
حلب کے مرکزی معبد (سیناگاگ) کا صحن · تصویر: Herzfeld, Ernst · Public domain · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 1908
حلب کا مرکزی کنیسہ
مقامی نام: كنيس حلب المركزي
حلب کا مرکزی معبد (سیناگاگ)، جسے عظیم معبد، یوآب کا معبد، الصفرا یا البندرہ معبد بھی کہا جاتا ہے، یہودیوں کی ایک سابقہ عبادت گاہ ہے جس کا آغاز ممکنہ طور پر پانچویں صدی عیسوی تک جاتا ہے۔ یہ شامی یہودی برادری کا مرکزی معبد تھا اور صدیوں تک اس میں حلب مخطوطہ (Aleppo Codex) رکھا رہا۔ اسے 1947 کے فسادات میں جلا دیا گیا اور 2016 سے اس کی بحالی جاری ہے۔
تاریخ
ڈیوڈ سٹن کی درج کردہ یہودی روایت کے مطابق بادشاہ داؤد کے سپہ سالار یوآب بن ضرویاہ نے اس شہر کو، جو اس وقت ارام صوبہ کہلاتا تھا، فتح کرنے کے بعد اس کی بنیاد رکھی؛ اسی لیے اسے یوآب کا معبد کہا جاتا ہے۔ مغربی حصے کو، جو سب سے پرانا ہے، انگریزی ویکیپیڈیا پانچویں یا چھٹی صدی اور جرمن ویکیپیڈیا چوتھی یا پانچویں صدی کا بتاتا ہے؛ سب سے پرانا باقی ماندہ کتبہ 834 کا ہے۔ انگریزی مضمون کے مطابق 1260 کے منگول حملے کے دوران یہ معبد چھ مقررہ محفوظ پناہ گاہوں میں سے ایک تھا، جبکہ جرمن مضمون کہتا ہے کہ تیرہویں صدی میں منگولوں کے نقصان پہنچانے کے بعد اسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ 1400 میں تیمور کے حملے کے دوران تباہ ہوا اور 1405 اور 1418 کے درمیان، توجہ سے بچنے کے لیے دانستہ چھوٹے پیمانے پر، دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
1516 کی عثمانی فتح کے بعد معاشی ترقی نے اسپین کے یہودیوں کو شام کی طرف کھینچا، اور ایک مشرقی حصہ بنایا گیا جہاں نئے آنے والے اپنی رسوم ادا کر سکتے تھے۔ 1855 میں عمارت کی پھر سے تزئینِ نو ہوئی۔ سیاح پیئترو دیلا والے نے اگست 1626 میں اس کا دورہ کیا، اور عالم ایلکان ناتھن ایڈلر نے 1905 میں اسے بیان کیا۔
1 دسمبر 1947 کے حلب فسادات میں معبد کو لوٹا اور جلا دیا گیا؛ جرمن ویکیپیڈیا کی اطلاع ہے کہ کئی عبادت گزار، جن میں بہت سے بچے تھے، ہلاک ہوئے اور مخطوطے کے اوراق جل گئے۔ عمارت 1990 تک کھنڈر رہی، جب نیویارک کی شامی یہودی برادری نے ایک ازسرِنو تعمیر کے لیے مالی معاونت کی جو 1992 میں مکمل ہوئی۔ حلب میں کوئی یہودی برادری باقی نہ رہنے کی وجہ سے یہ غیر مستعمل رہا اور اسے شامی حکومت کے دائرۂ اختیار میں دے دیا گیا۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
یہ مجموعہ تین حصوں پر مشتمل تھا: ایک مغربی عبادت ہال، ایک مرکزی صحن اور ایک مشرقی حصہ۔ مغربی ہال ستونوں کی قطاروں سے تین راہداریوں میں تقسیم تھا؛ اس کی مغربی دیوار میں مختلف نمونوں کی سات کھڑکیاں تھیں، اور اس کے مرکز میں چھ سیڑھیوں والا لکڑی کا ایک نقش دار تیواہ (منبر) تھا۔ جنوبی سرے پر، یروشلم کی سمت، درمیانی صندوقِ تورات اور صندوقِ موسیٰ تھے؛ مشرقی راہداری مہربند صندوق والا داخلی ہال بن گئی، جس کے اوپر خواتین کی گیلری تھی۔
