حدیقہ السبیل
مقامی نام: حديقة السبيل
السبیل پارک شمال مغربی حلب میں ایک عوامی پارک ہے، جس کا نام ملحقہ محلہ السبیل کے نام پر ہے۔ اسے عثمانی دور میں والی رائف پاشا کے زمانے میں کھولا گیا، اور عربی ویکیپیڈیا کے مطابق یہ عوامی باغ (الحدیقۃ العامۃ) کے بعد شہر کا دوسرا سب سے بڑا پارک ہے۔
تاریخ
یہ پارک عثمانی والی رائف پاشا کے دور میں کھولا گیا۔ انگریزی ویکیپیڈیا اور ویکی ڈیٹا 1895 بتاتے ہیں؛ عربی ویکیپیڈیا ہجری سال 1315 بتاتا ہے، جسے وہ 1896 کے مساوی قرار دیتا ہے۔ اس کا نام ایک سبیل (پینے کے پانی کے فوارے)، سبیل الدراویش (“درویشوں کی سبیل”) سے لیا گیا ہے، جس کی زمین پر اسے بنایا گیا؛ عربی ویکیپیڈیا مزید بتاتا ہے کہ یہ سبیل بارش کے پانی سے بھری جاتی تھی اور اس وقت شہر کے کنارے پر واقع تھی۔
24 فروری 1947 کو حلب کے گورنر امیر مصطفیٰ الشہابی نے مکمل تزئینِ نو کے بعد پارک کو دوبارہ کھولا۔ عربی ویکیپیڈیا کے مطابق اس موقع پر “نیا سبیل باغ” اس کے ساتھ ملا دیا گیا۔[1][2][3]
ترتیب
پارک مستطیل ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا اس کا رقبہ 6 ہیکٹر بتاتا ہے اور اسے شاہ فیصل اسٹریٹ پر رکھتا ہے؛ عربی ویکیپیڈیا 1947 کی توسیع کے بعد 27 دونم بتاتا ہے اور تشرین اسٹریٹ کا نام لیتا ہے، جو شہر کے مرکز کو شمال مغربی دیہی علاقے سے ملاتی ہے۔ عربی ویکیپیڈیا تین دروازوں کا بھی ذکر کرتا ہے – تشرین اسٹریٹ پر، محلہ السبیل کی طرف اور کیفے کے پاس – اور ایک موسیقی کے شامیانے کا، جس کی چھت مقرر کی آواز کو واپس لوٹانے کے لیے بنائی گئی تھی۔[1][2][4]
استعمال اور اہمیت
عربی ویکیپیڈیا کے مطابق پارک میں ایک کیفے اور تقریبات کے لیے استعمال ہونے والا ایک ریستوران ہے، اور ایک چھوٹا جانوروں کا احاطہ جس میں کبھی بندر، مور، خرگوش اور کبوتر تھے۔
پارک کے مرکز میں ایک موسیقی والا فوارہ نصب کیا گیا۔ انگریزی ویکیپیڈیا اسے مئی 2007 کا بتاتا ہے؛ عربی ویکیپیڈیا 2006 بتاتا ہے اور اسے “حلب، اسلامی ثقافت کا دارالحکومت” کے منصوبوں سے جوڑتا ہے، اور چالیس لاکھ شامی پاؤنڈ کی لاگت اور دو کمپیوٹر نظاموں کا ذکر کرتا ہے جو پہلے سے طے شدہ یا براہِ راست ترتیب دی گئی دھنوں کو پمپوں اور والوز کے لیے کنٹرول سگنلز میں بدلتے ہیں۔[1][2]
زمانی خاکہ
- 1895/1896
والی رائف پاشا کے دور میں افتتاح (انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق 1895، عربی ویکیپیڈیا کے مطابق 1315 ہجری/1896)۔[1][2][3]
- 24 فروری 1947
گورنر مصطفیٰ الشہابی کے ہاتھوں مکمل تزئینِ نو کے بعد 24 فروری کو دوبارہ افتتاح۔[1][2]
- 2006/2007
موسیقی والا فوارہ نصب (عربی کے مطابق 2006، انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق مئی 2007)۔[1][2]
دستاویزی حالت
موجودہ حالت دستاویزی نہیں · 2007 تک
دستیاب مآخذ پارک کو صرف 2006/2007 میں فوارے کی تنصیب تک بیان کرتے ہیں۔ اس کی بعد کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔[1][2]
زیارت
یہاں پہنچنا اور ٹھہرنا
محافظہ حلب میں دستاویزی سواری، قیام اور ٹرانسپورٹ خدمات:
قریبی طبی سہولیات
اس مقام سے سیدھا فاصلہ۔ ڈیٹا: OpenStreetMap، بتاریخ 2026-10-30۔ کام کرنے کی حالت کی تصدیق نہیں ہوئی – جانے سے پہلے فون کریں۔
ماخذ (4)
- Wikipedia (en): Al-Sabil Park rev. 1355155523 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikipedia (ar): حديقة السبيل rev. 76682833 · CC BY-SA 4.0 · 2026-10-30
- Wikidata: Q15178895 (Al-Sabil Park) · CC0 1.0 · 2026-10-30
- Wikidata: Q12207350 (حديقة السبيل) · CC0 1.0 · 2026-10-30
Identität: Q15178895 (en, P31 Park, P571 1895, Koordinaten) und Q12207350 (nur arabisches Label „حديقة السبيل“, P31 Q22652, P131 Q41183 Aleppo) beschreiben nach den Quellen denselben Park: gleicher Name, Stadt Aleppo, Viertel al-Sabil, Eröffnung unter Raif Pascha, Benennung nach dem Sabil ad-Darawisch, Wiedereröffnung am 24.02.1947 durch Mustafa al-Schihabi, Fontäne 2006/2007. Die Objekte sollten in Wikidata zusammengeführt werden (Relation hier als sameAs erfasst). Widersprüche: Eröffnung 1895 (en, Wikidata) vs. 1315 H./1896 (ar); Fontäne Mai 2007 (en) vs. 2006 (ar); Fläche 6 ha (en) vs. 27 Dunam nach 1947 (ar) – Werte nicht harmonisiert; Straße König-Faisal-Straße (en) vs. Tischrin-Straße (ar). Deutscher Name ist eine Übertragung (keine deutschsprachige Quelle). Kein Zustandsbericht nach 2007; keine Angaben zu Schäden im Bürgerkrieg in den Quellen.