
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے، جو 263 میل کی بلندی پر گردش کر رہا تھا، لی گئی اس تصویر میں دریائے فرات شام میں بحیرۂ اسد سے گزرتا ہے۔ · تصویر: NASA · Public domain · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2021
فرات جھیل
مقامی نام: بحيرة الفرات
جھیل فرات، جسے جھیل طبقہ بھی کہا جاتا ہے اور جو پہلے بحیرۂ اسد کہلاتی تھی، صوبہ رقہ میں دریائے فرات پر ایک آبی ذخیرہ ہے۔ یہ 1974 میں فرات (طبقہ) ڈیم کی تکمیل پر وجود میں آئی اور شام کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ آبپاشی، حلب کو پینے کے پانی کی فراہمی اور ماہی گیری کی صنعت کے کام آتی ہے۔
منظرنامہ
انگریزی ویکیپیڈیا زیادہ سے زیادہ گنجائش 11.7 مکعب کلومیٹر بتاتا ہے لیکن زیادہ سے زیادہ سطحی رقبے کے دو مختلف اعداد (525 مربع کلومیٹر اور 610 مربع کلومیٹر) دیتا ہے؛ اصل گنجائش اس سے کہیں کم، 9.6 مکعب کلومیٹر ہے، اور سطحی رقبہ 447 مربع کلومیٹر۔ عربی ویکیپیڈیا زیادہ سے زیادہ گنجائش 14.1 مکعب کلومیٹر بتاتا ہے۔
مغربی کنارہ ایک اہم دلدلی علاقے میں تبدیل ہو گیا ہے؛ جنوب مشرقی کنارے پر علاقوں میں سدا بہار درختوں سے دوبارہ شجرکاری کی گئی ہے، جن میں حلبی صنوبر اور فراتی سفیدہ (پاپلر) شامل ہیں۔ یہ جھیل نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے موسمِ سرما گزارنے کی ایک اہم جگہ ہے؛ 2004 سے پہلے حکومت نے رسائی کی سڑکوں کا درجہ گھٹا کر کنارے کے کچھ حصوں کو شکاریوں سے محفوظ کیا۔ جزیرۃ الثورہ ایک قدرتی محفوظ علاقہ ہے۔[1][3]
تاریخ
شامی فرات پر ڈیم کے پہلے منصوبے 1927 کے ہیں۔ 1957 میں شام نے سوویت یونین کے ساتھ تکنیکی اور مالی امداد پر اتفاق کیا، جس کے بعد 1960 میں مغربی جرمنی کے ساتھ ایک مالیاتی معاہدہ اور 1965 میں سوویت یونین کے ساتھ ایک اور معاہدہ ہوا۔ ڈیم 1968 اور 1973 کے درمیان تعمیر ہوا؛ آبی ذخیرے کو بھرنے کا عمل 1974 میں دریا کا بہاؤ کم کر کے شروع ہوا۔ یہ منصوبہ صدر حافظ الاسد کے دور میں ان کی جدیدیت کی پالیسیوں اور زرعی اصلاحات کے حصے کے طور پر مکمل ہوا۔ 1975 میں عراق نے شکایت کی کہ بہاؤ قابلِ قبول سطح سے نیچے گر گیا ہے اور ڈیم پر بمباری کی دھمکی دی؛ سعودی عرب اور سوویت یونین کی ثالثی سے تنازع طے پایا۔
زیرِ آب آنے سے پہلے 1963 سے 1974 تک بچاؤ کی کھدائیوں کا ایک بین الاقوامی پروگرام متاخر نطوفی سے عثمانی دور تک کے مقامات پر جاری رہا، جن میں تل ابو ہریرہ، ایمار، حبوبہ کبیرہ، مریبط، تل السویحات، تل فرای اور دبسی فرج شامل ہیں۔ قلعہ جعبر کو، جس کی پہاڑی کی چوٹی جزیرہ بن گئی، ایک حفاظتی ڈھلوان پشتہ دیا گیا، اور مریبط اور مسکنہ کے دو مینار سیلابی علاقے سے باہر منتقل کیے گئے۔
خانہ جنگی کے دوران پانی کی سطح نمایاں طور پر گر گئی، ممکنہ طور پر اس لیے کہ بجلی گھر فرات کی فراہمی سے زیادہ پانی استعمال کر رہا تھا۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق مئی 2026 میں سطح 97% تک پہنچ گئی، جو کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی تھی، جس سے نیچے کی طرف صوبہ رقہ اور صوبہ دیر الزور میں سیلاب آیا۔[1][2]
اہمیت
اس منصوبے کا مقصد دونوں کناروں پر 640,000 ہیکٹر کو سیراب کرنا تھا۔ جپسم سے بھرپور زمینوں، نمکینی، منہدم ہوتی نہروں اور کسانوں کی دوبارہ آباد ہونے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے 1984 میں صرف 60,000 ہیکٹر سیراب ہوئے؛ 2000 تک یہ تعداد بڑھ کر 124,000 ہیکٹر ہو گئی، جو منصوبے کا 19% ہے۔ ایک پائپ لائن جھیل سے حلب کو سالانہ 8 کروڑ مکعب میٹر پینے کا پانی فراہم کرتی ہے۔[1][2]
زمانی خاکہ
- 1927
- 1957–1965
سوویت یونین (1957، 1965) اور مغربی جرمنی (1960) کے ساتھ مالیاتی معاہدے۔[1][2]
- 1963–1974
مستقبل کے آبی ذخیرے کے علاقے میں بین الاقوامی آثارِ قدیمہ کی بچاؤ کھدائیاں۔[1]
- 1968–1973
- 1974
- 1975
دریا کے بہاؤ پر عراق سے تنازع، جو سعودی اور سوویت ثالثی سے طے ہوا۔[1][2]
- 2000
124,000 ہیکٹر سیراب – منصوبہ بند رقبے کا 19%۔[1]
- مئی 2026
پانی کی سطح 97% تک پہنچتی ہے؛ نیچے کی طرف سیلاب۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ الرقہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
- مركز دبسي فرج الصحيہسپتال · 14 kmراستہ
ماخذ (16)
- Wikipedia (en): Euphrates Lake rev. 1365991913 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): بحيرة الفرات rev. 74858630 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata: Q979315 (Euphrates Lake) · CC0 1.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ko) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (pt) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (sv) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
Zahlenkonflikte: maximale Fläche 525 km² (en-Einleitung) vs. 610 km² (en-Abschnitt Characteristics); maximale Kapazität 11,7 km³ (en) vs. 14,1 km³ (ar, mit fehlerhafter Umrechnung „2,8 mi³“). Dammname wechselt zwischen Euphrat-Damm und Tabqa-Damm (gleiches Bauwerk laut Quellen). Der Pegelstand Mai 2026 stammt nur aus en-Wikipedia. Kein de-Artikel im Pack; deutscher Name nach Wikidata-Label. Als „region“ (See als Landschaft) eingeordnet; der Damm selbst wäre ein eigener Infrastruktur-Eintrag. Das Datum der Umbenennung von „Assad-See“ nennt keine Quelle.