صحن میں چار ستونوں پر ایک گنبد دار تیواہ تھا۔ مغربی دیوار میں صندوقِ تقیعہ تھا، جہاں شوفار (نرسنگا) پھونکا جاتا تھا، اور نو سیڑھیوں سے پہنچنے والا ایک چبوترہ تھا جو ختنوں کے لیے استعمال ہوتا تھا؛ گرمائی صندوق جنوبی دیوار کے ساتھ تھا اور شمالی جانب ایک بیت مدراش (درس گاہ) تھا۔ مشرقی حصے میں سفاردی یہودیوں کا صندوق اور ایلیاہ کا بند غار تھا، جہاں مخطوطہ رکھا جاتا تھا۔ پورے مجموعے میں سات صندوق (ہیخالوت) تھے، اور ایک چھوٹے چیپل میں گنیزہ (پرانے مقدس اوراق کا ذخیرہ) تھا۔[1][2]
استعمال اور اہمیت
برادری کے مرکزی معبد کے طور پر یہ عمارت اس کی ساخت کی عکاسی کرتی تھی: جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق قدیم سے آباد مستعربی جماعت مغربی حصے میں عبادت کرتی تھی، جبکہ مشرقی حصہ بعد میں آنے والے سفاردیوں کے لیے، جنہیں “فرنگی” کہا جاتا تھا، درس گاہ اور عبادت کی جگہ کے طور پر کام کرتا تھا۔ اچھے موسم میں، خاص طور پر گرمیوں میں، صحن کھلی فضا کی عبادت گاہ کا کام دیتا تھا۔
پانچ سو سال سے زیادہ عرصے تک، جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق چودہویں صدی سے، برادری نے یہاں حلب مخطوطہ رکھا، جسے جرمن مضمون مسوراتی عبرانی بائبل کا قدیم ترین مخطوطہ قرار دیتا ہے۔ فسادات کے بعد اسے اسرائیل لے جایا گیا، جرمن مضمون کے مطابق 1958 میں۔ بعد کے دور کے لیے جرمن ویکیپیڈیا ذکر کرتا ہے کہ 1 جون 2008 کو معبد میں قدیش اور کوہنیم کی دعاؤں کی اجازت دی گئی۔[1][2][3]
نمایاں خصوصیات
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
زیرِ مرمت · 2023 تک روایت کے مطابق منسوب
شامی خانہ جنگی کے دوران 2011 اور 2015 کے درمیان غیر واضح حالات میں عمارت کو پھر نقصان پہنچا۔ سفاردی ہیریٹیج میوزیم نے 2016 میں بحالی شروع کی؛ 2023 کے زلزلوں نے مزید نقصان پہنچایا۔ انگریزی ویکیپیڈیا (جولائی 2026 کی نظرِ ثانی) کے مطابق بحالی جاری ہے۔[1][3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حلب میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (9)
- Wikipedia (en): Central Synagogue of Aleppo rev. 1366944525 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Zentralsynagoge von Aleppo rev. 212322737 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): كنيس حلب المركزي rev. 76496401 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (hi) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Widersprüche: Datierung des Westflügels (5./6. Jh. en/ar vs. 4./5. Jh. de); Ereignisse 1260 (Schutzort laut en/ar vs. Umwandlung in eine Moschee laut de); Ostflügel im 15., 16. oder 19. Jh. (en intern widersprüchlich, de 16. Jh.). Die deutsche Fassung (Revision 2021) bezeichnet die Synagoge noch als genutzt und ist in Teilen veraltet; die Lage innerhalb der UNESCO-Welterbegrenze ist in den Quellen nicht belegt.