
کیل پہاڑ کا دور سے منظر · تصویر: NowhereLady · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2020
جبل الاقرع
مقامی نام: الجبل الأقرع
جبل الاقرع (ترکی: Kel Dağı، “گنجا پہاڑ”)، جو قدیم دور میں کاسیوس یا کوہِ کاسیوس کہلاتا تھا، دریائے عاصی کے دہانے کے قریب شام–ترکی سرحد پر 1,736 میٹر بلند چونے کے پتھر کا ایک پہاڑ ہے۔ حزّی، صفانو اور صفون کے ناموں سے یہ ہزاروں سال تک طوفان کے دیوتاؤں کا مقدس پہاڑ رہا۔
منظرنامہ اور محلِ وقوع
انگریزی اور جرمن ویکیپیڈیا اس پہاڑ کو شام–ترکی سرحد پر رکھتے ہیں۔ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق شامی حصہ صوبہ لاذقیہ میں آرمینیائی اثر والے قصبے کسب کے علاقے میں اور ترک حصہ صوبہ ہاتائے کے ضلع یایلاداغی میں ہے۔ عربی ویکیپیڈیا اسے لواءِ اسکندرون کے انتہائی جنوب مغرب میں رکھتا ہے، جسے وہ اب ایک ترک صوبہ اور 1939 تک شامی علاقہ بتاتا ہے۔
پہاڑ ایک تنگ ساحلی میدان سے بلند ہوتا ہے، ملاحوں کے لیے نشانی کا کام دیتا ہے اور گرج چمک کے طوفانوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ گھنے جنگلات کے لیے مشہور علاقے میں یہ اپنی دشوار زمین کی وجہ سے درختوں سے خالی ہے۔ اوگاریت انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 30 کلومیٹر جنوب میں، جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق تقریباً 40 کلومیٹر جنوب میں ہے۔[1][2][3]
تاریخ
حوری اور حتی اس پہاڑ کو حزّی کہتے تھے اور اسے طوفان کے دیوتا تیشوب کا مسکن سمجھتے تھے؛ حتی معاہدوں میں اسے ایک الٰہی ضامن کے طور پر پکارتے تھے۔ اوگاریت میں صفانو کی چوٹی کو طوفان کے دیوتا بعل کے محل کا مقام سمجھا جاتا تھا؛ 677 قبل مسیح میں صور کے ایک بادشاہ نے آشور کے ساتھ ایک معاہدے میں بعل صفون کو گواہ کے طور پر پکارا۔ عبرانی بائبل میں یہ پہاڑ صفون کے نام سے آتا ہے، اور عبرانی میں “شمال” کا لفظ اسی کے نام سے ماخوذ ہے۔
یونانیوں نے اس نام کو کاسیوس کی صورت دی، اور یہ پرستش زیوس کاسیوس کو منتقل ہو گئی، جس کی جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق وہاں چوتھی صدی تک پوجا ہوتی رہی۔ سلوقس اول نے سلوقیہ کی بنیاد رکھتے وقت یہاں زیوس سے رجوع کیا۔ ٹراجن 114/115 عیسوی میں انطاکیہ کے ایک بڑے زلزلے سے بچ گئے؛ ہیڈرین 130 عیسوی میں اور جولیان موسمِ بہار 363 میں پہاڑ پر چڑھے۔ ان کے بعد مسیحی تارکِ دنیا آئے: برلام نے مشرقی ڈھلوانوں پر ایک خانقاہ قائم کی، اور شمعون ستون نشین اصغر اس کے شمالی پہلو کے قریب ایک ستون پر چالیس سال تک کھڑے رہے، یہاں تک کہ 592 میں ان کی وفات ہوئی۔[1][2][3]
اہمیت
عبادت کا مقام راکھ اور ملبے کا ایک ٹیلہ ہے جو 55 میٹر چوڑا اور 7.9 میٹر گہرا ہے، جس کے صرف اوپری 1.8 میٹر کی کھدائی ہوئی ہے۔ کھدائی ہیلینی تہوں تک پہنچی، پھر روک دی گئی کیونکہ یہ مقام ایک ترک فوجی علاقے میں ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 2012 میں چوٹی پر ایک ترک فوجی اڈہ بنائے جانے کے بعد سے باقیات کو تباہ شدہ سمجھا جاتا ہے۔[1]
زمانی خاکہ
- 677 قبل مسیح
صور کے ایک بادشاہ آشور کے ساتھ ایک معاہدے پر بعل صفون کو گواہ کے طور پر پکارتے ہیں۔[1]
- 114/115
ٹراجن انطاکیہ کے زلزلے سے بچ جاتے ہیں؛ یادگاری سکوں پر زیوس کاسیوس کا معبد دکھایا گیا ہے۔[1]
- 130
- 363
شہنشاہ جولیان پہاڑ پر چڑھتے ہیں اور معبد کی زیارت کرتے ہیں۔[1][2]
- 592
شمالی پہلو پر ایک ستون پر چالیس سال گزارنے کے بعد شمعون ستون نشین اصغر کی وفات۔[1]
- 2012
چوٹی پر ترک فوجی اڈے کی تعمیر؛ عبادت گاہ کی باقیات کو تباہ شدہ سمجھا جاتا ہے۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2012 تک
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ اللاذقیہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ڈیٹا میں 30 کلومیٹر کے اندر کوئی ہسپتال نہیں۔
ماخذ (12)
- Wikipedia (en): Jebel Aqra rev. 1382322743 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Keldağ rev. 258197283 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): الجبل الأقرع rev. 67975174 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
Grenzlage wie in den Quellen wiedergegeben: en/de „an der syrisch-türkischen Grenze“ (de: syrischer Teil Kessab/Latakia, türkischer Teil Yayladağı/Hatay); ar: im Südwesten des Liwa Iskenderun, „bis 1939 syrisch“ – nur zugeschrieben, keine eigene Bewertung. Namen: Wikidata-Label en „Hazzi“, en-Wikipedia-Titel „Jebel Aqra“ (verwendet); de-Label/Titel „Keldağ“. Widersprüche: Entfernung nach Ugarit 30 km (en) vs. ca. 40 km (de); Hadrian: en Besteigung bei Nacht, Blitz traf Opfertier; de nach Historia Augusta Sturm verhinderte Sonnenaufgangsbeobachtung (nur die Besteigung 130 übernommen). Höhe 1736 m nach de/ar (en ohne Angabe). Der „südliche Kasion“ am Sirbonischen See (de) ist ein anderer Berg und nicht Teil dieses Eintrags. Zustand der Kultstätte nur als Vermutung („presumed“) belegt.