
دمشق، شام میں باب شرقی · تصویر: Bernard Gagnon · CC BY-SA 3.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2010
باب شرقی
مقامی نام: باب شرقي
باب شرقی (“مشرقی دروازہ”)، جو رومی زمانے میں سورج کا دروازہ کہلاتا تھا، دمشق کے قدیم شہری دروازوں میں سے ایک اور واحد اصل رومی دروازہ ہے جو اب بھی کھڑا ہے۔ یہ سیدھی گلی (Street Called Straight) کے مشرقی سرے کی نشاندہی کرتا ہے اور پرانے شہر کا واحد دروازہ ہے جو تہرے راستے کے طور پر اپنی اصل شکل برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تاریخ
یہ دروازہ تقریباً 200 عیسوی میں بنایا گیا اور رومیوں نے اسے سورج کے نام وقف کیا۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اس نے اپنی موجودہ شکل شہنشاہ سپتیمیوس سیویروس کے دور میں اختیار کی اور کاراکالا کے دور میں مکمل ہوا، اور بتایا جاتا ہے کہ یہ سورج کے ایک پرانے یونانی دروازے کی جگہ پر ہے؛ دروازے کے اوپر سورج کے قرص کا ایک ابھرا ہوا نقش بحالی کے کام کے نتیجے میں اب موجود نہیں۔
جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق مسلم فتح کے دوران 18 ستمبر 634 کو سپہ سالار خالد بن ولید اسی دروازے سے دمشق میں داخل ہوئے۔ چونکہ تہرا دروازہ دفاع کے لیے موزوں نہیں تھا، اس لیے بارہویں صدی میں نور الدین کے دور میں اسے جزوی طور پر چنوا دیا گیا؛ صرف درمیانی دہانہ رکھا گیا اور اسے خمدار داخلی راستے میں بدل دیا گیا، اور ایک مینار کا اضافہ کیا گیا۔ بڑے اگلے حصے کی 1960 کی دہائی میں بحالی ہوئی۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
دروازے میں قافلوں اور پہیوں والی سواریوں کے لیے ایک بڑا مرکزی راستہ ہے، جس کے دونوں طرف پیدل چلنے والوں کے لیے دو چھوٹے راستے ہیں۔ اس کی آرائش کم سے کم ہے: باہر نکلے ہوئے چپٹے ستون ہی واحد آرائش ہیں۔ ممکن ہے اسے دونوں طرف کے برجوں سے مضبوط کیا گیا ہو۔ 26 میٹر چوڑا یہ دروازہ دیکومانوس پر محیط تھا، جو بعد میں سیدھی گلی بنی، جس میں 14 میٹر کی سواریوں کی سڑک اور دو چھت دار ستون دار برآمدے تھے؛ ان برآمدوں کی باقیات دروازے کے اندر موجود ہیں۔[1][2][3]
استعمال اور اہمیت
سیدھی گلی، جس کا نام بائبل کے مآخذ میں آتا ہے، آج بھی باب شرقی کو مغربی دروازے باب الجابیہ سے ملاتی ہے۔ ارد گرد کا مسیحی محلہ اسی دروازے کے نام سے موسوم ہے؛ قریب ہی آرمینیائی اپوسٹولک کیتھیڈرل آف سینٹ سرکیس، ملکائی الزیتون گرجا اور ذرا شمال میں حنانیاہ کا گھر ہے۔ یونیسکو شہر کی فصیلوں اور دروازوں کو عالمی ورثے “قدیم شہر دمشق” کی کلیدی خصوصیات میں شمار کرتا ہے۔[1][2][3][4]
زمانی خاکہ
- تقریباً 200
رومی سورج کا دروازہ تعمیر (عربی ویکیپیڈیا: سپتیمیوس سیویروس کے دور میں، کاراکالا کے دور میں تکمیل)۔[1][2][3]
- 18 ستمبر 634
خالد بن ولید اس دروازے سے دمشق میں داخل ہوتے ہیں (جرمن ویکیپیڈیا کے مطابق)۔[2]
- بارہویں صدی
نور الدین کے دور میں جزوی طور پر چنوایا گیا؛ درمیانی دہانہ خمدار داخلی راستے میں تبدیل، مینار کا اضافہ۔[1][2]
- 1960 کی دہائی
بڑے اگلے حصے کی بحالی۔[2]
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2009 تک
مآخذ دروازے کی موجودہ حالت کو دستاویزی شکل نہیں دیتے۔ وہ 1960 کی دہائی میں اگلے حصے کی بحالی اور بحالی کے کام کے ذریعے سورج کے نقش کے ضائع ہونے (بغیر تاریخ) کو درج کرتے ہیں۔ یونیسکو کا 2009 کا بیان فصیلوں اور دروازوں کو پرانے شہر کی باقی ماندہ خصوصیات کے طور پر نامزد کرتا ہے۔[2][3][4]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ دمشق میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (14)
- Wikipedia (en): Bab Sharqi rev. 1344544151 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Bab Scharqi rev. 246753287 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): باب شرقي (دمشق) rev. 76641231 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- UNESCO World Heritage Centre: Ancient City of Damascus · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (es) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fa) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (id) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (it) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (tr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- OpenStreetMap · ODbL · 2026-10-30
Widersprüche: (1) Zahl der Tore – en und de: eines von sieben antiken Toren; en zugleich 'eines der acht Tore der Altstadt' – im Text keine Zahl genannt. (2) Bauherr – en/de nur 'um 200'; Septimius Severus/Caracalla und älteres griechisches Tor nur ar ('wie es heißt'). (3) Ein Satz der en-Wikipedia über die Gewährung von Kirchenzugang an Christen hat keinen benannten Urheber – nicht übernommen. Eroberungsdatum 18.09.634 nur de. UNESCO: Tor liegt in der Welterbestätte 'Ancient City of Damascus' (Mauern und Tore als Attribute, Integrity 2009); Einschreibungsjahr steht nicht im Quellenpaket und wurde nicht genannt; die News-Liste nennt die Aufnahme der sechs syrischen Stätten in die Rote Liste am 20.06.2013. Wikidata führt Q3678596 unter P31 (nicht P361); als partOf übernommen, Label nach UNESCO-Seite – bitte prüfen. Koordinaten nicht im Datensatz.