
رقہ (شام) میں عباسی “باب بغداد” (آٹھویں صدی)۔ · تصویر: http://en.wikipedia.org/wiki/Image:ArRaqqahBadBaghdad.jpg · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons
رافقہ کی فصیل اور باب بغداد
مقامی نام: سور الرقة وباب بغداد
الرافقہ کی فصیلیں اس عباسی فوجی شہر کو گھیرے ہوئے تھیں جس کی تعمیر 772 میں دریائے فرات پر پرانے رقہ کے ساتھ شروع ہوئی؛ ان کا نعل نما نقشہ بغداد کے نمونے کی پیروی کرتا ہے۔ گول برجوں والی فصیل کا ایک بڑا حصہ، جزوی طور پر بحال شدہ، باقی ہے۔ جنوب مشرقی کونے پر باب بغداد بعد کا ڈھانچہ ہے، غالباً بارہویں صدی کا۔
تاریخ
انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق عباسی خلیفہ المنصور نے 770–1 میں بازنطیم کے مقابلے کے لیے رقہ کے مغرب میں ایک نیا فوجی شہر بنانے کا فیصلہ کیا؛ تعمیر 772 میں ان کے بیٹے المہدی کی نگرانی میں شروع ہوئی اور کم از کم 774–5 تک جاری رہی۔ جرمن ویکیپیڈیا فصیل کو 771–775 کا بتاتا ہے۔ طبری کے مطابق الرافقہ (“ساتھی”) بغداد کے نقشے پر بنایا گیا، لیکن یہ چھوٹا، زیادہ مضبوطی سے قلعہ بند اور گول کے بجائے نعل نما تھا۔
796 سے ہارون الرشید رقہ/الرافقہ میں مقیم رہے، جو 808 تک (انگریزی ویکیپیڈیا: 809) عملاً عباسی خلافت کا دارالحکومت تھا؛ جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق انہوں نے 796 اور 806 کے درمیان ایک بیرونی فصیل کا اضافہ کیا۔ 884–5 میں یہاں آنے والے السرخسی نے فصیلوں کے کچھ حصے کھنڈر پائے۔ زنگیوں اور ایوبیوں کے دور میں خوشحالی کے ادوار کے بعد منگولوں نے شہر کو تباہ کر دیا (یونیسکو: 1258)۔ 1864/1865 سے عباسی احاطے کے جنوب مشرقی کونے میں ایک عثمانی فوجی چوکی قائم کی گئی؛ پہلے آبادکاروں نے پرانے احاطے کی اینٹوں سے تعمیر کی۔[1][2][3][4]
فنِ تعمیر
مرکزی فصیل 6.2 میٹر موٹی تھی، پتھر کی بنیاد پر کچی اینٹوں سے بنی جس پر پکی اینٹوں کا غلاف تھا۔ اس میں اصل میں 132 برج تھے، جو جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق 25–28 میٹر اور یونیسکو کی تفصیل کے مطابق تقریباً 35 میٹر کے فاصلے پر تھے۔ اس کی لمبائی 4,580 میٹر (انگریزی ویکیپیڈیا)، 4.5 کلومیٹر (جرمن) یا 5 کلومیٹر (یونیسکو) بتائی گئی ہے؛ یہ 1,302 × 1,400 میٹر کے رقبے کو گھیرے ہوئے تھی جس کا سیدھا جنوبی ضلع فرات کے متوازی تھا۔ سامنے 4.5 میٹر کی ایک بیرونی فصیل اور 15.9 میٹر کی ایک خندق تھی۔ شمالی دروازہ، غالباً باب حران، قدیم ترین باقی ماندہ عباسی شہری دروازہ ہے؛ وہاں لوہے کے دروازے کے کھمبے ملے۔
باب بغداد جنوب مشرقی برج کے باہر الگ کھڑا ہے۔ کے اے سی کریسویل کی بتائی ہوئی تاریخ 772 کو 1978 میں جان وارن نے رد کیا، جنہوں نے دسویں/گیارہویں صدی کے حق میں دلائل دیے؛ رابرٹ ہلن برانڈ (1985) بارہویں صدی کے دوسرے نصف کو ممکن سمجھتے ہیں، انگریزی ویکیپیڈیا گیارہویں صدی کے اواخر یا بارہویں صدی بتاتا ہے۔ 12 × 8 میٹر کی یہ عمارت، جو چپٹی کشتی نما محرابوں والا ایک مرکزی کمرہ ہے، ایرانی فنِ تعمیر کی پیروی کرتی ہے۔[1][2][4]
استعمال اور اہمیت
الرافقہ بازنطینی سرحد پر سب سے بڑی اور اہم ترین عباسی قلعہ بندی تھی اور واحد جو باقی رہی۔ چونکہ بغداد کے گول شہر کا کچھ باقی نہیں، اس لیے یہ فصیل واحد باقی ماندہ قابلِ موازنہ مثال ہے؛ یونیسکو اسے ابتدائی عباسی دور کا واحد معلوم محفوظ نعل نما احاطہ قرار دیتا ہے۔ یونیسکو کی عارضی فہرست کا متن فصیلوں کی لکیر کو رقہ-رافقہ کی بکھری یادگاروں، جیسے جامع مسجد اور قصر البنات، کو آپس میں جوڑنے والی قرار دیتا ہے۔[1][2][4]
زمانی خاکہ
- 772–775
المہدی کے دور میں الرافقہ اور اس کی فصیل کی تعمیر (جرمن ویکیپیڈیا: 771–775؛ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق المنصور کا فیصلہ 770–1)۔[1][2][3][4]
- 796–808/809
رقہ/الرافقہ ہارون الرشید کی رہائش گاہ؛ 796–806 میں بیرونی فصیل کا اضافہ (جرمن ویکیپیڈیا)۔[1][2][3][4]
- 884–5
السرخسی فصیلوں کے کچھ حصوں کو کھنڈر بتاتے ہیں۔[1]
- بارہویں صدی کا دوسرا نصف؟
