شامثقافت · ایمان · تاریخ
تل قینی

تل قینی · تصویر: KFZI310 at English Wikipedia · Public domain · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2007

نقشے پر واپس جائیں
فطرتجائزہ شدہ

جبل الدروز

اسم المكان

جبل الدروز

محافظة السويداء – سوريا

مرحبًا، أريد الذهاب إلى جبل الدروز في محافظة السويداء. هل يمكنك إيصالي إلى هذا المكان؟

32.66667, 36.73333

کوآرڈینیٹس اٹلس میں درج مقام کے ہیں؛ داخلی راستہ کہیں اور ہو سکتا ہے۔ جانے سے پہلے مقامی طور پر تصدیق کر لیں۔

Google MapsOpenStreetMap

جبل الدروز (“دروزیوں کا پہاڑ”)، جسے جبل العرب یا جبل حوران بھی کہا جاتا ہے، جنوبی شام کے صوبہ سویداء میں ایک بلند آتش فشانی خطہ ہے۔ اکثر باشندے دروز ہیں، اور وہاں مسیحیوں کی قابلِ ذکر برادریاں بھی ہیں۔ 1921 سے 1936 تک یہ علاقہ جبل دروز ریاست تھا، جو فرانسیسی انتداب کی ایک خود مختار اکائی تھی۔

علاقہ یا منظر۔ نشان ایک حوالہ جاتی نقطہ دکھاتا ہے، سرحد نہیں۔

منظرنامہ اور ارضیات

یہ آتش فشانی میدان شام کا سب سے جنوبی آتش فشانی میدان ہے اور اردن کی سرحد کے قریب حوران–دروز سطح مرتفع پر واقع ہے۔ یہ 118 بیسالٹی آتش فشانوں پر مشتمل ہے جو زیریں پلائسٹوسین سے ہولوسین تک فعال رہے؛ شمال مغرب سے جنوب مشرق کی سمت میں قطار بند آتش فشانوں سے بہنے والا لاوا سطح مرتفع کے ایک بڑے نشیب کو بھرتا ہے۔ یہ میدان قلوی (الکلائن) نوعیت کے حرۃ الشام آتش فشانی میدان کا حصہ ہے، جو سعودی عرب تک پھیلا ہوا ہے۔

بلند ترین چوٹی 1,803 میٹر بلند تل قینی ہے، اس کے بعد تل جوالین (1,732 میٹر) اور تل سلیمان (1,703 میٹر)؛ عربی ویکیپیڈیا 1,809 میٹر سے زیادہ بلند چوٹیوں کا ذکر کرتا ہے۔ یہاں “تل” سے مراد آتش فشانی مخروط ہے۔ سردیوں میں برف پڑتی ہے؛ جرمن ویکیپیڈیا ان پہاڑوں کو اب معدوم شامی جنگلی گدھے کی غالباً آخری پناہ گاہ قرار دیتا ہے۔[1][2][3]

تاریخ

عربی ویکیپیڈیا کے مطابق یونانی، رومی اور بازنطینی ادوار میں اس پہاڑ کو اسلدموس کہا جاتا تھا اور ابتدائی اسلامی دور سے عباسیوں کے خاتمے تک جبل الریان (“زرخیز زمین”)۔ صفائی کتبات سب سے پہلے اسی علاقے میں دریافت ہوئے۔ مرج دابق کی جنگ کے بعد (جسے ماخذ 1515 کا بتاتا ہے) حمدان کے خاندان سویداء اور شہبا میں آباد ہوئے؛ دروز قبائل 1707 میں لبنان کی ایک خانہ جنگی کے دوران آنا شروع ہوئے۔

سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارہویں صدی کے اوائل سے یہ علاقہ “جبل الدروز” کے نام سے جانا جاتا رہا، یہاں تک کہ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 1937 میں اسے “جبل العرب” کا نام دیا گیا۔ اس کے باشندوں نے فرانسیسی انتداب کے خلاف عظیم شامی بغاوت میں حصہ لیا۔ ماضی میں جبل الدروز کا نام کوہِ لبنان کے ایک علاقے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔[1][2][3]

