
تصویر: Hassan Bushnaq · CC BY-SA 4.0 · Wikimedia Commons · درج کیا گیا 2009
باب الفرج کلاک ٹاور
مقامی نام: ساعة باب الفرج
باب الفرج کا گھنٹہ گھر حلب کی اہم ترین نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اسے 1898–1899 میں عثمانی والی رائف پاشا کے دور میں تاریخی باب الفرج دروازے کے قریب تعمیر کیا گیا اور یہ قومی کتب خانے کے سامنے واقع ہے۔
تاریخ
ولایتِ حلب کے عثمانی والی کوسے محمد رائف پاشا نے معمار شارل شارتیئے اور انجینئر بکر صدقی کو یہ کام سونپا؛ انگریزی اور جرمن ویکیپیڈیا شارتیئے کو فرانسیسی، اور عربی ویکیپیڈیا آسٹریائی بتاتا ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق سلطان عبد الحمید ثانی نے اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کی۔ عربی ویکیپیڈیا سنگِ بنیاد کو 1898 (1316 ہجری) اور گرد و پیش کے حوضوں سمیت تکمیل کو 1899 (1317 ہجری) کا بتاتا ہے۔ 1,500 عثمانی لیرا کی لاگت کا نصف عطیات سے اور نصف بلدیہ نے ادا کیا۔
انگریزی ویکیپیڈیا افتتاح کا سال 1900 بتاتا ہے، جو سلطان کی تخت نشینی کی 25ویں سالگرہ کا موقع تھا۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ مینار قسطل السلطان کی باقیات پر کھڑا ہے، جو سلیمان کا 940 ہجری میں بنوایا ہوا ایک فوارہ تھا؛ باب الفرج دروازہ خود 1904 میں منہدم کر دیا گیا، اور صرف اس کا جنوبی برج باقی رہا۔[1][2][3]
فنِ تعمیر
مشرقی رنگ کے انداز میں تعمیر شدہ یہ مینار پرانے اسلامی میناروں کی یاد دلاتا ہے، لیکن اس کی بنیاد چوڑی ہے اور اس کے چار یکساں رخ ہیں جن کی دیواریں ہلکی سی اندر کی طرف جھکی ہوئی ہیں۔ پتھر کے کٹہرے والی ایک گرد چھجّا مقرنس پر قائم ہے۔ اس کے اوپر ہر رخ پر ایک گول روزن ہے جس میں گھڑی کا ڈائل ہے؛ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق دو آمنے سامنے کے ڈائل عربی وقت اور دو مغربی وقت دکھاتے تھے۔ سب سے اوپر چھ کھڑکیوں والا ایک بالائی ڈھانچہ اور ایک باد نما ہے۔[1][2][3]
زمانی خاکہ
گیلری
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2025 تک
عربی ویکیپیڈیا کے مطابق جنگ کے دوران نقصان اٹھانے والے اس مینار کو بحال کیا گیا اور پچاس سال سے زیادہ رکے رہنے کے بعد گھڑی نے دوبارہ گھنٹے بجائے، جس میں انگلستان کا بنا ہوا ایک میکانکی نظام نصب کیا گیا۔ کام کے دوران کئی ادوار کی دریافتیں اور مینار کے ساتھ رومی دور کی ہیلان نہر سامنے آئی۔ مآخذ ان کاموں کی کوئی تاریخ نہیں دیتے۔[3]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حلب میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (8)
- Wikipedia (en): Bab al-Faraj Clock Tower rev. 1344700035 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (de): Uhrenturm (Bab al-Faradsch) rev. 269024094 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): ساعة باب الفرج rev. 71310161 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata · CC0 · 2026-10-30
- Wikipedia (fr) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (nl) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ru) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (zh) · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
Widersprüche: (1) Herkunft Chartiers – en/de französisch, ar österreichisch. (2) Fertigstellung 1899 (de, ar) vs. Bau 1898–1899 und Einweihung 1900 (en). (3) Anlass – ar nennt die 25 Jahre seit Thronbesteigung als Zweck des Baus, en als Anlass der Einweihung 1900; nicht nachgerechnet. Zustand/Restaurierung und Wiederinbetriebnahme der Uhr nur ar, undatiert; Kriegsschaden nicht näher beschrieben. Angabe ar, das Uhrwerk stamme vom Hersteller der Big-Ben-Uhr, nicht übernommen (unbelegt, Herstellername fehlt). Kein UNESCO-Bezug im Quellenpaket (die Lage relativ zur Welterbestätte Altstadt Aleppo ist nicht belegt). Keine Relation gesetzt: Wikidata P131 = Q214064 ohne Label im Paket. Deutscher Name nach de-Wikipedia-Lemma/Einleitung; Wikidata-Label de nur 'Uhrenturm'.