ہلن برانڈ کے مطابق باب بغداد کی ممکنہ تاریخ (وارن: دسویں/گیارہویں صدی؛ انگریزی ویکیپیڈیا: گیارہویں صدی کے اواخر یا بارہویں صدی)۔[1][2]
- 1258
رقہ اور رافقہ منگولوں کے ہاتھوں تباہ (یونیسکو؛ انگریزی ویکیپیڈیا: 1260 کی دہائی کے حملے)۔[1][3][4]
- 1864/1865
احاطے کے جنوب مشرقی کونے میں عثمانی فوجی چوکی؛ جدید قصبے کا آغاز۔[1][2]
- 1970/1980 کی دہائی
نئی تعمیرات کے لیے بیرونی فصیل اور خندق بلڈوزروں سے ہموار۔[1]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2026 تک
انگریزی ویکیپیڈیا (اکتوبر 2026) کے مطابق مرکزی فصیل کا تقریباً 2,660 میٹر حصہ اب بھی کھڑا ہے؛ بیرونی فصیل اور خندق کو 1970 یا 1980 کی دہائی میں بلڈوزروں سے ہموار کر دیا گیا۔ جرمن ویکیپیڈیا مشرق اور شمال میں تقریباً تین کلومیٹر، کم از کم 5 میٹر کی بلندی تک بحال شدہ، اور 74 باقی ماندہ برج بتاتا ہے؛ یونیسکو تقریباً دو تہائی کی بات کرتا ہے۔ باب بغداد کے جنوبی اور مشرقی رخ جزوی طور پر محفوظ ہیں۔ مآخذ خانہ جنگی میں، بشمول 2017 کی رقہ کی جنگ، فصیلوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔[1][2][4]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ الرقہ میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (5)
- Wikipedia (en): Raqqa rev. 1381455915 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Ar-Raqqa rev. 268736036 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): الرقة rev. 76511865 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Tentative List entry 1302 (Raqqa – Rafiqa) · 2026-10-30
- OpenStreetMap: City walls of Rafiqa (ways 492671192, 492671181, 492671183, 492671189, 492671185), Baghdad Gate (way 492671161) · ODbL · 2026-10-30
Kein eigenes Wikidata-Objekt; Identität über OSM (Quelle 5): 'osm' enthält die fünf historic=citywalls-Ways; das Bagdadtor ist separat als way/492671161 (historic=castle, name 'باب بغداد') erfasst und könnte ergänzt werden; weitere OSM-Objekte (Qasr al-Banat way/457526661, Burj ar-Raqqa node/571225316, 'Raqqa wall gate'-Nodes) gehören nicht zur Mauer im engeren Sinn. Keine Koordinaten im Datensatz; falls nötig nur aus der OSM-Liste. Namen: kein eigenes Lemma; de/en/ar beschreibend aus den Artikeltexten und OSM-Namen gebildet. Widersprüche: (1) Baubeginn – en Entscheidung 770/771, Baubeginn 772, Bau bis mindestens 774/775; de 772 bzw. 771–775 (Stadtbild-Abschnitt); ar und UNESCO 772 unter al-Mansur. (2) Länge – en 4580 m, de 4,5 km, UNESCO 5 km. (3) Erhalten – en 2660 m, de ca. 3 km restauriert, UNESCO zwei Drittel; Türme 132 (alle), davon 74 erhalten (de). (4) Turmabstand – de 25–28 m, UNESCO ca. 35 m. (5) Hauptstadtzeit – en 796–809, de/ar 796–808, UNESCO 'über 13 Jahre'. (6) Mongolen – UNESCO/ar 1258, de nach 1258, en 1260er. (7) Nordtor – en ausgegraben und teilrekonstruiert in den 1990ern, de ausgegraben in den 1980ern; de nennt Verkauf des Eisens im 10. Jh. an die Qarmaten, en eine andere Überlieferung zu einem Eisentor (Amorion–Samarra–Raqqa–Aleppo) – beide nicht übernommen. (8) Bagdadtor – Creswell 772, Warren 10./11. Jh., Hillenbrand 2. Hälfte 12. Jh., en spätes 11./12. Jh.; UNESCO nennt es nur 'porte dite de Bagdad' im Südosten. (9) Osmanischer Posten – en 1864, de 1865. (10) Ursprüngliche Mauerhöhe: de ca. 18 m (geschätzt), en 18 m nur für das Nordtor – nicht übernommen. Zustand: keine datierte Zustandsangabe; keine Quelle zu Schäden 2013–2017. UNESCO-Tentativlisteneintrag 1302 (Titel nicht im Paket; Name der Quelle beschreibend); Jahr der Eintragung nicht im Paket. Keine Relation gesetzt (Q-ID von Raqqa nicht im Paket).