اہمیت

صوبہ سویداء تقریباً پورے پہاڑ پر محیط ہے اور شام کا واحد صوبہ ہے جس میں دروز اکثریت میں ہیں۔ 1980 کی دہائی میں آبادی میں 87.6% دروز، 11% مسیحی (زیادہ تر یونانی آرتھوڈوکس) اور 2% سنی مسلمان تھے؛ 2010 میں صوبے کی آبادی تقریباً 375,000 تھی، جن میں 90% دروز، 7% مسیحی اور 3% سنی تھے۔ کم شرحِ پیدائش اور زیادہ ہجرت کی وجہ سے مسیحیوں کا تناسب کم ہوا ہے۔

عربی ویکیپیڈیا پورے پہاڑ کو ایک آثارِ قدیمہ کا علاقہ قرار دیتا ہے جس میں رومی، بازنطینی اور نبطی ادوار کے سیکڑوں مقامات ہیں، جن میں مندر، گرجا، حوض، انگور نچوڑنے کے کولہو، خانقاہیں اور پختہ گلیاں شامل ہیں۔ انگور کی کاشت سب سے اہم فصل ہے، اس کے ساتھ سیب، ناشپاتی، گندم اور جو۔[1][3][4]

زمانی خاکہ

  1. 1707

    لبنان میں ایک خانہ جنگی کے دوران دروز قبائل پہاڑ کی طرف ہجرت شروع کرتے ہیں (عربی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[3]

  2. 1921–1936

    جبل دروز ریاست، فرانسیسی انتداب کی ایک خود مختار اکائی۔[1][2]

  3. 1937

    نام بدل کر “جبل العرب” رکھا جاتا ہے (عربی ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[3]

  4. 2010

    صوبہ سویداء: تقریباً 375,000 باشندے، 90% دروز۔[1]

دستاویزی حالت

موجودہ حالت دستاویزی نہیں

زیارت

زیارت سے متعلق کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں۔ اٹلس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مقام کھلا ہے یا وہاں جانا محفوظ ہے۔

یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا

اس صوبے کے لیے اس زمرے میں کوئی سروس دستاویزی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی موجود نہیں۔

محافظہ السویداء کے لیے تمام سفری خدمات

قریبی طبی سہولیات

اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔

  • زید الشریٹی ہسپتالہسپتال · 15 kmراستہ
  • بلڈ بینکہسپتال · 15 kmراستہ
  • المزرعہ ہسپتالہسپتال · 16 kmراستہ
  • المزرعہ ہسپتال (Al mazraa)ہسپتال · 16 kmراستہ
  • العنایہ الخاصہ ہسپتالہسپتال · 16 kmراستہ
  • السلام ہسپتالہسپتال · 17 kmراستہ
ماخذ (17)
  1. Wikipedia (en): Jabal al-Druze rev. 1382260042 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  2. Wikipedia (de): Dschabal ad-Duruz rev. 252983621 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  3. Wikipedia (ar): جبل حوران rev. 76792568 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  4. Wikidata: Q1262056 (Jabal al-Druze) · CC0 1.0 · 2026-10-30
  5. Wikipedia (el) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  6. Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  7. Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  8. Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  9. Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  10. Wikipedia (ja) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  11. Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  12. Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  13. Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  14. Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  15. Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  16. Wikipedia (ur) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
  17. OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
جائزہ شدہ · آخری جانچ: 2026-10-30. حوالہ دیے گئے ماخذ کے مطابق ہر خانے کا الگ الگ جائزہ لیا گیا (AI کی مدد سے ادارت)۔ ماہرین کی منظوری باقی ہے۔
Höhenangaben: Tell Qeni 1803 m (en/de), en-Geologie „1800 m hoher Jabal al-Druze“, ar „mehr als 1809 m“. Christliche Gemeinde: de „klein“, en/ar „bedeutend/groß“. Mardsch Dabiq ist in ar mit 1515 datiert (Datum nur zugeschrieben, nicht korrigiert). Datum der Beteiligung am Großen Syrischen Aufstand nennt die Quelle nicht. Die Namensherleitung „Dschabal al-Arab“ über Stammesbündnisse (ar) nicht übernommen, da unbelegt. Relation partOf Q8539961 aus Wikidata P361; Label „Harrat asch-Scham“ aus den Texten erschlossen (Wikidata-Label nicht im Pack). Ereignisse nach 2011 sind in den Quellen nicht dargestellt.

آپ کی رائے اہم ہے

تجاویز، شکایات اور رائے

کوئی خیال، شکایت یا غلطی ملی؟ ہمیں لکھیں – آپ کا پیغام براہِ راست سائٹ چلانے والے تک پہنچتا ہے۔

کس بارے میں؟