
شام میں زیتون کے باغات – صوبہ حلب کے ضلع عفرین کی پہاڑیوں میں زیتون کے درخت۔ · تصویر: عمرو بن كلثوم · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2005
جبل الاکراد
مقامی نام: جبل الأكراد
کرد پہاڑ یا کرد داغ شمال مغربی شام اور جنوب مشرقی ترکی میں ایک پہاڑی خطہ ہے، جو صوبہ حلب سے صوبہ کلس تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا مرکزی قصبہ عفرین ہے، اور یہ علاقہ زیتون کی کاشت کے لیے مشہور ہے۔ اسے صوبہ لاذقیہ کے جبل الاکراد سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
منظرنامہ
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ بالائی علاقہ شمال مغربی شام کے چونے کے پتھر کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے، جو مغربی عینتاب سطح مرتفع کے بالائی علاقوں کو جنوب کی طرف جاری رکھتا ہے؛ جرمن اور عربی ویکیپیڈیا اسے کوہِ ثور (ٹورس) کے نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ وادیٔ عفرین اسے مشرق اور جنوب سے گھیرے ہوئے ہے، جو اسے اعزاز کے میدان اور جبل سمعان سے الگ کرتی ہے؛ مغرب میں دریائے اسود کی وادی اسے امانوس سے جدا کرتی ہے۔ بلندیاں 700 سے 1,269 میٹر تک ہیں۔ عربی ویکیپیڈیا اس کی چوڑائی 55 کلومیٹر اور لمبائی 75 کلومیٹر بتاتا ہے، یعنی تقریباً 3,850 مربع کلومیٹر یا شام کے رقبے کا تقریباً 2%۔
آب و ہوا بحیرۂ روم کی ہے، گرم گرمیوں اور سرد، مرطوب سردیوں کے ساتھ؛ عربی ویکیپیڈیا عفرین کے علاقے میں اوسط سالانہ بارش 546.6 ملی میٹر بتاتا ہے۔ یہ خطہ عربی پلیٹ کے شمال مغربی کنارے پر واقع ہے؛ 13 اگست 1822 کو تقریباً 7.3 شدت کے ایک زلزلے کا مرکز کرد داغ تھا، جس کے بعد 1872 میں عفرین کے علاقے کے جنوبی کنارے پر ایک اور زلزلہ آیا۔[1][2][3]
تاریخ
شرف نامہ کے مطابق کلس کے کرد امرا اس علاقے پر حکومت کرتے تھے۔ یہ پہلی عالمی جنگ تک عثمانی سلطنت کا حصہ رہا اور انیسویں صدی کے وسط تک اسے کسی حد تک خود مختاری حاصل تھی۔ فرانسیسی انتداب کی سرحدوں نے اسے تقسیم کر دیا: شمال ترکی کو ملا، جنوب فرانسیسی انتظام کے تحت رہا۔ ریاستِ حلب میں کرد داغ کی قضا کی آبادی 1922 میں 21,823 تھی؛ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق یہ علاقہ 1946 میں آزاد شام کا حصہ بنا۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 1930 کی دہائی میں درسیم سے فرار ہونے والے کرد علوی مابیتا میں آباد ہوئے۔
کرد داغ کا نام جبل الاکراد کی عثمانی صورت ہے۔ مآخذ کے مطابق شامی حصے کو بعد میں عفرین کہا گیا، 1977 میں فرمان 15801 کے ذریعے اس کا نام “جبل العروبہ” رکھا گیا اور بعد میں “جبل حلب”؛ ترک حصے کا سرکاری نام Kurt Dağı (“بھیڑیے کا پہاڑ”) ہے۔[1][2][3]
اہمیت
آبادی زیادہ تر کرد ہے؛ اکثریت حنفی مسلک کے سنی مسلمانوں کی ہے، اور یزیدی بھی موجود ہیں۔ سب سے اہم فصل زیتون ہے، عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 1.3 کروڑ سے زیادہ درختوں کے ساتھ، اس کے علاوہ اناج، سبزیاں، کپاس اور پھل۔ روایتی پیشوں میں زیتون کا تیل اور صابن سازی اور ہاتھ سے بنے قالین شامل ہیں؛ انگریزی ویکیپیڈیا لکڑی کے کوئلے کی پیداوار کا بھی ذکر کرتا ہے۔ جنگلات، جو زیادہ تر صنوبر اور سرو کے ہیں، صوبہ حلب کے سب سے بڑے جنگلات بتائے جاتے ہیں۔[1][2][3]
زمانی خاکہ
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حلب میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (8)
- Wikipedia (en): Kurd Mountain rev. 1369424275 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Kurd Dagh rev. 268478862 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): جبل الأكراد rev. 75057975 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
Abgrenzung zu Dschabal al-Akrad (Latakia) laut en beachtet. Zuordnung: en Kalksteinmassiv/Aintab-Plateau vs. de/ar Taurus – beide genannt. Ausdehnung: ar 55 × 75 km und 3850 km² (de ebenfalls 3850 km²); ar nennt an anderer Stelle ca. 100 km Länge und 25–45 km Breite der Höhenzüge – nicht übernommen. Höchster Gipfel: de „Greh Mahsn“, ar „der Große Berg“ (1269 m) – Name nicht übernommen. Umbenennungen nach en/ar; die Bewertung der Namenspolitik (en: Verbot kurdischer Namen; de: „verballhornt“) wurde neutral auf die dokumentierten Fakten reduziert. Ereignisse nach 2011 sind in den Quellen nur angedeutet (Sufi-Gemeinde „vor dem Bürgerkrieg“) und nicht dargestellt. Leere Zensusabschnitte 1994/2001/2004–05 im ar-Pack.