میں پیچھے ہٹ گئے، اور مارچ 2012 میں فوج نے علاقے میں ایک حملہ شروع کیا۔[1][2][3]

اہمیت

انگریزی ویکیپیڈیا تقریباً بیس مقامات پر رومی، کم از کم تیس پر بازنطینی اور کم از کم تیرہ پر اسلامی دور کے کھنڈرات شمار کرتا ہے؛ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق فرانسیسی مشنوں نے 2003 اور 2007 کے درمیان تقریباً 700 آثارِ قدیمہ کے مقامات درج کیے۔ آج مرکز اور مشرق میں دروز اور مغربی کنارے کے دیہات میں مسلمان اور ملکائی مسیحی رہتے ہیں؛ زیادہ تر دیہات قدیم کھنڈرات کے درمیان واقع ہیں۔

31 مئی 2006 کے ایک وزارتی فرمان نے اللجاة کو محفوظ علاقہ قرار دیا، اور مئی 2009 میں یونیسکو نے اسے شام کا پہلا – اور عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اب تک واحد – بایوسفیئر ریزرو قرار دیا۔[1][2][3][4]

زمانی خاکہ

  1. 27 قبل مسیح

    27 قبل مسیح تک روم تراخونیتس ہیرودیس اعظم کو دے چکا ہے۔[1]

  2. تقریباً 34

    فلپ کی وفات کے بعد علاقہ صوبۂ شام میں شامل کیا جاتا ہے۔[1]

  3. 515

    مقدس جارج کی شہیدگاہ زوراوا (ازرع) کے مندر کی جگہ لیتی ہے۔[1]

  4. 1868

    دروز آبادکاروں اور سلوط بدوؤں کے درمیان لڑائی۔[1][2]

  5. 2006

    31 مئی کا وزارتی فرمان نمبر 144/T اللجاة کو محفوظ علاقہ قرار دیتا ہے۔[3]

  6. مئی 2009

    شام کا پہلا یونیسکو بایوسفیئر ریزرو قرار دیا جاتا ہے۔[1][3][4]

دستاویزی حالت

موجودہ حالت دستاویزی نہیں

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

اس صوبے کے لیے اس زمرے میں کوئی سروس دستاویزی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی موجود نہیں۔

محافظہ السویداء کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • خلخلہ ہیلتھ سینٹرہسپتال · 13 kmراستہ
  • شہباء کا ہسپتالہسپتال · 20 kmراستہ
  • مشفى إزرع الوطنيکلینک / صحت مرکز · 24 kmراستہ
  • مستشفى الصنمين الوطنيہسپتال · 29 kmراستہ
  • مشفى الحراكہسپتال · 29 kmراستہ
  • السلام ہسپتالہسپتال · 30 kmراستہ
ماخذ (14)
  1. Wikipedia (en): Lajat rev. 1373927312 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Ledja rev. 256334213 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): اللجاة rev. 76281240 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. Wikidata: Q22806740 (Lajat (Biosphärenreservat)) · CC0 1.0 · 2026-10-30
  5. Wikidata · CC0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  8. Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  12. Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  13. Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  14. Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Flächenkonflikt: 900 km² (en, de) vs. 2400 ha bzw. 2000 ha (ar, offenbar mit der Schutzgebietsfläche vermischt; ar nennt zugleich Zonen von 2031, 1752 und 8255 ha und ein Dreieck mit ~30 km Seitenlänge bzw. 60 × 17 km). Höchster Punkt 1159 m (en) vs. Tell Schihan 1140 m (ar); mittlere Höhe 600–700 m (en) vs. 800 m (ar). Entfernung Damaskus „südöstlich“ (en-Einleitung) bzw. „südlich“ (en-Geographie, ar). Q22806740 ist das Biosphärenreservat (P31 Q158454, eigene Koordinate 32.9948, 36.5063) – deckt sich nicht zwingend mit der Landschaft, daher relatedTo. UNESCO-Aufnahme belegt durch en/ar-Wikipedia; keine UNESCO-Quelle im Pack (MAB-Seite sollte ergänzt werden). Nicht übernommen: ar-Angaben mit offensichtlichen Datierungsfehlern (z. B. Alexander „1383 v. Chr.“, Hasael „1500 v. Chr.“), Besiedlung „seit 7000 v. Chr.“ (ausdrücklich unbelegt), Zahl der Kandidaten (26 vs. 32). Ereignisse 2011/2012 nur nach ar-Wikipedia, neutral verkürzt.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